UrduPoint:
2025-02-28@20:31:34 GMT

جرمنی میں آئندہ حکومت کی تشکیل کے لیے مذاکرات کا آغاز

اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT

جرمنی میں آئندہ حکومت کی تشکیل کے لیے مذاکرات کا آغاز

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 28 فروری 2025ء) جرمنی کی قدامت پسند جماعتوں کرسچن ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) اور کرسچن سوشل یونین (سی ایس یو) پر مشتمل اتحاد نے آج جمعہ 28 فروری کو ملک میں آئندہ حکومت کے قیام کے لیے سوشل ڈیموکریٹس (ایس پی ڈی) کے ساتھ بات چیت کا آغاز کر دیا ہے۔

ہم مذاکرات کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟

جرمنی کے 23 فروری کو ہونے والے وفاقی پارلیمانی انتخابات میں قدامت پسند بلاک نے تقریباً 28.

5 فیصد ووٹ حاصل کر کے پہلی پوزیشن حاصل کی۔

چانسلر اولاف شولس کی جماعت ایس پی ڈی نے اپنی تاریخ کی کم ترین سطح پر محض 16.4 فیصد ووٹ کیے۔

میرس نے انتہائی دائیں بازو کی پارٹی 'آلٹرنیٹیو فار ڈوئچ لینڈ‘ (اے ایف ڈی) کے ساتھ اتحاد کے قیام کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔

(جاری ہے)

اے ایف ڈی 20.8 فیصد ووٹ حاصل کر کے انتخابات میں مجموعی طور پر دوسرے نمبر پر ہے۔ میرس نے اے ایف ڈی کے خلاف سیاسی ''فائر وال‘‘ برقرار رکھنے کا عہد کیا ہے۔

توقع ہے کہ آج جمعے کو ہونے والے مذاکرات میں اتحادی مذاکرات کے لیے ٹائم ٹیبل طے کرنے پر توجہ دی جائے گی۔ میرس کہہ چکے ہیں کہ ان کا مقصد ایسٹر سے پہلے حکومت بنانا ہے۔

'اتحاد ابھی پختہ نہیں ہوا‘

ایس پی ڈی نے حکومتی اتحاد کی تشکیل کے لیے بات چیت کے آغاز پرتو رضامندی ظاہر کی ہے، لیکن پارٹی کے شریک رہنما لارس کلینگ بیل نے زور دیا کہ سی ڈی یو/ سی ایس یو کے ساتھ اتحاد ابھی بھی پختہ نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا، ''یہ یقینی نہیں ہے کہ حکومت بنے گی یا ایس پی ڈی حکومت میں شامل ہو گی۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ اتحاد کی تشکیل ''خودکار نہیں‘‘ نہیں ہو گی۔

قدامت پسند اتحاد اور ایس پی ڈی متعدد اہم مسائل پر اختلاف رائے رکھتی ہیں، جن میں ہجرت، ٹیکس پالیسی اور عوامی اخراجات جیسے امور شامل ہیں۔ ایس پی ڈی وفاقی بجٹ میں اضافے کے لیے جرمن حکومت کی جانب سے قرض لینے کی حد پر پابندی کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے جبکہ سی ڈی یو اور سی ایس یو دفاعی اخراجات کے لیے خصوصی فنڈ قائم کرتے ہوئے حکومتی قرضوں کے حصول پر حد برقرار رکھنے کے حق میں ہے۔

ش ر/ ا ب ا (ڈی پی اے، اے پی)

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ایس پی ڈی کے لیے

پڑھیں:

جرمنی میں رواں سال کے پانچویں سیزن ’کارنیوال‘ کا آغاز

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 27 فروری 2025ء) جرمنی میں جمعرات ستائیس فروری سے اس سال کے پانچویں سیزن کارنیوال کی رنگا رنگ تقریبات کے انعقاد کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ کارنیوال تہوار کی مرکزی تقریبات کا گڑھ مغربی جرمن صوبہ نارتھ رائن ویسٹ فیلیا ہے۔ جمعرات سے اس صوبے کے مختلف شہروں کے اسکولوں میں تعطیلات شروع ہو گئی ہیں، جو آئندہ ہفتے منگل تک جار رہیں گی۔

صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے دارالحکومت ڈوزلڈورف اور کارنیوال کے تہوار لیے سب سے پُرکشش شہر کولون کی طرف سب سے زیادہ کارنیوال شائقین کا ہجوم نظر آ رہا ہے۔ جمعرات کو ان دونوں شہروں میں سکیورٹی بھی سخت کر دی گئی ہے۔

قدیم روایت

کارنیوال کی پرانی روایت کے مطابق رائن لینڈ کے علاقے میں وائبر فاسٹ ناخت یا ''اولڈ میڈز ڈے‘‘ خاص طور سے خواتین کا تہوار ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

اس دن خواتین مردوں کی اجارہ داری کے خلاف اور ان کی طاقت کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے کی علامت کے طور پر مردوں کی نک ٹائی کاٹ دیتی ہیں۔ اس دن کو خواتین کی برتری اور اجارہ داری کا دن سمجھا جاتا ہے۔

بیلجیم: کارنیوال کے شرکا پر کار چڑھ دوڑنے سے ہلاکتیں چھ ہو گئیں

روز منڈے

آنے والے ویک اینڈ پر ہر محلے اور قصبے میں کارنیوال جلوس نکلتا ہے اور روایت کا نقطہ عروج روز منڈے یا گلابی پیر ہوتا ہے۔

