موجودہ ایوان اگر جعلی ہے تو کیا چیئرمین قائمہ کمیٹی غیر قانونی نہیں؟ ایاز صادق
اشاعت کی تاریخ: 14th, March 2025 GMT
اسلام آباد:
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی والے اس ایوان کو غیر قانونی کہتے ہیں، ایوان اگر جعلی ہے تو کیا چیئرمین قائمہ کمیٹی غیر قانونی نہیں؟۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ مجھے حوالدار کہا جاتا ہے تو مجھے اس پہ فخر ہے، دو طرح کے حوالدار ہوتے ہیں ایک چور پکڑتا ہے اور دوسرا شہید ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمر ایوب نے الزام لگایا کہ انہیں بات کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی، یہ بات کہہ کر انہوں نے سوا گھنٹے تقریر کی، کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟ پھر ان کا الزام ہے کہ ان کے سوال نہیں لیے جاتے، میں اس حوالے سے ریکارڈ پیش کر سکتا ہوں۔ وہ ایوان میں نہیں آتے، ان کے توجہ دلاؤ نوٹس ڈراپ ہو جاتے ہیں۔
ایاز صادق نے کہا کہ اب میں رولز کے مطابق کام کروں گا، دو حکومتی اراکین کے بعد ایک اپوزیشن رکن کو بولنے کی اجازت دوں گا۔ تالی دو ہاتھ سے بجتی ہے، جب آپ ہاؤس میں ہوں گے نہیں اور احتجاج کرتے رہیں گے تو آپ کو موقع کم ہی ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ اب میں ان کی قائم کردہ روایات کو بھی دیکھوں گا اور اس پہ چلیں گے، جس طرح یہ پروڈکشن آرڈر جاری کرتے تھے یا سب جیل بناتے تھے اسی کو دہرائیں گے۔
ایاز صادق نے کہا کہ ہم اب بھی پر امید ہیں کہ مذاکرات ہوں لیکن مذاکرات کسی ایک شخصیت کے لیے نہ ہوں، حکومت تو جواب دینا چاہتی تھی اپوزیشن کو حکم ہوا کہ مذاکرات ختم کرنے ہیں اور جیسی ملاقات وہ چاہتے ہیں وہ بتا بھی نہیں سکتے۔
اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے ضروری ہے کہ شجر کاری کی جائے، جتنے درخت کاٹے گئے ہیں ضروری ہے کہ نئے پودے لگائے جائیں۔ وزیر اعظم، وزارت داخلہ اور سی ڈی اے کا اچھا اقدام ہے۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایاز صادق نے کہا کہ
پڑھیں:
چیئرمین پی اے سی نے غیر سنجیدہ رویہ اپنانے پر وزارت قانون کے نمائندہ کو اجلاس سے نکال دیا
اسلام آباد( اصغر چوہدری )پبلک اکاونٹس کمیٹی کے چیئرمین جنید اکبر خان نے غیر سنجیدہ رویہ اپنانے اور تیاری کرکے نہ آنے والے وزارت قانون کے نمائندہ کو اجلاس سے نکال دیا ۔ اگلے اجلاس میں سیکریٹری قانون کو طلب کر لیا گیا ۔۔ پی اے سی میں انکشاف ہوا کہ لاہور میں اسٹیٹ لائف انشورنس کی زمین پر تجاوزات کرتے ہوئے قبرستان بھی بنا دیا گیا ۔۔ اسٹیٹ لائف انشورنس میں ضابطے کے خلاف ایف سی کو سکیورٹی کا براہ راست کنٹریکٹ دینے بھی انکشاف ہوا۔ بدھ کو پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین جنید اکبر خان کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں مختلف محکموں میں مالی بے ضابطگیوں، غیر قانونی بھرتیوں اور سرکاری زمینوں پر تجاوزات کے معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے 5 سال سے 2 کروڑ 75 لاکھ روپے کے ای ڈی ایف کے استعمال نہ ہونے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ چیئرمین پی اے سی نے سوال اٹھایا کہ یہ فنڈ کیوں استعمال نہیں کیا گیا، اس کے تحت طلباء کی تربیت ہونی تھی۔ کمیٹی نے معاملے کی انکوائری کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔ اجلاس میں ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے قرض پر 89 ارب 72 کروڑ روپے کے اضافی سود کے معاملے پر بھی غور کیا گیا۔ کمیٹی نے وزارت تجارت کو ہدایت دی کہ وزارت خزانہ کے ساتھ مل کر ایک ماہ میں اس مسئلے کا حل نکالا جائے۔ اجلاس میں 2023-24 میں مارکیٹ سروے کے بغیر 6 رائس ملز کے پلانٹس کی فروخت کا بھی انکشاف ہوا، جس سے قومی خزانے کو 1 کروڑ 83 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ کمیٹی کے رکن حسنین طارق نے سوال کیا کہ فروخت سے قبل مارکیٹ ویلیوایشن کیوں نہیں کرائی گئی؟ آڈٹ حکام نے بھی موقف اختیار کیا کہ پرانی مشینری کے باوجود اس کی مارکیٹ ویلیوایشن ضروری تھی۔ کمیٹی نے آڈٹ پیرا پر دوبارہ ڈی اے سی کرنے کی ہدایت کر دی۔ پاکستان ری انشورنس کمپنی میں سکیورٹی گارڈز کی غیر قانونی بھرتیوں سے 1 کروڑ 46 لاکھ روپے کے نقصان کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ آڈٹ بریف کے مطابق کمپنی نے سکیورٹی گارڈز کے لیے 30 ملین روپے کے اشتہارات دیے، لیکن بعد میں بغیر کسی ضابطے کے ایف سی کو کنٹریکٹ دے دیا گیا۔ کمیٹی نے معاملے کی مکمل انکوائری کر کے رپورٹ طلب کر لی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اسٹیٹ لائف انشورنس کے پلاٹس پر غیر قانونی تجاوزات قائم ہیں، جن میں سے لاہور کے ایک پلاٹ پر تو قبرستان بھی بنا دیا گیا ہے۔ اسٹیٹ لائف حکام نے دعویٰ کیا کہ تجاوزات ہٹانے کی کوششوں کے دوران انہیں سنگین دھمکیاں بھی دی گئیں۔ کمیٹی نے تجاوزات کا معاملہ حل کرنے کے لیے متبادل زمین کے آپشن پر غور کرنے کی ہدایت کی۔ کمیٹی نے اسٹیٹ لائف انشورنس میں غیر قانونی تعیناتیوں کا بھی نوٹس لیا، جس سے 2 کروڑ 79 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق محمود عالم کو ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ تعینات کر دیا گیا تھا۔ چیئرمین پی اے سی نے وزارت قانون کے نمائندے کی غیر سنجیدگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں اجلاس سے نکال دیا اور اگلے اجلاس میں سیکریٹری قانون و انصاف کو طلب کر لیا۔ آخر میں کورم پورا نہ ہونے کے باعث پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔
Post Views: 1