پولیس کا کہنا ہے کہ احتجاجی ریلی سے امن و امان کی صورتحال متاثر ہونیکا خدشہ تھا، جسکے باعث مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان اسمبلی کے سامنے احتجاجی ریلی میں شریک مظاہرین کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق سردار بہادر خان یونیورسٹی کوئٹہ کی اسامیوں کیلئے ٹیسٹ میں پاس ہونے والے امیدواروں کی جانب سے میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ سے بلوچستان اسمبلی تک احتجاجی ریلی نکالی جانی تھی، تاہم پولیس نے ریلی نکلنے سے پہلے ہی مظاہرین پر دھاوا بول دیا۔ پولیس نے اس موقع پر ایس بی کے شارٹ لسٹڈ امیدواروں کی کمیٹی کے صدر اللہ نور اور دیگر اراکین کو گرفتار کرلیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ریلی کے باعث کوئٹہ میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔ جس کے پیش نظر یہ اقدام اٹھایا گیا۔ دوسری جانب بلوچستان اسمبلی کے باہر دھرنا دینے والے مظاہرین نے رہنماؤں کی گرفتاری کے بعد یہ مطالبہ بھی کیا کہ گرفتار رہنماؤں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ مظاہرین نے اعلان کیا ہے کہ اگر گرفتار افراد کو جلد رہا نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کر دیا جائے گا۔

.

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: احتجاجی ریلی گرفتار کر

پڑھیں:

کوئٹہ، بلوچستان کی امن و امان سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد

اجلاس میں وزارت داخلہ نے شاہراہوں کی بندش اور سیکیورٹی صورتحال سے متعلق بریفنگ دی۔ اس موقع پر مختلف علاقوں میں دفعہ 144 کے نفاذ سمیت دیگر اہم فیصلے ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت آج چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں امن و امان اور قومی شاہراہوں کی غیرقانونی بندش سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند کے مطابق اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ زاہد سلیم نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یکم جنوری سے اب تک 76 مرتبہ قومی شاہراہوں کی بندش کے واقعات رونماء ہوئے ہیں۔ شاہراہوں کی بندش سے عوام کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے تسلسل سے شاہراہوں کی بندش کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی روک تھام کیلئے موثر حکمت عملی مرتب کرنے کا حکم دیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایسے تمام اضلاع جہاں روڑز کی بندش تاحال جاری ہے، وہاں فوری طور پر شاہراہیں بحال کی جائیں۔ بصورت دیگر متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی ہوگی۔ وزیراعلیٰ نے صوبے میں ایک بار پھر دفعہ 144 نافذ کرنے کے احکامات جاری کئے تاکہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو روکا جا سکے۔

ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند نے بتایا کہ احتجاج کرنا ہر شہری کا حق ہے، لیکن قومی شاہراہوں کو بلاک کرنا کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انکا کہنا ہے کہ بعض عناصر خواتین اور بچوں کو ڈھال بنا کر مسافروں کو تنگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جو ناقابل قبول ہے اور اس قسم کی سرگرمیوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ترجمان کے مطابق اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ زاہد سلیم، آئی جی پولیس بلوچستان معظم جاہ انصاری سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے مختلف اقدامات پر غور کیا گیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے ہدایت کی کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے شاہراہوں کی غیرقانونی بندش کی روک تھام کے لئے مؤثر حکمت عملی اپنائیں اور عوام کی مشکلات کا فوری ازالہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، بلوچستان کی امن و امان سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد
  • کراچی، بوٹ بیسن میں کار سواروں پر تشدد میں ملوث شاہ زین مری بلوچستان فرار، 2 گارڈ گرفتار
  • کراچی: شہری کو تشدد کا نشانہ بنانیوالے سکیورٹی گارڈز گرفتار، مرکزی ملزم کوئٹہ فرار
  • مغربی ہواؤں کا سسٹم بلوچستان میں موجود
  • کوئٹہ، ایس بی کے یونیورسٹی کے پاس شدہ امیدواروں کا عارضی بھرتی کیخلاف احتجاج
  • بلوچستان میں قومی شاہراہوں کی بندش کے باعث ایئر لائنز نے کرایے دگنے کر دیے
  • نوشکی میں گولڈن ڈیزرٹ جیپ ریلی کا انعقاد
  • پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے سابق رکن اسمبلی کو گرفتارکرنے سے روک دیا
  • بارشیں برسانے والا سسٹم بلوچستان میں موجود