آسٹریلوی کپتان کا افغان بیٹر کیخلاف اسپورٹس مین اسپرٹ کا مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT
آسٹریلیوی کپتان اسٹیون اسمتھ نے افغانستان کے خلاف میچ کے 47 ویں اوور میں نور احمد کے خلاف رن آؤٹ کی اپیل واپس لے کر اسپورٹس مین شپ کا مظاہرہ کر دیا۔
لاہور میں جاری چیمپئنز ٹرافی کے نویں میچ میں آسٹریلوی کپتان کی جانب سے اس وقت اسپورٹس مین شپ کا مظاہرہ کیا گیا جب وکٹ کیپر جوش انگلس نے اوور پکارے جانے سے قبل نور احمد کے کریز چھوڑنے پر بیلز اڑائیں۔
نور احمد کی جانب سے کریز چھوڑنے کا مقصد رن لینا نہیں تھا بلکہ غلطی سے بال کو ڈیڈ سمجھ کر وہ ساتھی بیٹر عظمت اللہ عمر زئی سے بات کرنے بیچ پچ پر چلے گئے تھے، جبکہ بال لائیو تھی اور امپائر نے ’اوور‘ نہیں کہا تھا۔
ری پلے میں دِکھایا گیا کہ نور کریز سے باہر ہیں لیکن اسٹیون اسمتھ نے فوران امپائرز کی جانب اشارہ کر کے اپیل پر عمل کرنے منع کیا۔
اس متعلق اصول واضح ہے کہ اگرچہ افغانستان کا مقصد رن لینا نہیں تھا لیکن جب تک بال ڈیڈ نہ ہوجائے کریز سے باہر ہونے پر اگر وکٹ پر گیند مار دی جائے تو رن آؤٹ قرار دیا جاتا ہے۔ اگر اسٹیون اسمتھ اپیل واپس نہیں لیتے تو نور کو آؤٹ قرار دے دیا جاتا۔
واضح رہے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے افغانستان کی ٹیم مقررہ 50 اوورز میں 273 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔
ہدف کے تعاقب میں آسٹریلیا نے 12.
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان کی ہار کی وجہ کیا چیز بنی؟ سابق کپتان نے بتا دیا
سابق ٹیسٹ کپتان معین خان میں کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کو اب نئے خون کی ضرورت ہے،پاکستان کرکٹ ٹیم کی شکستوں پر غور کرنا ہوگا، میرٹ کا فقدان اور محنت میں کمی چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان کی ہار کی وجہ بنی، وزیر اعظم کرکٹ کے معاملات کا نوٹس لیں۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے معین خان نے کہا کہ اگر محنت نہ کریں جیت نہیں سکتے۔ جو ٹیم محنت کر کے آتی ہے وہی جیتتی ہے۔ چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان کی شکست کی وجوہات میں بہت سی باتیں ہیں۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کی سلیکشن بھی درست انداز میں نئی ہوئی ،جن پلیئرز کو موقع ملا وہ توقعات پر پورا نہیں اترے۔
سابق کپتان کا کہنا تھا کہ جب عالمی کپ ٹی 20 ہارے تو چیئرمین پی سی بی سمیت سب نے سرجری کی بات کی لیکن کچھ نہ ہوا۔ اس وقت بھی سرجری نہیں ہوئی، ہمیں مشکل فیصلے لینے پڑیں گے۔ اس وقت میرٹ کا فقدان ہے، تعلقات پر کرکٹ ہورہی ہے۔ پی سی بی میں میں کرکٹرز کی جگہ نان ٹیکنیکل لوگ بیٹھے ہوئے ہیں،جب محنت اور سنجیدہ کوشش نہیں کریں گے تو مشکلات سامنے آئیں گی۔
معین خان نے کہا کہ پاکستان ٹیم کو مضبوط بنانے کے لیے تلخ فیصلے کرنا ہوں گے، میرٹ پر فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ کرکٹ میں بدقسمتی سے فیصلے پہلے ہو جاتے ہیں،پی سی بی میں ملازمت پہلے دے دی جاتی ہے اور اشتہار بعد میں آتا ہے،پی سی بی کا چیئرمین بھی ناظم نامزد ہوتا ہے ۔ گورننگ بورڈ نامزد چیئرمین کو ہی منتخب کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی سی بی میں ایسے لوگ ہونے چاہیے جن کو کرکٹ کا تجربہ ہو ،من پسند اور مرضی کے لوگوں کو لانے کا سلسلہ بند کرنا ہوگا۔وزیراعظم کو کرکٹ میں ریفارم پر توجہ دینی ہوگی۔ پی ایس ایل میں کارکردگی کی بنیاد پر ون ڈے ٹیم بنا لی جاتی ہے، بی پی ایل میں کارکردگی بنیاد پر قومی ٹیم میں کھلاڑی شامل کر لیا گیا،اب کرکٹ میں نئے خون کو موقع ملنا چاہیے،ریجن کی سطح پر کرکٹ کو تقویت دینا ہوگی۔
بابر اعظم کے متعلق بات کرتے ہوئے معین خان نے کہا کہ بابرعظم اچھا کھلاڑی ہے اسے خود کو تبدیل کرنا ہوگا۔ بابر اعظم کو اپنی سوچ اور رویے میں تبدیلی لانا ہوگی، بابر اعظم کو ویرات کوہلی کی طرح خود کو تبدیل کرنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم میں اب سینئرز کو خیرباد کہنا ہوگا، قومی ٹیم کو نئے خون کی ضرورت ہے۔ چیئر مین پی سی بھی معاملات کا نوٹس لیں، پی سی بی سے بڑی بڑی تنخواہ لینے والے اس کے خلاف ہی باتیں کررہے ہیں۔