اس روز کارنیوال کے جلوسوں کا انعقاد بہت بڑے پیمانے پر ہوتا ہے۔ کارنیوال کے میوزک گروپس اور بینڈز جگہ جگہ پریڈ کرتے ہیں۔ کارنیوال کے جلوس بڑے بڑے ٹرکوں پر رنگا رنگ لباسوں میں ملبوس افراد پر مشتمل ہوتے ہیں۔

یہ رنگا رنگ طریقے سے سجے ہوئے اپنے ٹرکوں کے قافلے کے ساتھ چلتے رہتے ہیں اور پورے رستے سڑک کے دونوں طرف شائقین کے ہجوم پر چاکلیٹ، ٹافیوں، مشروبات اور دیگر اشیاسے خوردنی کی بارش کرتے چلے جاتے ہیں۔

ان اشیا کے علاوہ دیگر چھوٹے چھوٹے تحائف ہجوم پر نچھاور کیے جاتے ہیں اور شائقین ان چیزوں کو لوٹ رہے ہوتے ہیں۔ موسیقی، رنگ، ترنگ اور بہت کچھ اس تہوار کا حصہ ہوتا ہے۔

طنز و مزاح کا عنصر

کارنیوال کے تہوار کا ایک مرکزی پہلو ''پولیٹکل سٹائر‘‘ یا سیاسی طنز و مزاح پر مبنی چھوٹے چھوٹے اسکٹس ہوتے ہیں جنہیں مسخرے پیش کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر شہر کولون میں ایک مرکزی علاقے میں بہت بڑے کارنیوال جلوسوں کا انعقاد ہوتا ہے۔ ان جلوسوں میں بہت بڑے اور اونچے ٹرکوں پر سوار مسخرے کسی سیاسی شخصیت کا روپ دھار کر اُس میں کسی طنز کا پہلو شامل کر کے لوگوں کی توجہ حاصل کرتے ہیں۔ یہ مسخرے سیاستدانوں، حکمرانوں، دیگر سیاسی اور مذہبی شخصیات کے علاوہ معروف مفکر، موسیقار یا اداکاروں کا حلیہ بنا کر اُن کی نقلیں اتارتے ہیں اور طنزیہ جملے کستے ہیں۔

کارنیوال کے جلوس پر کار چڑھا دینے کا واقعہ، متعدد افراد زخمی

شہر کولون میں اس سال سکیورٹی کی صورتحال پر تشویش

اس بار کارنیوال کی تقریبات کے خلاف سوشل میڈیا پر دھمکیوں کی اطلاعات بھی ہیں۔ وفاقی جرمن دفتر برائے انسداد جرائم BKA نے ان سوشل میڈیا پوسٹوں کو ''پراپیگنڈا پبلیکیشنز‘‘ کے طور پر استعمال کیا جانے والا مواد قرار دیا ہے۔

تاہم وفاقی فوجداری پولیس نے کہا ہے کہ کوئی خاص خطرہ نہیں ہے۔ اُدھر شہر کولون کی پولیس نے سکیورٹی کی صورتحال کو گزشتہ سالوں کے مقابلے میں زیادہ ''کشیدہ‘‘ قرار دیا ہے اور اس کے تحت شہر میں سکیورٹی کے اقدامات سخت تر کر دیے گئے ہیں۔ 15 سو پولیس افسران، پبلک آرڈر آفس کے 300 سو اضافی ورکرز اور 12 سو کارکنوں پر مشتمل پرائیویٹ سکیورٹی عملہ بھی تعینات کیا گیا ہے۔

پولیس نے جگہ جگہ ''ڈرائیو اوور‘‘ رکاوٹیں قائم کی ہیں تاکہ کاروں سے کیے جانے والے حملوں کے امکانات کو کم کیا جا سکے۔ پولیس ہجوم یا جلوس میں شامل افراد کی چاقو چیکننگ بھی کرے گی۔ سڑکوں پر عام دنوں کے مقابلے میں یولیس کی کافی زیادہ تعداد نظر آ رہی ہے۔

ک م/ ش ر(ڈی پی اے)

متعلقہ مضامین

  • جرمنی میں رواں سال کے پانچویں سیزن ’کارنیوال‘ کا آغاز
  • پیپلز پارٹی سے اتحاد قائم رکھنا ان کی اور ہماری مجبوری ہے: رانا ثنا اللہ
  • اپوزیشن اتحاد نے آج ہر صورت قومی کانفرنس کرنے کا اعلان کر دیا
  • پی پی سے اتحاد قائم رکھنا ان کی اور ہماری مجبوری ہے: رانا ثناء اللّٰہ
  • اسلام آباد میں دو روزہ قومی کانفرنس، اپوزیشن اتحاد کو وسیع کرنے پر صلاح مشورے
  • اپوزیشن اتحاد ایجنڈا سامنے لائے، حکومت بات چیت کے لیے تیار ہے، رانا ثنااللہ کی پیشکش
  • ہم کسی صورت حکومت کی دھمکیوں سے نہیں گھبرائیں گے،اپوزیشن اتحاد
  • اسلام آباد میں قومی کانفرنس کل بھی جاری رہے گی، دھمکیوں سے نہیں گھبرائیں گے، اپوزیشن اتحاد
  • اپوزیشن اتحاد کا اجلاس، سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال، آج ہر صورت قومی کانفرنس ہو گی: شاہد خاقان، حامد رضا