بیجنگ :چین کے قومی محکمہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ، 2024 قومی اقتصادی اور سماجی ترقی شماریاتی اعلامیے کے مطابق، 2024 میں چین کی جی ڈی پی 134٫9084 ٹریلین یوآن تک جا پہنچی جو سال2023 کے مقابلے میں 5.0 فیصد زیادہ ہے اور معاشی و سماجی ترقی کے اہم اہداف کو کامیابی سے پورا کیا گیا ہے۔ 2024 میں ، چین کی صنعت نے معاشی ترقی میں 34.

1فیصد حصہ فراہم کیا ،جو سال بہ سال 12.7 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہے۔

سروس انڈسٹری کا معاشی ترقی میں حصہ 56.2فیصد تک پہنچ گیا۔ ملک کی اندورنی طلب نے معاشی ترقی میں 69.7 فیصد حصہ ڈالا، جو معاشی ترقی کی مرکزی محرک قوت بن گئی ہے۔ اشیاء اور خدمات کی برآمدات نے معاشی ترقی میں 30.3 فیصد حصہ ڈالا، جو 2023 کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ 2024 میں ملک بھر میں بے روزگاری کی شرح 5.1 فیصد رہی، جو سال بہ سال 0.1 فیصد پوائنٹس کم ہوئی، اور آبادی کی فی کس ڈسپوزیبل آمدنی میں سال بہ سال 5.1 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ 2024 کے اختتام تک ملک کی بنیادی پنشن انشورنس 1.07 ارب افراد کا احاطہ کرتی ہے جبکہ بنیادی میڈیکل انشورنس 1.33 ارب افراد کا احاطہ کرتی ہے۔ 2024 میں چین کے کاروباری ماحول میں بہتری کا رجحان قائم رہا، اور ہر روز اوسطاً 24،000 نئے کاروباری ادارے قائم ہوئے۔ملک کا اعلیٰ معیار کے کھلےپن کا نیا منظرنامہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 20.12 ملین غیر ملکی چین کی ویزا فری پالیسی کی بدولت چین آئے، جو 1.1 گنا اضافہ تھا۔ 2024 میں نامزد سائز سے بالا ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ انڈسٹری میں ورچوئل رئیلٹی آلات ، چارجنگ پائلز اور نئی توانائی کی گاڑیوں جیسی نئی مصنوعات کی پیداوار میں بالترتیب 59.4فیصد، 58.7فیصد اور 38.7فیصد کا اضافہ ہوا۔

چین میں سائنسی اور تکنیکی جدت طرازی کی صلاحیت مسلسل بڑھ رہی ہے، اور 2024 میں چین کی ریسرچ فنڈنگ میں2023 کے مقابلے میں 10.5 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

اپسوس کا تازہ کنزیومر کنفیڈنس سروے، پاکستان کی معاشی صورت حال کیا ہے؟

اسلام آباد:

آئی پی ایس او ایس (اپسوس) کے تازہ ترین کنزیومر کنفیڈنس سروے 2025 میں پاکستان کے حوالے سے مثبت معاشی اشاریے کے پیش نظر کی معاشی سمت کو درست قرار دے دی گیا ہے۔

اپسوس کی سروے رپورٹ کے مطابق ملک کی اقتصادی سمت کے بارے میں عوام کے پرامید ہونے کی شرح 6 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، ملک کی مجموعی سمت کے حوالے سے عوام کی پرامید رہنے کی شرح 2023 کے مقابلے میں تیزی سے بڑھ رہی ہے اور 31 فیصد عوام کا اعتماد ہے کہ ملک صحیح سمت پر گامزن ہے۔

سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پراعتمادی کی یہ شرح اگست 2024 میں 11 فیصد جبکہ ستمبر 2023 میں سب سے کم 2 فیصد تھی۔

سروے کے نتائج میں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت چاروں صوبوں کے ساتھ ساتھ شہری اور دیہی علاقوں میں معاشی بہتری دیکھی گئی ہے اور رواں سال عوام میں معاشی خدشات کے حوالے سے نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق معاشی خدشات میں کمی کے حوالے سے 2025 حوصلہ افزا  رہا ہے، افراط زر کی شرح میں 18 فیصدکی کمی ہوئی جو4 برسوں میں سب سے کم ہے۔

پاکستانی عوام کی جانب سے ملکی معیشت کو مضبوط قرار دیے جانے کی شرح میں 500فیصد اضافہ دیکھا گیا، معاشی حالات میں بہتری آنے کے بعد ایک سال کے دوران گھریلو خریداری میں سکون کی شرح 3 گناہ بڑھ گئی ہے۔

عوام کی جانب سے مقامی معاشی حالات میں پرامیدی کی شرح میں 2025 میں 31 فیصد کی نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔

پاکستانی صارفین کے اعتماد کو جاننے والے سروے میں اب تک اعتماد کی شرح بلند ترین سطح پر ہے، اگست 2024 کے بعد سے ذاتی مالی حالات کے بارے میں بھی عوامی امید مسلسل بڑھ رہی ہے۔

سروے رپورٹ کے مطابق ہر پانچ میں سے ایک پاکستانی اگلے 6 ماہ میں بہتری کی توقع کر رہا ہے، جو مئی 2024 کے بعد سب سے زیادہ ہے ملازمت کی سکیورٹی کے حوالے سے اعتماد میں 19 فیصد اضافہ ہوا ہے جو اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔

پاکستان کی عالمی کنزیومر کنفیڈنس انڈیکس میں درجہ بندی میں مثبت تبدیلی کے ساتھ 2.7 پوائنٹس کا اضافہ ہوا، معاشی ترقی کے حوالے سے بھارت، ترکی اور برازیل کی منفی تبدیلیوں کے برعکس پاکستان اور جنوبی افریقہ میں مثبت مشاہدہ دیکھنے میں آیا ہے، امید اور اعتماد کے حوالے سے پاکستان کی عالمی اوسط 37 فیصد کے بہت قریب پہنچ چکی ہے۔

یہ نتائج عالمی سطح پر ممکنہ سرمایہ کاروں کے لیے ایک مضبوط معاشی پاکستان کے حوالے سے مثبت پیغام بھیجتے ہیں، پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے ایک امید افزا اور قابل اعتماد ملک کے طور دیکھا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کی معاشی سمت درست قرار، سروے رپورٹ میں اعتراف
  • اپسوس کا تازہ کنزیومر کنفیڈنس سروے، پاکستان کی معاشی صورت حال کیا ہے؟
  • امریکا کا چین پر نیا معاشی وار، درآمدات پر 10 فیصد اضافی ٹیرف لگانے کا اعلان
  • مہنگائی میں کمی،زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے :شہباز شریف 
  • چین کی جی ڈی پی میں 5.0 فیصد کا اضافہ ،قومی ادارہ شماریات
  • مسلمانان ہند کی تعلیمی و سماجی ترقی میں مولانا عبدالحمید رحمانی کے کردار پر سیمینار کا انعقاد
  • حکومت صنعتی شعبے میں ترقی اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے کوشاں
  • تمام تر مشکلات کے باوجود ملک کو ڈیفالٹ سے بچا کر استحکام کی جانب گامزن کیا، وزیرخزانہ
  • انڈیا میں غیرمساویانہ اور غیر متوازن معاشی ترقی ہورہی ہے، رپورٹ میں انکشاف