Express News:
2025-02-28@19:58:52 GMT

حکومت کا گوادر پورٹ کو مکمل آپریشنل کرنے کا فیصلہ

اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT

اسلام آباد:

وفاقی حکومت نے گوادر پورٹ کو مکمل  آپریشنل کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے 60 فیصد سرکاری درآمدات اور برآمدات گوادر پورٹ سے کرنے کا اعلان کردیا۔

وفاقی وزیر برائے بحری امور قیصر احمد شیخ نے اسلام آباد میں منعقدہ نیشنل میری ٹائم پالیسی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بحری امور کا شعبہ معاشی ترقی کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے بحری تجارت کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ، پورٹ قاسم اور دیگر بندرگاہوں پر انتہائی مہارت رکھنے والی ٹیم موجود ہے جو بحری معیشت کو مزید مستحکم بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ میری ٹائم سیکٹر مستقبل میں پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔

وزیر بحری امور نے بتایا کہ گزشتہ سال بحری شعبے کو اربوں روپے کا نقصان ہوا تھا، لیکن اس سال 100 ارب روپے منافع کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کے حصول کی قوی امید ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 32 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف چار سال میں 60 ارب ڈالر تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستانی بندرگاہیں اپنی گنجائش سے 50 فیصد کم کام کر رہی ہیں، حالانکہ ان میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ اگر درآمدات اور برآمدات کا حجم 90 ارب ڈالر ہے تو توقع ہے کہ اگلے چار سالوں میں یہ دگنا ہو جائے گا۔

قیصر احمد شیخ نے کہا کہ سنٹرل ایشیائی ممالک میں تجارتی مواقع تیزی سے بڑھ رہے ہیں، لیکن ان کے پاس اپنی بندرگاہیں نہیں ہیں، اس لیے وہ پاکستان کی بندرگاہوں پر انحصار کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف سنٹرل ایشیائی ممالک کے دورے کر رہے ہیں تاکہ اس حوالے سے مزید مواقع تلاش کیے جا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب پاکستانی بندرگاہوں پر بڑے بحری جہازوں کے لیے مزید گنجائش پیدا کی جا رہی ہے، اور آئندہ چار کنٹینرز کے بجائے 20 ہزار کنٹینرز کے حامل بحری جہازوں کو سنبھالنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہوگی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں بڑی تعداد میں بین الاقوامی بحری کمپنیاں اور سرمایہ کار دلچسپی لے رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کئی ممالک اپنی جی ڈی پی کا 40 فیصد میری ٹائم سیکٹر سے حاصل کر رہے ہیں، جبکہ دنیا بھر میں جی ڈی پی کا 7 فیصد میری ٹائم صنعت سے وابستہ ہے۔ پاکستان بھی اپنی جی ڈی پی کا 5 فیصد اس شعبے سے حاصل کر سکتا ہے۔

قیصراحمد شیخ نے کہا کہ پاکستان میں ماہی گیری کی برآمدات 400 ملین ڈالر ہیں، جبکہ ہمارے ہمسایہ ممالک اس شعبے میں ہم سے بہت آگے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ دنیا بھر کی کمپنیاں پاکستان میں ماہی گیری کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کورنگی فش ہاربر کو مزید بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور نئے ایکشن ہالز کی تعمیر پر بھی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔

وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ حکومت پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ 60 فیصد سرکاری درآمدات اور برآمدات گوادر پورٹ سے ہوں گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ گوادر پورٹ کو عالمی معیار کے مطابق سہولتوں سے آراستہ کیا جائے گا تاکہ اسے ایک جدید اور مکمل بندرگاہ میں تبدیل کیا جا سکے۔

قیصر احمد شیخ نے کہا کہ یہ ورکشاپ میری ٹائم سیکٹر کی ترقی اور کاروباری فروغ میں اہم کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے اس شعبے کے فروغ کے لیے حکومتی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ کمیٹیاں اور ٹاسک فورسز میری ٹائم پالیسی پر خصوصی توجہ دے رہی ہیں۔انہوں نے اپنی تقریر کے اختتام پر یقین دہانی کرائی کہ پاکستان کی بحری صنعت مستقبل میں ملکی معیشت کو مستحکم بنانے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔

 

.

