Daily Ausaf:
2025-03-27@03:31:57 GMT

محکمہ موسمیات کی جانب سے پریشان کن خبر آگئی

اشاعت کی تاریخ: 25th, March 2025 GMT

محکمہ موسمیات نے پاکستان میں 62 فیصد تک معمول سے کم بارشوں کے باعث خشک سالی کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔

محکمہ موسمیات نے پاکستان میں یکم ستمبر 2024 سے 21 مارچ 2025 تک معمول سے 62 فیصد تک کم بارشیں ہونے کے باعث ملک میں خشک سالی کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے جاری اعداد وشمار کے مطابق یکم ستمبر 2024 سے 21 مارچ 2025 تک پاکستان بھر میں مجموعی طور پر 40 فیصد کم بارشیں ہوئی ہیں۔سب سے کم بارشیں صوبہ سندھ میں ہوئیں جہاں اسی مدت کے دوران معمول سے 62 فیصد کم بارشیں ریکارڈ کی گئیں۔ اس کے بعد بلوچستان صوبے میں بھی 52 فیصد کم بارش ہوئی۔

صوبہ پنجاب میں معمول سے 38 فیصد، خیبر پختونخوا میں معمول سے 35 فیصد اور آزاد کشمیر میں معمول سے 29 فیصد کم بارشیں ہوئیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق حالیہ بارشوں سے وسطی اور بالائی علاقوں میں خشک سالی کی صورتحال بہتر ہوئی۔ تاہم سندھ اور بلوچستان کے جنوبی حصوں اور پنجاب کے مشرقی میدانی علاقوں میں خشک سالی برقرار ہے۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ تربیلا اور منگلا ڈیموں میں پانی کی شدید قلت ہے جبکہ رواں سال مارچ میں جنوبی علاقوں میں اوسط درجہ حرارت معمول سے 2 سے 3 ڈگری زیادہ ہے۔محکمہ موسمیات نے بتایا کہ کچھ جنوبی علاقوں میں مسلسل خشک دنوں کی تعداد 200 سے بھی تجاوزکر چکی ہے، خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔

.

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: محکمہ موسمیات علاقوں میں معمول سے خشک سالی فیصد کم

پڑھیں:

ملک میں معمول سے کم بارشوں کے باعث پانی کی قلت، خشک سالی کا خطرہ

ملک میں معمول سے کم بارشوں کے باعث پانی کی قلت، خشک سالی کا خطرہ WhatsAppFacebookTwitter 0 25 March, 2025 سب نیوز

اسلام آباد: (آئی پی ایس) ملک میں معمول سے 40 فیصد کم بارشوں کے باعث پانی کی قلت سے خشک سالی کا خطرہ بڑھ گیا، پانی بحران سے فصلیں متاثرہ ہونے کا بھی خدشہ ہے۔
محکمہ موسمیات کے خشک سالی مانیٹرنگ سینٹر نے ایڈوائزری جاری کر دی۔

ایڈوائزری کے مطابق ملک میں حالیہ بارشوں کے باعث ملک کے وسطی اور بالائی علاقوں میں خشک سالی کی صورتحال میں بہتری آئی ہے جبکہ سندھ، بلوچستان کے جنوبی علاقوں اور پنجاب کے میدانی علاقوں میں خشک سالی کی صورتحال بدستور برقرار ہے۔

جاری ایڈوائزری میں بتایا گیا کہ یکم ستمبر 2024 سے 21 مارچ 2025 تک پورے پاکستان میں معمول سے 40 فیصد کم بارشیں ہوئیں، سندھ میں 62 فیصد، بلوچستان 52 فیصد اور پنجاب میں 38 فیصد کم بارش ریکارڈ کی گئی۔

محکمہ موسمیات کی ایڈوائزری کے مطابق دادو، تھرپارکر، ٹھٹھہ، کراچی، بدین، حیدرآباد، عمر کوٹ، گھوٹکی، جیکب آباد، لاڑکانہ، سکھر، خیر پور، سانگھڑ خشک سالی کی زد میں ہیں جبکہ گوادر، کیچ، لسبیلہ، پنجگور، آواران اور چاغی بھی خشک سالی سے متاثر ہیں۔

اس کے علاوہ بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان بھی خشک سالی سے متاثر ہونے والے شہروں میں شامل ہیں۔

ایڈوائزری میں کہا گیا کہ تربیلا اور منگلا ڈیموں میں ذخیرہ شدہ پانی کی شدید قلت ہے، مختلف دریاؤں میں پانی انتہائی نچلی سطح پر بہہ رہا ہے، بارشوں میں کمی کے باعث آئندہ مہینوں میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے خشک سالی کا بھی امکان ہے۔

دوسری جانب ارسا حکام نے بتایا کہ تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح 1402 فٹ پر ہے، ڈیم میں پانی کی آمد 15 ہزار جبکہ اخراج 15 ہزار کیوسک ہے، اس کے علاوہ منگلا ڈیم میں پانی کی سطح 1068 فٹ پر ہے، ڈیم میں پانی کی آمد 17 ہزار جبکہ اخراج 14 ہزار کیوسک ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب: بارشوں کی کمی سے خشک سالی کا الرٹ جاری
  • معمول سے 40 فیصد کم بارشیں، آبی ذخائر خالی ہونے کے قریب،خشک سالی کا الرٹ جاری
  • ملک میں معمول سے کم بارشوں کے باعث پانی کی قلت، خشک سالی کا خطرہ
  • معمول سے کم بارشیں،تربیلا،منگلا ڈیمز میں پانی کی شدید قلت،خشک سالی کا الرٹ جاری
  • معمول سے کم بارشوں کے باعث تربیلا اور منگلا ڈیمز میں پانی کی شدید کمی، خشک سالی کا الرٹ جاری
  • ملک میں 62 فیصد تک معمول سےکم بارشیں ہوئیں، خشک سالی کا الرٹ
  • ملک میں 62 فیصد تک معمول سے کم بارشیں، خشک سالی کا الرٹ جاری
  • 62 فیصد تک معمول سے کم بارشیں، ملک میں خشک سالی کا الرٹ جاری کردیا گیا
  • کل سے ملک کے کن علاقوں میں بارشیں اور برفباری متوقع ہے؟ محکمہ موسمیات نے بتا دیا