پاکستان اور افغانستان کے حکام کی فلیگ میٹنگ میں دونوں ممالک کے مشترکہ جرگہ کے فیصلوں کی توثیق کردی گئی اور طورخم تجارتی گزرگاہ کارگو کو گاڑیوں کی آمدورفت کے لئے آج  بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ دونوں ممالک کے حکام کی فلیگ میٹنگ کی جگہ تبدیل کردی گئی، فلیگ میٹنگ طورخم سرحد پاکستانی حدود میں منعقد ہونی تھی، تاہم افغان حکام کی اصرار پر فلیگ میٹنگ کی جگہ تبدیل کی گئی اور پاکستانی وفد فلیگ میٹنگ کے لئے افغان کسٹم اسٹیشن چلا گیا۔

سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ فلیگ میٹنگ طورخم سرحد کے متصل افغان کسٹم ہاوس میں ہوا، پاکستانی وفد کی قیادت کمانڈنٹ خیبر رائفل کرنل عاصم کیانی نے کی۔

فلیگ میٹنگ  کے دوران مشترکہ جرگہ کے فیصلوں کی توثیق کردی گئی،  طورخم تجارتی گزرگاہ کارگو گاڑیوں کی آمدورفت کے لئے آج  بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
 
سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ  آج دوپہر 4 بجے تک کارگو گاڑیوں کی باقاعدہ آمدورفت شروع کی جائے گی،
پیدل آمدورفت دو تین دن کے لئے موخر ہوگی،  طورخم امیگریشن سسٹم کو افغان فورسز کی فائرنگ سے نقصان پہنچا ہے۔

سیکورٹی ذرائع کے مطابق امیگریشن سسٹم کی مرمت تک افغانستان پیدل آمدورفت معطل ہوگی، صرف افغان مریضوں کو ہنگامی بنیادوں پر پاکستان امد ورفت کی اجازت دی گئی۔

سرحد کی بندش کے باعث روزانہ کی بنیاد پر پاکستانی خزانہ کو 3 ملین ڈالرز کا نقصان ہو رہا تھا۔ گزشتہ 25 دنوں میں تجارتی گزرگاہ کی بندش سے 75 ملین ڈالرز کا نقصان ہوا ہے۔

.

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: حکام کی کے لئے

پڑھیں:

افغان حکام کی طرف سے جرگہ فیصلہ پر عمل میں تاخیر، طورخم گزرگاہ نہ کھولی جا سکی

پشاور:

پاکستان اور افغان مشترکہ جرگہ نے طورخم تجارتی گزرگاہ کھلوانے کے فیصلے پر افغان حکام کی طرف سے عمل درآمد میں تاخیر کے باعث 18 مارچ بروز منگل بھی تجارتی گزرگاہ 25  ویں روز بھی ہر قسم کی آمد و رفت کیلیے بند رہی۔

پاکستانی جرگہ کے سربراہ سید جواد حسین کاظمی نے کہا ہے کہ گزشتہ روز پاکستان اور افغان جرگہ کے درمیان فیصلہ کن نشست کا انعقاد ہوا جس میں افغان فورسز کی متنازعہ تعمیرات بند کرنے اور طورخم تجارتی گزرگاہ ہر قسم آمد و رفت کیلیے کھولنے پر اتفاق کیا گیا۔

تاہم طورخم سرحد کی بحالی فیصلے پر عمل درآمد کے لیے افغان جرگہ نے افغان حکام سے حتمی رائے لینے کے لیے گزشتہ شام تک مہلت مانگی۔ جرگہ سربراہ کے مطابق 20 گھنٹے گزرنے کے باوجود افغان جرگہ نے انہیں افغان حکام کے حتمی فیصلے سے آگاہ نہیں کیا اور اس طورخم سرحد کھلوانے میں تاخیر ہورہی ہے۔

جرگہ سربراہ سید جواد حسین کاظمی نے کہا کہ وہ اب بھی افغان جرگہ کے رابطے کے انتظار میں ہیں۔  واضح رہے کہ 24 روز قبل افغان فورسز پاکستانی حدود میں تعمیرات کر رہی تھیں جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی اور پاک افغان سرحدی گزرگاہ ہر قسم آمدورفت کےلیے بند کردی گئی۔

کسٹم ذرائع کے مطابق تجارتی گزرگاہ بند ہونے سے ملک کی خزانہ کو ٹیکس کی صورت میں اوسطا 3 میلین ڈالرز کا نقصان ہو رہا ہے اور گزشتہ 24 دنوں میں 72 ملین ڈالرز کا نقصان ہوچکا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر، پاک افغان مشترکہ جرگے کے مذاکرات کامیاب، 25روز بعد طورخم بارڈر کھول دیا گیا
  • پاک افغان حکام کی فلیگ میٹنگ ختم، 26 روز بعد طور خم بارڈر آج کھولنے کا فیصلہ
  • پاک افغان طورخم تجارتی گزرگاہ کو 25 روز بعد کھولنے کا فیصلہ
  • پاک افغان طورخم تجارتی گزرگاہ 25 روز بند رہنے کے بعد کھولنے کا فیصلہ
  • خیبر، 25 روز بعد طورخم تجارتی گزرگاہ کی بحالی کا فیصلہ
  • افغان حکام کی طرف سے جرگہ فیصلہ پر عمل میں تاخیر، بارڈر بند
  • افغان حکام کی طرف سے جرگہ فیصلہ پر عمل میں تاخیر، طورخم گزرگاہ نہ کھولی جا سکی
  • پاک افغان جرگے کا مستقل فائربندی اور طور خم بارڈر کھولنے پر اتفاق
  • 24 روز سے طورخم بارڈر بند، پاکستانی جرگہ مذاکرات کے لیے طورخم پہنچ گیا