Juraat:
2025-03-17@04:17:56 GMT

سکتہ

اشاعت کی تاریخ: 15th, March 2025 GMT

سکتہ

ب نقاب /ایم آر ملک

11مارچ بھی ہم پر بھاری گزرا ، ماہ ِصیام رحمت و برکات کا مژدہ لیے کیوں رحمت کی گھڑیاں، اندوہ گیں ٹھہری ہیں؟
مبارک مہینے کے لمحات، موت کے جام کیوں چھلکانے لگے۔۔۔؟
بولان ، کیوں موت کے اندھیروں میں ڈوبتا جا رہا ہے؟
کوئٹہ کا ڈان ہوٹل ،مشرق ہوٹل مہمان نوازی کی روایات کے امیں ،جو پورے مُلک کے باسیوں کے لئے خوشیاں بانٹا کرتے ، جہاں زیست کے بیش بہا سامان اور تفریحِ قلب و نظر کے بے شمار امکان تھے۔۔۔۔ کوئٹہ ، وطن کے دور دراز علاقوں کے رہنے والے جہاں آ کر اپنی زندگی سنوارتے اور خود کو نکھارتے تھے۔۔۔بولان جہاں، غریب سے غریب بھی ”امیرانہ سوچ” سے جیتا اور قہقہے لگاتا تھا۔ آج وہاں ہر طرف لاشیں ہی لاشیں بکھری پڑی ہیں۔۔۔ وہ صوبہ جہاں زندگی کے نغمے گونجتے ، آج موت کی ارزانی پر، ہر طرف بین ہی بین سنائی دے رہے ہیں۔
جعفر ایکپریس کا اندوہناک سانحہ ،زندگی کی تمام تر رنگینیاں اور پُرکیف رونقیں ماتم آگیں ماحول میں ڈھل گئیں ۔
وہ صوبہ جہاں قائد پاکستان نے زندگی کے آخری ایام گزارے ، عرصے سے قتل و غارت کی سازشوں سے کرچی کرچی ہے،پنجاب سے عازم ِ سفر ہونے والوں کی روز لاشیں گرتی ہیں ، مگر جس کثرت و تواتر سے گزشتہ روز ”مرگ انبوہ” کا ”تماشا” ہوا ، اور جس بڑی تعداد میں لوگ مرے ، بولان کی آنکھوں نے کبھی اس کثرت میں اکٹھے اتنی لاشوں کو نہ دیکھا تھا، نہ کبھی سُنا تھا۔بولان ہی کیا، پاکستان کہ دہشت گردی کے بڑے بڑے سانحات جھیل چکا ہے، پھر بھی، اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی ہلاکتیں پاکستان کی آنکھ نے کبھی نہیں دیکھیں۔
کیا کہا جائے؟ کیا لکھا جائے۔۔۔؟
موت کے ننگے ناچ نے زندگی کو اور زیادہ بے اعتبار کر دیا ہے۔۔۔ حقیقت میں ”قیامتِ صغریٰ” برپا ہو گئی ہے، لوگ اس طرح مر رہے ہیں جیسے ”بے جان” ہونے کا مقابلہ ہو رہا ہے۔۔۔۔ جیسے لوگ، ایک دوسرے کو باور کروا رہے ہوں کہ چھوڑو،زندگی کی گہما گہمی میں کچھ نہیں رکھا، آؤ مرگِ انبوہ کا جشن منائیں۔۔۔
اب جینے کی باتیں رہنے دو، اب جی کر کیا کر لیں گے
اک موت کا دھندہ باقی ہے، جب چاہیں گے نپٹا لیں گے
یہ تیرا کفن، وہ میرا کفن، یہ تیری لحد وہ میری ہے۔۔۔
تابوت پر تابوت رکھا جارہا ہے ہر ایک غمگیں ہے، ہر کوئی رو رہا ہے، کوئی شقی القلب ہی ہو گا، جس کے کلیجے کو ہاتھ نہ پڑا ہوا!
بلوچستان ،پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ، اس پاکستان کا جس کو دُنیا کی چھٹی ایٹمی طاقت ہونے کا ”گھمنڈ” ہے، جو ایشیا کا ٹائیگر کہلانا چاہتا ہے، جہاں کے حکمرانوں کی دُنیا بھر کے ممالک میں جائیدادیں ہیں، جہاں کے سیاست دانوں کی اربوں ڈالرز کی ہنڈی کی کہانیاں اور بیگمات کے جوئے میں یکبارگی 60لاکھ پونڈ ہارنے کے قصے، دُنیا بھر میں پھیلے ہیں۔۔۔
حیف کہ اک غیر جمہوری وزیر اعلیٰ نے شہداء کیلیے حرفِ عقیدت فضائوں میں بکھیرے ۔۔۔
سیاست دان، تجزیہ کار، اپنی اپنی ہانک رہے ہیں، کوئی کچھ کہہ رہا ہے، کوئی کچھ اور، لکھنے والوں کے قلم خشک ہوتے جا رہے ہیں عجب ہاہا کار مچی ہے، کسی کی انگلی کسی کی طرف ہے تو اس کی کسی اور کی طرف۔۔۔
عوام و خواص، حکمرانوں کے لتے لے رہے ہیں، اُن کو، ان کے وعدے اور دعوے یاد کرا رہے ہیں۔۔۔ پوچھ رہے ہیں،امن و مان قائم کرنے کے بلند و بانگ دعوے کیا ہوئے؟”۔۔۔
لوگ پوچھ رہے ہیں ”سائیں! تم تو عوام کے نعرے لگا لگا کر بوڑھے ہو گئے، تمہاری پارٹی کی حکمرانی میں یوں کیوں ہوا ۔۔۔؟
حکمران، اپنی طرف اٹھی انگلیوں کو اپنے سے پہلے حکمرانوں کی طرف گھمانے کی فکر میں ہیں۔۔۔ سبھی ایک دوسرے کو گھورنے میں لگے ہیں، حکمرانوں سے مایوس عوام، ایک بار پھر، مرنے والوں کی ہلاکت پر نوحہ کناں ؟
ان شہادتوں پر غم گیں بھی ہوں اور ایک دوسرے کی طرف اُٹھی انگلیوں پر حیران بھی ہوں، نم آنکھوں سے، ان بے بصیرت لوگوں کو دیکھ رہا ہوں اور سوچ رہا ہوں، اس طوفاں انگیز و ہلاکت خیز ماحول نے عقلیں اس قدرکند کر دی ہیں کہ ایک دوسرے کی طرف انگلیاں اٹھانے والے، اوپر عرش والے کی طرف کیوں نہیں دیکھتے۔۔۔؟
انہیں کیا ہوا ہے کہ یہ قادرِ مطلق کو بالکل بھول گئے ہیں۔۔۔ لوگ اس کثرت سے مرنے لگے۔۔۔؟ لاشوں کا کاروبار کرنے والے اپنے ناپاک ارادوں کے ساتھ دندناتے پھر رہے ہیں ۔۔۔؟
عوام حکمرانوں کی طرف دیکھنے کی بجائے اس کی طرف دیکھیں جو مسبب الاسباب ہے اور جس کے ہاتھ میں سب کے دِل ہیں، جومالک ہے دو مشرق کا اور مالک ہے دو مغرب کا ۔۔۔ اے کاش! اے کاش۔۔۔ اے کاش۔۔۔!
بولان کے کہساروں میں بکھرے لاشوں کی جگہ ان بے حس، بے بصیرت زندہ لاشوں کو بھی ٹھکانہ مل جائے کہ جوزندگی کے مقاصد کو،زندگی دینے والے کے تعلق کو اور زندہ رہ جانے والوں کے حقوق کو نظر انداز کر کے عیاشی کرتے اور گھومتے پھررہے ہیں، اے کاش! اے کاش! اے کاش۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

