پوپ فرانسس اسپتال سے صحت یاب ہو کر ویٹیکن واپس پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 24th, March 2025 GMT
VATICAN CITY:
کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس، پانچ ہفتے اسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد ویٹیکن واپس پہنچ گئے ہیں۔
88 سالہ پوپ فرانسس نے روم کے جیمیلی اسپتال میں دوہرے نمونیا کے خلاف کامیاب علاج کے بعد اسپتال چھوڑا۔
انہوں نے 14 فروری کے بعد پہلی بار عوامی سطح پر شرکت کی، جب اسپتال سے واپسی کے دوران انہوں نے ہاتھ ہلا کر عقیدت مندوں اور خیرخواہوں کا شکریہ ادا کیا۔
مزید پڑھیں: شدید بیماری میں مبتلا پوپ فرانسس کی پہلی تصویر اسپتال سے جاری
پوپ فرانسس کو پولیس کے سخت حفاظتی حصار میں ویٹیکن منتقل کیا گیا۔ تاہم، ان کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ عمر رسیدہ پوپ کو مکمل صحت یابی میں ابھی کافی وقت لگے گا۔
طبی ماہرین نے انہیں ویٹیکن میں مزید دو ماہ آرام کرنے کی تجویز دی ہے اور اس دوران انہیں بڑی یا دباؤ والی ملاقاتوں سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، جس کے باعث یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ پوپ فرانسس آنے والے مہینوں میں کتنی سرگرمیوں میں حصہ لیں گے۔
مزید پڑھیں: پوپ فرانسس کی علالت سے ویٹیکن میں غیر یقینی صورتحال، اہم تقریبات معطل
ویٹیکن سٹی کے ترجمان نے کہا کہ پوپ فرانسس فی الحال مکمل آرام کریں گے، اور مذہبی تقاریب میں ان کی شرکت کے بارے میں بعد میں فیصلہ کیا جائے گا۔ اسپتال سے واپسی کے وقت پوپ فرانسس وہیل چیئر پر سوار تھے، اور ان کے سفید مذہبی لبادے کے نیچے دونوں بازوؤں پر پٹیاں واضح نظر آ رہی تھیں۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پوپ فرانسس اسپتال سے
پڑھیں:
چین امریکہ تعلقات کی ترقی ایک نئے اہم موڑ پر پہنچ چکی ہے، چینی وزیر اعظم
چین امریکہ تعلقات کی ترقی ایک نئے اہم موڑ پر پہنچ چکی ہے، چینی وزیر اعظم WhatsAppFacebookTwitter 0 24 March, 2025 سب نیوز
بیجنگ : چینی وزیر اعظم لی چھیانگ نے بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں چائنا ڈیولپمنٹ فورم 2025 کے سالانہ اجلاس میں شریک امریکی سینیٹر سٹیو ڈیانس اور متعدد امریکی کاروباری افراد سے ملاقات کی۔پیر کے روزلی چھیانگ نے کہا کہ اس وقت چین امریکہ تعلقات کی ترقی ایک نئے اہم موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ اقتصادی اور تجارتی تعاون چین امریکہ تعلقات کی ایک اہم بنیاد ہے۔
گزشتہ چند دہائیوں کے دوران چین امریکہ اقتصادی اور تجارتی تعاون کے ٹھوس نتائج برآمد ہوئے ہیں جو دونوں فریقوں کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہیں اور ان کی قدر کی جانی چاہیے۔ چین امریکہ تعلقات کو جتنی زیادہ مشکلات کا سامنا ہے، اتنا ہی اہم ہے کہ چین اور امریکہ کے درمیان مجموعی اقتصادی و تجارتی تعاون کا تحفظ کیا جائے ،اسے ترقی کی جائے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں استحکام کو برقرار رکھا جائے۔ تجارتی جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہوتا۔ کسی بھی ملک کی ترقی اور خوشحالی محصولات عائد کرنے سے حاصل نہیں کی جا سکتی بلکہ صرف کھلے پن اور تعاون سے حاصل کی جاسکتی ہے۔ ہمیں باہمی تعاون کو توسیع دینی چاہئے ۔
چین ہمیشہ امریکہ سمیت دنیا بھر کے کاروباری اداروں کو چین میں ترقیاتی مواقع کا اشتراک کرنے کے لئے خوش آمدید کہتا ہے، اور کاروباری اداروں کے معقول مطالبات کو پورا کرے گا، گھریلو اور غیر ملکی مالی اعانت والے کاروباری اداروں کے ساتھ مساوی سلوک کرے گا، اور ایک اچھا کاروباری ماحول پیدا کرنا جاری رکھے گا.امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ دہائیوں میں چین میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں۔ امریکی کمپنیاں چین کی ترقی میں فعال طور پر حصہ لے رہی ہیں ، اور چین میں سرمایہ کاری جاری رکھنے، مکالمے اور تعاون کو مضبوط بنانے، باہمی فائدے اور جیت جیت کی بنیاد پر دو طرفہ تعلقات کی پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لئے تیار ہیں۔