حماقتوں سے نکل کر حکمتِ علیؑ کے سائے میں آنا ہوگا، علامہ جواد نقوی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, March 2025 GMT
تحریک بیداری کے سربراہ کا کہنا تھا کہ حضرت علیؑ کی پوری زندگی عدل و انصاف، تقویٰ، شجاعت اور اسلامی اقدار کی پاسداری کا عملی نمونہ تھی۔ وہ علم و حکمت کے سرچشمہ، فصاحت و بلاغت کے امام اور ایثار و قربانی کی مجسم تصویر تھے۔ انہوں نے ریاستی امور میں عدل و مساوات کی مثال قائم کی اور روحانی، اخلاقی و سماجی اقدار کو بلند ترین سطح پر پہنچایا۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک بیداری امتِ مصطفیٰ کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی نے یومِ علیؑ کی مناسبت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ شہادت تاریخِ اسلام کا وہ المناک واقعہ ہے جس نے امت کو ایک عظیم رہنما اور عدل و ہدایت کے ستون سے محروم کر دیا۔ انہوں نے امامِ عالی مقامؑ کی سیرت کو ایک مکمل ضابطۂ حیات قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی پوری زندگی عدل و انصاف، تقویٰ، شجاعت اور اسلامی اقدار کی پاسداری کا عملی نمونہ تھی۔ وہ علم و حکمت کے سرچشمہ، فصاحت و بلاغت کے امام اور ایثار و قربانی کی مجسم تصویر تھے۔ انہوں نے ریاستی امور میں عدل و مساوات کی مثال قائم کی اور روحانی، اخلاقی و سماجی اقدار کو بلند ترین سطح پر پہنچایا۔ علامہ سید جواد نقوی نے اس بات پر زور دیا کہ امتِ مسلمہ کی زبوں حالی مسلسل حماقتوں اور غلط فیصلوں کا نتیجہ ہے، تو کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ ہم حکمتِ علیؑ کے سائے میں آئیں، تاکہ بے امنی، بے چارگی اور بے حسی کا خاتمہ ہو اور ایک عادل و باضمیر معاشرہ تشکیل دیا جا سکے.
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
استعماری مظالم سے نجات کیلئے شجاعت حیدریؑ کو اپنانا ہوگا، متحدہ علماء محاذ
ایک بیان میں متحدہ علماء محاذ کے رہنماؤں نے کہا کہ مسلم حکمران شجاعت علیؑ کو اپنا کر باوقار قوموں کی صف میں کھڑے ہوسکتے ہیں، حب اہل بیتؑ وحدت امت کا مظہر ہے، مسلم امہ استعماری قوتوں کے خلاف حب اہل بیتؑ کے نکتہ پر متحد و بیدار ہوجائے، اہل بیتؑ سے محبت جز و ایمان و عداوت نفاق کی علامت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ متحدہ علماء محاذ پاکستان کے زیر اہتمام امیر المومنین، فاتح خیبر باب العلم سیدنا مولیٰ علی المرتضیؑ کے یوم شہادت پر بانی سیکریٹری جنرل مولانا محمدا مین انصاری کی میزبانی، مرکزی بانی صدر حجۃ الاسلام علامہ مرزا یوسف حسین کی زیر صدارت مرکزی سکریٹریٹ گلشن اقبال میں منعقدہ سیمینار میں شریک مختلف مکاتب فکر کے جید علماء مشائخ مرکزی چیئرمین علامہ عبدالخالق فریدی سلفی، علامہ پروفیسر ڈاکٹر سید شمیل احمد قادری حنبلی، شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد داؤد، جمعیت علمائے پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ سید محمد عقیل انجم قادری، مولانا منظرالحق تھانوی و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطین و کشمیر کی آزادی اور استعماری مظالم سے نجات کیلئے جرأت و شجاعت حیدریؑ کو اپنانا ہوگا، مسلم حکمران شجاعت علیؑ کو اپنا کر باوقار قوموں کی صف میں کھڑے ہوسکتے ہیں، حب اہل بیتؑ وحدت امت کا مظہر ہے، مسلم امہ استعماری قوتوں کے خلاف حب اہل بیتؑ کے نکتہ پر متحد و بیدار ہوجائے، اہل بیتؑ سے محبت جز و ایمان و عداوت نفاق کی علامت ہے، اہل بیت اطہارؑ، ازواج مطہرات و بنات رسولؐ، خلفائے راشدین و اصحاب رسولؐ جیسی مقدس شخصیات کی پاکیزہ سیرت و کردار مومن و مومنات کیلئے مشعل راہ و ذریعہ نجات ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فلسطین و کشمیرکی آزادی اور مظالم سے نجات کیلئے جرأت و افکار اہل بیتؑ کو اپنانا ہوگا، حماس و حزب اللہ کے قائدین جیسے شہدائے مقاومت فلسطین میں آزادی القدس کیلئے غاصب، ظالم، قابض لاکھوں فلسطینیوں کا قاتل اسرائیل و امریکہ کے خلاف فاتح خیبر سیدنا مولیٰ علیؑ اور سرداران نوجوانان جنت نواسہ رسولؐ حسنین کریمینؑ و دیگر شہدائے کربلا کے افکار و کردار کو اجاگر کرکے ہمیشہ کیلئے زندہ و جاوید، سرخرو و امر ہوگئے، اسرائیل خیبر میں اپنی ذلت آمیز شکست کو یاد رکھے، حالیہ جنگ بندی و امن معاہدہ استعمار کی شکست و شہدائے القدس کی فتح ہے۔ سیمینار سے علامہ سید سجاد شبیر رضوی، علامہ مرتضیٰ خان رحمانی، علامہ مفتی عبدالغفور اشرفی، علامہ محمد حسن شریفی، مولانا مفتی وجیہہ الدین، مولانا قاری محمد اقبال رحیمی، مولانا قاری سید طاہر جمال تھانوی، مولانا حافظ محمد ابراہیم چترالی، نوجوان موٹیویشنل اسپیکر فضائل علی رانا، مولانا پیر حافظ گل نواز خان ترک و دیگر نے خطاب کیا۔ سیمینار میں معروف نعت و منقبت خواں خواجہ پیر سید معاذ علی نظامی، شاہ حسین الدین رحمانی، ایاز قادری نے مولیٰ علیؑ کی شان اقدس اور اہل بیت اطہارؑ کی بارگاہ میں منقبت و نذرانہ عقیدت پیش کیا۔