کراچی: فائرنگ کےمختلف واقعات میں ایک جاں بحق، ایک زخمی
اشاعت کی تاریخ: 1st, March 2025 GMT
کراچی کے علاقے بلدیہ ہزارہ چوک کے قریب موٹر سائیکل سوار نامعلوم ملزمان کی اندھا دھند فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا جبکہ کورنگی میں ڈاکوؤں کی فائرنگ سے ایک شخص شدید زخمی ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق بلدیہ آفریدی کالونی ہزارہ چوک کے قریب موٹر سائیکل سوار نامعلوم ملزمان کی اندھا دھند فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا جس کی لاش ضابطے کی کارروائی کے لیے سول اسپتال لیجائی گئی۔
ایس ایچ او مدینہ کالونی قمر زمان نے بتایا کہ مقتول کی شناخت 35 سالہ جواد ولد اکرم کے نام سے کی گئی جو کہ موٹر سائیکل پر جا رہا تھا کہ عقب سے 2 موٹر سائیکلوں پر آنے والے ملزمان نے اسے فائرنگ کا نشانہ بنایا جسے 6 سے زائد گولیاں لگی تھیں جبکہ پولیس کو جائے وقوعہ سے 30 بور پستول کے 10 سے زائد خول ملے ہیں۔
مقتول سعید آباد بسم اللہ چوک کا رہائشی تھا جبکہ فوری طور پر فائرنگ کی وجہ کا تعین نہیں ہوسکا۔ اس حوالے سے پولیس ورثا سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور ان سے ملنے والی معلومات کے بعد ہی کچھ کہا جا سکتا ہے۔
تاہم ابتدائی تحقیقات میں شبہ ہے کہ واقعہ ذاتی دشمنی کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے۔ پولیس واقعہ کی مزید تحقیقات کر رہی ہے۔
دریں اثنا کورنگی 4 نمبر سیکٹر 50 اے میں فائرنگ کے واقعہ میں ایک شخص شدید زخمی ہوگیا جسے چھیپا کے رضا کاروں نے تشویشناک حالت میں جناح اسپتال منتقل کیا۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ مضروب کی شناخت 35 سالہ عمران کے نام سے کی گئی جسے پیٹ پر گولی لگی تھی جبکہ زمان ٹاؤن پولیس کے مطابق واقعہ ڈکیتی کے دوران موٹر سائیکل سوار ڈاکوؤں کی فائرنگ سے پیش آیا ہے جس کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہے ۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: موٹر سائیکل فائرنگ سے ایک شخص
پڑھیں:
اسلام آباد ، یونیورسٹی بس اور موٹر سائیکل میں تصادم ، خاتون جاں بحق
فیض آباد میں بدھ کو سرکاری یونیورسٹی کی بس اور موٹر سائیکل میں تصادم کے نتیجے میں ایک خاتون کی جان لے لی۔ یہ حادثہ، جو I-9 پولیس اسٹیشن کے دائرہ اختیار میں ہوا، اس میں ایک شخص زخمی بھی ہوا۔
حکام کے مطابق بس کا تعلق بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد (IIUI) سے تھا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ حادثہ شدید تھا، جس کے باعث خاتون موقع پر ہی دم توڑ گئی، جب کہ زخمی شخص کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔
واقعے کے بعد ڈرائیور موقع سے فرار ہوگیا۔ قانون نافذ کرنے والے حکام بشمول ٹریفک پولیس اور مقامی پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور وہ یونیورسٹی انتظامیہ سے رابطے میں ہیں۔حکام نے یقین دلایا کہ ڈرائیور کی گرفتاری اور قانونی کارروائی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