طورخم سرحد پر امیگریشن کے سسٹم میں خرابی، افغانستان پیدل آمدورفت معطل
اشاعت کی تاریخ: 21st, March 2025 GMT
امیگریشن ذرائع کے مطابق گزشتہ روز 25 دن بعد طورخم سرحدی گزرگاہ کو تجارت کے لیے کھول دیا گیا تھا تاہم امیگریشن سسٹم میں خرابی کے باعث پیدل آمدورفت گزشتہ روز بحال نہ ہوسکی تھی۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم سرحد پر امیگریشن کمپیوٹرائزڈ سسٹم خراب ہوگیا۔ امیگریشن ذرائع کے مطابق گزشتہ روز 25 دن بعد طورخم سرحدی گزرگاہ کو تجارت کے لیے کھول دیا گیا تھا تاہم امیگریشن سسٹم میں خرابی کے باعث پیدل آمدورفت گزشتہ روز بحال نہ ہوسکی تھی۔ امیگریشن ذرائع کا کہنا ہے کہ امیگریشن سسٹم کی مرمت کیلئے انجینئرز طلب کر لیے گئے ہیں تاہم خرابی کی وجہ سے افغانستان پیدل آمدورفت آج بھی معطل رہے گی۔ امیگریشن ذرائع کے مطابق سسٹم کی مرمت جلد مکمل کیے جانے کا امکان ہے۔
.ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امیگریشن ذرائع پیدل آمدورفت گزشتہ روز
پڑھیں:
پاکستان نے افغانستان کے ساتھ طورخم کی سرحدی گزرگاہ کھول دی
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 19 مارچ 2025ء) پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا کو افغانستان کے صوبہ ننگرہار سے ملانے والی طورخم کراسنگ کو تجارتی گاڑیوں کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق یہ بات ایک بارڈر سکیورٹی اہلکار نے کہی ہے۔ اس اہلکار کا مزید کہنا تھا، ''پیدل افراد کو جمعہ کے روز سرحد پار کرنے کی اجازت ہو گی۔
‘‘پاکستانی اور افغان فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ
پاکستان اور افغانستان کے مابین کشیدگی: طورخم سرحد پھر بند
افغان حکام کی جانب سے مبینہ طور پر سرحدی گزرگاہ کے قریب تعمیرات شروع کرنے پر ہونے والے تنازعے کے بعد 21 فروری کو پاکستان نے اس سرحد کو بند کر دیا تھا۔
(جاری ہے)
پاکستان کا دعویٰ ہے کہ افغانستان نے سرحد کے قریب تعمیرات کے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔
دونوں اطراف کے عہدیداروں اور قبائلی عمائدین کے درمیان ہونے والی بات چیت کے نتیجے میں اب اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ 15 اپریل تک ان تعمیرات پر کام روک دیا جائے گا، جب اس حوالے سے ایک اور اجلاس منعقد ہونا ہے۔
اہم تجارتی گزرگاہیہ سرحد کھلی ہونے کی صورت میں روزانہ سینکڑوں گاڑیاں اور ہزاروں پیدل چلنے والے افراد، جن میں طبی امداد حاصل کرنے والے افغان بھی شامل ہوتے ہیں، یہ سرحد پار کرتے ہیں۔
اس کراسنگ کو ماضی میں بھی اسی طرح کے حالات میں متعدد بار بند کیا جا چکا ہے۔ دہشت گرد گروپوں کو پناہ دینے کے الزامات پر کشیدگیپاکستان اور افغانستان کے تعلقات کشیدہ ہیں کیونکہ دونوں فریق ایک دوسرے پر دہشت گرد گروہوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے اسلام آباد نے دعویٰ کیا تھا کہ بلوچستان میں ٹرین ہائی جیک کرنے والے دہشت گرد افغانستان میں منصوبہ سازوں کے ساتھ رابطے میں تھے۔
پاکستان دنیا کی سب سے بڑی افغان پناہ گزین آبادی کی میزبانی کرتا ہے، جن میں سے بہت سے لوگ 1979 میں سوویت حملے یا اس کے بعد جنگی صورتحال سے فرار ہو کر اس ملک آئے تھے۔
پاکستان کی طرف سے غیر قانونی پناہ گزینوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کے نتیجے میں 2023 سے اب تک آٹھ لاکھ سے زیادہ افغان باشندوں کو ملک بدر کیا جا چکا ہے۔
ا ب ا/ا ا (ڈی پی اے، روئٹرز)