.

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: ایک دوسرے رہے ہیں رہا ہے کی طرف اے کاش

پڑھیں:

جہاں پی ٹی آئی کا فسادی ٹولہ ہو وہاں قومی اتحاد مشکل ہے، عظمیٰ بخاری

لاہور:

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ جہاں پی ٹی آئی کا فسادی ٹولہ ہو وہاں قومی اتحاد مشکل ہے۔

پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں متحد ہونا ہوگا، مگر جہاں پر تحریک انصاف کا فسادی ٹولہ بیٹھا ہو، جو مذمت تک نہ کرے اور اپنی فوج پر چڑھ دوڑے، وہاں متحد ہونا بھی مشکل ہے۔

عظمیٰ بخاری نے پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کل قومی اسمبلی کے اجلاس میں پی ٹی آئی کی طرف سے ایک مذمت تک کا لفظ نہیں بولا گیا، اسمبلی میں موجود پی ٹی آئی کے لوگوں کو بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے خلاف بولنا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک نیا نیشنل ایکشن پلان بنانا ہوگا، وزیراعظم نے اس معاملے کو بخوبی ٹیک اپ کیا ہے۔ خیبرپختونخوا میں ایک دھماکہ ہوا ہے، اللہ سب کی حفاظت کرے۔  

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ایک شخص کو بچانے کی جنگ کے بجائے ہمیں ملک بچانے کی بات کرنی چاہیے۔ ملک سب کا ہے، تحریک انصاف کو اپنے قیدی کے بجائے خیبرپختونخوا کے عوام کا خیال رکھنا ہوگا۔ امن و امان برقرار رکھنا صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے، اور وہ اس سے نہیں بھاگ سکتے۔  

انہوں نے مزید کہا کہ مجرموں کو حکومت کے ساتھ نہیں بٹھا سکتے، البتہ پی ٹی آئی کے باقی لوگ حکومت کے ساتھ بات کر سکتے ہیں۔ خیبرپختونخوا کی حکومت افغانستان میں وفود بھجوانے میں مصروف ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بوہری فوڈ اسٹریٹ جہاں ذائقہ اور روایتی کھانوں کا ملاپ ہوتا ہے
  • آج کا دن کیسا رہے گا؟
  • اچھی زندگی
  • شارع نور جہاں پولیس کے اہلکاروں کو ٹھیلے سے مفت میں خربوزہ لینا مہنگا پڑ گیا
  • اللہ تعالی پر توکل اور بھروسہ
  • فیصلہ ہو چکا ہے کہ دہشت گرد جہاں بھی ہوں گے انکو نہیں چھوڑا جائے گا، وزیر ریلوے
  • دعا کی طاقت کیسے ہماری زندگیوں کو بدل سکتی ہے؟
  • جہاں پی ٹی آئی کا فسادی ٹولہ ہو وہاں قومی اتحاد مشکل ہے، عظمیٰ بخاری
  • بنگلہ دیش میں ریپ کا نشانہ بننے والی آٹھ سالہ بچی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی