چینی وزیراعظم لی کیانگ آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ کریں گے
اشاعت کی تاریخ: 13th, March 2025 GMT
چینی وزیر اعظم لی کیانگ آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ کریں گے، جس کے دوران چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبوں کا جائزہ لیا جائے گا۔
سفارتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ چینی وزیراعظم اپریل میں پاکستان کے دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری اور اعلیٰ عسکری حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں:
سفارتی ذرائع کے مطابق چینی وزیر اعظم کے دورہ پاکستان کے دوران چین پاکستان اقتصادی راہداری یعنی سی پیک سمیت دیگر اہم منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
دورے کے دوران چینی وزیراعظم کی جانب سے اہم معاہدوں پر دستخط متوقع ہیں، سفارتی ذرائع نے عندیہ دیا کہ ایم ایل ون ریلوے منصوبے پر پیش رفت اور دیگر اقدامات پر بھی بات کی جائے گی۔
مزید پڑھیں:
چینی وزیر اعظم لی کیانگ گزشتہ برس اکتوبر میں اسلام آباد میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان حکومت کے اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان آئے تھے، لی کیانگ 11 برسوں میں اسلام آباد کا دورہ کرنے والے پہلے چینی وزیر اعظم تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام اباد ایم ایل ون ریلوے پاکستان چین پاکستان اقتصادی راہداری چینی وزیر اعظم دورہ سی پیک لی کیانگ.ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام اباد ایم ایل ون ریلوے پاکستان چین پاکستان اقتصادی راہداری چینی وزیر اعظم سی پیک لی کیانگ چینی وزیر اعظم لی کیانگ کے دوران
پڑھیں:
وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ازبکستان کے سفیرعلیشیر تختائیف کی ملاقات
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے ازبکستان کے سفیر جناب علیشیر تختائیف کی آج وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات ہوئی۔ وزیر اعظم نے ازبک سفیر کے ذریعے صدر عزت مآب شوکت مرزیوئیف کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور گزشتہ ماہ تاشقند کے دورے کے دوران ان کے اور پاکستانی وفد کی مہمان نوازی کے لیے تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے اپنے دورے کے دوران دونوں ممالک کے مابین دوطرفہ تعلقات پر ہونے والی شاندار پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا، جس میں ایک اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک تعاون کونسل کی تشکیل کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں میں متعدد اہم معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط بھی شامل ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ تاشقند سے واپسی پر، انہوں نے متعلقہ شعبوں کے وزراء کو ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ دورے کے دوران ہوئے فیصلوں پر فوری عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے خاص طور پر کان کنی اور معدنیات، ریلوے (بشمول ٹرانس افغان ریلوے پروجیکٹ)، SEZs، بینکنگ، سیاحت، ثقافت اور قابل تجدید توانائی میں ازبکستان کے ساتھ تعاون بڑھانے میں پاکستان کی دلچسپی پر روشنی ڈالی. وزیراعظم نے دوطرفہ تجارت کو 2 بلین ڈالر تک بڑھانے کے لیے کام کرنے کے لیے ایک روڈ میپ وضع کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا، جس پر دورے کے دوران دونوں رہنماؤں کے مابین اتفاق کیا گیا تھا۔ ازبک سفیر نے وزیر اعظم کی نیک خواہشات پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ صدر شوکت مرزیوئیف پاکستان کے ساتھ ازبکستان کے تعلقات کو مضبوط بنانے اور دونوں ممالک کے درمیان بہترین سیاسی تعلقات کو باہمی طور پر مفید اقتصادی تعلقات میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ صدر مرزیوئف نے رواں برس کے آخر میں پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی وزیر اعظم کی دعوت قبول کر لی ہے، جس کے لیے دونوں فریقین کے درمیان تاریخیں پر اتفاق کیا جار ہا ہے۔