اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیف الیکشن کمشنر اور دو الیکشن کمیشن ممبران کی تعیناتی میں تاخیر کیخلاف درخواست پر وفاق، وزیر اعظم کو بذریعہ پرنسپل سیکرٹری اور صدر کو بذریعہ سیکرٹری پری ایڈمشن نوٹس جاری کر دیئے۔

 نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محمد اعظم خان نے قومی اسمبلی و سینیٹ میں اپوزیشن لیڈرز عمر ایوب اور شبلی فراز کی درخواست پر سماعت کی۔

عدالت نے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن ارکان کو بھی پری ایڈمشن نوٹس جاری کر دیئے۔

توشہ خانہ ٹوکیس  کی سماعت بار بار ملتوی کرنے پر عدالت سے وجوہات بتانے کی درخواست دائر

پٹیشنرز کی جانب سے سمیر کھوسہ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن ارکان مدت ختم ہونے کے باوجود کام کر رہے ہیں۔

عدالت نے استفسار کیا کہ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن ارکان کی تعیناتیوں کا پراسس شروع ہوا ہے؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ابھی تک پراسس بھی شروع نہیں کیا گیا، پارلیمانی کمیٹی تشکیل ہونی ہے۔

جس پر عدالت نے پری ایڈمشن نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 29 اپریل تک ملتوی کر دی۔
 

مزید :.

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن نوٹس جاری

پڑھیں:

الیکشن کمشن: گوشوارے جمع نہ کرانے پر 10 قومی، 7 سندھ، 7 بلوچستان کے سابق ارکان اسمبلی نااہل

اسلام آباد (آئی این پی)  الیکشن کمشن آف پاکستان نے 2022-23 کے اثاثے اور گوشواروں کی تفصیلات  جمع نہ کرانے پر 10 سابق ارکان اسمبلی کو نااہل قرار دیدیا۔ الیکشن کمشن نے 23-2022  میں اثاثوں کی تفصیلات جمع نہ کرانے سے متعلق کیس کا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قومی اسمبلی کے 10 سابق ارکان کو نااہل قرار دے دیا۔ فیصلے میں سندھ اور بلوچستان اسمبلیوں کے 7، 7 سابق ممبران کو بھی نااہل قرار دیا گیا ہے۔ الیکشن کمشن کے فیصلے میں لکھا ہے کہ سابق ارکان اسمبلی تفصیلات دینے تک عام، ضمنی اور سینٹ الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے، مالی سال 23-2022  کے اثاثوں کی تفصیلات کے فارم بی دینے تک یہ ارکان نااہل رہیں گے۔ سابق ارکان قومی اسمبلی خرم دستگیر خان، محسن نواز رانجھا، محمد عادل، رانا محمد اسحاق خان، کمال الدین اور عصمت اللہ کو نااہل قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سابق ایم این ایز ثمینہ مطلوب، نصیبہ، شمیم آرا پنہور اور روبینہ عرفان بھی نااہل قرار دی گئی ہیں۔ الیکشن کمشن نے گوشواروں کی تفصیلات جمع نہ کرانے پر سندھ اسمبلی کے سابق رکن عدیل احمد، حزب اللہ بھگیو، ارسلان تاج حسین، عارف مصطفی جتوئی، عمران علی شاہ، علی غلام اور طاہرہ کو بھی نااہل قرار دیا ہے۔ بلوچستان اسمبلی کے سابق رکن میر سکندر علی، میر محمد اکبر، سردار یار رند، عبدالرشید اور عبدالواحد صدیقی بھی نااہل قرار دئیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ بلوچستان اسمبلی کے سابق ارکان میر حمال اور بی بی شاہینہ بھی نااہل قرار پائی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • جامعہ ملیہ اسلامیہ تشدد معاملے میں شرجیل امام کی درخواست پر دہلی ہائی کورٹ کی نوٹس جاری
  • ملک بھر میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد بارے تازہ ترین اعدادو شمار جاری
  • صحافی وحید مراد  کے جسمانی ریمانڈ کے خلاف  اپیل پر ایف آئی اے کو نوٹس جاری
  • صحافی وحید مراد کے جسمانی ریمانڈ کے خلاف اپیل پر ایف آئی اے کو نوٹس جاری
  • ملک بھر میں ووٹرز کی کل تعداد کتنی ہوگئی؟الیکشن کمیشن نے تفصیلات جاری کردیں
  • الیکشن کمشن: گوشوارے جمع نہ کرانے پر 10 قومی، 7 سندھ، 7 بلوچستان کے سابق ارکان اسمبلی نااہل
  • گوشوارے جمع نہ کرانے پر 24 اراکین اسمبلی نااہل  
  • الیکشن کمیشن نے اثاثوں کی تفصیلات جمع نہ کرانے پر 24اراکین اسمبلی کو نااہل قرار دے دیا
  • الیکشن کمیشن نے 24 اراکین اسمبلی کو نااہل قرار دے دیا
  • گوشوارے جمع نہ کرانے پر 24 سابق ارکان قومی وصوبائی اسمبلی نااہل قرار