Express News:
2025-02-28@21:38:33 GMT

این اے 213 عمر کوٹ ضمنی انتخاب، 70 نکاتی ضابطہ اخلاق جاری

اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT

اسلام آباد:

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی اسمبلی کے حلقے این اے-123 عمر کورٹ میں ضمنی انتخاب کے لیے 70 نکاتی ضابطہ اخلاق جاری کر دیا۔

الیکشن کمشین سے جاری ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ سیاسی جماعتیں، امیدوار اور ایجنٹس ضابطہ اخلاق پر عمل کے پابند ہوں گے، تشدد، ہتھیاروں کی نمائش اور فرقہ وارانہ تقاریر پر پابندی ہوگی۔

ضابطہ اخلاق میں بتایا گیا ہے کہ خواتین اور خواجہ سرا کے انتخابی عمل میں شرکت پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔

انتخاب میں حصہ لینے والے امیدواروں کو کہا گیا ہے کہ انتخابی اخراجات کے لیے الگ بینک اکاؤنٹ کھولنا لازمی ہوگا، وزیر اعظم، وزرائے اعلیٰ اور دیگر اعلیٰ حکام انتخابی مہم میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق پولنگ اسٹیشن کے 400 میٹر کے اندر انتخابی مہم پر مکمل پابندی ہوگی اور انتخابی مواد کی تخریب کاری کو بدعنوانی تصور کیا جائے گا۔

مزید کہا گیا کہ سرکاری وسائل کے استعمال اور ترقیاتی منصوبوں کے اعلان پر پابندی ہوگی، مانیٹرنگ ٹیمیں خلاف ورزیوں پر نظر رکھیں گی۔

واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے نواب یوسف تالپور کی وفات پر قومی اسمبلی کی مذکورہ نشست خالی ہوگئی ہے، نواب یوسف تالپور 2024 کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے-213 ضلع عمرکوٹ سے منتخب ہوئے تھے۔

نواب یوسف تالپور متعدد بار رکن قومی اسمبلی رہے اور بے نظیر بھٹو کی کابینہ میں بھی وفاقی وزیر رہ چکے تھے۔

.

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: قومی اسمبلی ضابطہ اخلاق

پڑھیں:

مصطفیٰ عامر قتل کیس: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ نے آئی جی سندھ کو طلب کرلیا

مصطفیٰ عامر قتل کیس میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ نے آئی جی سندھ کو طلب کرلیا۔

 کمیٹی ممبر عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ کہا جا رہا ہے 22 سال کا لڑکا خود یہ سب دھندا کر رہا تھا، سمجھ سے باہر ہے کہ بغیر کسی سپورٹ کے 22 سالہ لڑکا سب کچھ کیسے کر رہا تھا۔

آغا رفیع اللّٰہ نے کہا کہ مصطفیٰ عامر کیس میں 500 سے زائد لیپ ٹاپ اِدھر اُدھر کیے گئے، کیس سے متعلق بہت سے کردار ملک سے فرار ہوگئے اور اب بھی ہو رہے ہیں۔

مصطفیٰ قتل کے ملزم ارمغان پر 8 سال سے ویڈ منگوا کر نشہ کرنے کا الزام

کراچی کی انسداد منشیات عدالت میں ملزم ارمغان کے خلاف منشیات کے دو کیسز میں چالان پیش کر دیا گیا۔

ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ اس کیس پر کراچی میں ذیلی کمیٹی بنائی ہے، بہتر ہوگا کہ جے آئی ٹی بنا دی جائے۔

ممبر کمیٹی نبیل گبول نے کہا کہ جے آئی ٹی کا قیام کمیٹی کا اختیار نہیں ہے۔

قائمہ کمیٹی داخلہ نے وزارت داخلہ کو بذریعہ ایف آئی اے اور اے این ایف تحقیقات کرنے کی ہدایت کردی۔

کیس کا پس منظر:۔

واضح رہے کہ مصطفیٰ عامر کراچی کے علاقے ڈیفنس سے 6 جنوری کو لاپتہ ہوگیا تھا، جس کی لاش 14 فروری  کو حب سے ملی تھی، مصطفیٰ کو اس کے بچپن کے دوستوں نے تشدد کرنے کے بعد  گاڑی میں بٹھا کر جلایا تھا، اب تک کی تحقیقات کے مطابق ارمغان اور شیراز نے گاڑی کو آگ لگائی۔

متعلقہ مضامین

  • اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سےرمضان المبارک کےدوران ضابطہ اخلاق جاری
  • مصطفیٰ عامر قتل کیس: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ نے آئی جی سندھ کو طلب کرلیا
  • قومی اسمبلی میں وزیراعظم سمیت دیگر اراکین کی حاضری کی رپورٹ جاری
  • قومی اسمبلی کی نشست کیلئے ضمنی انتخاب کا شیڈول جاری
  • این اے 213 عمر کوٹ میں ضمنی انتخاب کا شیڈول جاری
  • نئے وفاقی وزرا ، وزراء مملکت اور مشیروں کا انتخاب قابلیت او ر صلاحیتوں کی بنیاد پر کیا گیا ہے،وزیراعظم
  • ترانوے اجلاس، 212 گھنٹے کام، قومی اسمبلی کے پہلے سال کی کارکردگی رپورٹ جاری
  • قومی اسمبلی کا پہلا سال، پلڈاٹ نے کارکردگی رپورٹ جاری کردی
  • وزارت داخلہ کو دی گئی ضمنی گرانٹ کی قومی اسمبلی سے منظوری نہ لینے کا انکشاف