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان میں انہوں نے اس کہ پاکستان وفاقی وزیر گوادر پورٹ میری ٹائم نے کہا کہ رہے ہیں کے لیے

پڑھیں:

وفاقی کابینہ کی توسیع، مسلم لیگ نون کی حکومت نے کابینہ مکمل ہکرنے میں ایک سال لگایا

سٹی42:وزیراعظم شباز شریف نے اپنی وفاقی کابینہ میں بیک وقت دو درجن  نئے وزیروں کو شامل کر کے سب کو حیران کر دیا۔ ایک سال پہلے جب شہباز شریف نے وزیراعظم کا منصب سنبھالا تھا تو انہوں نے 19 ارکان پر مشتمل کابینہ تشکیل دی تھی جن میں 18 وفاقی وزیر تھے اور ایک سوبائی وزیر تھا۔ اب اس کابینہ کا حجم دو گنا سے بھی زیادہ برھ گیا ہے۔ آج شامل ہونے والوں میں سے 12 کو وفاقی وزیر کا  عہدہ ملا ہے، 9 کو ویزرِ مملکت بنایا گیا ہے اور تین ارکان کو مشیر کی حیثیت سے کابینہ کا حصہ بنایا گیا ہے۔

زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ

وفاقی کابینہ میں 2 درجن سے زائد نئے ارکان نے ایوان صدر میں جمعرات کو اپنے عہدوں کا حلف لیا۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے نئے وزرا سے حلف لیا۔حلف برداری کی تقریب میں وزیراعظم شہبازشریف اور چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی بھی موجود تھے۔

آج 12 وفاقی وزرا  اور 9 وزرائے مملکت نے حلف اٹھایا ہے۔ وفاقی کابینہ میں نئے تین مشیر بھی شامل کیےگئے ہیں۔

جمعرات کے روز حلف لینے والے وزرا میں راولپنڈی سے حنیف عباسی،  کراچی سےمصطفیٰ کمال، اوکاڑہ سے معین وٹو، مانسہرہ سے سردار یوسف، میلسی سے اورنگزیب کچھی، لاہور سے رانا مبشر،  جھنگ سےرضا حیات ہراج، اسلام آباد سےطارق فضل چوہدری، لاہور سے علی پرویزملک،شزا فاطمہ،جنید انور اور جھل مگسی بلوچستان سےخالد مگسی نے بھی وفاقی وزیر کی حیثیت سےحلف لیا۔

پنجاب کے بعد سندھ حکومت کا بھی پنک بائیک دینے کا اعلان

جڑانوالہ فیصل آباد سے طلال چوہدری، اسلام آباد سے بیرسٹرعقیل ملک، قصور سے  ملک رشید،سندھ سے ہندو اقلیتی کمینٹی کے نمائندہ مسلم لیگی کھیئل داس کوہستانی، کہروڑ پکا لودھراں سے عبدالرحمان کانجو، نیشنل پارلیمانی ٹاسک فورس کے صدر بلال اظہرکیانی،  پنجاب کے سابق وزیر مختاربھرت، لاہور سے استحکام پاکستانی پارٹی کے ایم این اےعون چوہدری، ننکانہ صاحب سے شذرہ منصب علی اور سیال کوٹ سے ارمغان سبحانی ن اور  وجیہہ قمر نے بھی وزیرمملکت کے عہدہ کا حلف لیا۔

مردوں کے بینک اکاونٹس زیادہ ہیں یا خواتین کے ،گورنر اسٹیٹ بینک نے بتا دیا

حلف برداری کی تقریب میں وفاقی وزرا اور نو منتخب ارکان کابینہ کے اہل خانہ اور نئے وزرا کے  قریبی رشتہ داروں نے بھی شرکت کی۔

ایک وفاقی وزیر اور 2 وزرائے مملکت آج حلف نہیں اٹھاسکے، اسلام آباد میں ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے تینوں وزرا وقت پرنہ پہنچ سکے۔

عمران شاہ نے آج وفاقی وزیر کا حلف لینا تھا جب کہ  شذرہ منصب اور ارمغان سبحانی نے بطور  وزیرمملکت حلف اٹھانا تھا۔

وفاقی کابینہ میں وزیراعظم شہباز شریف کے نئے تین مشیر بھی شامل کیےگئے ہیں۔

 کرکٹ کا اہم ایونٹ بھارت میں نہیں ہو گا، نیوٹرل وینیو کی تلاش

نئے مشیروں میں سابق وزیر دفاع اور خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلی  پرویز خٹک، توقیر شاہ اور محمد علی شامل ہیں۔

طلال چوہدری کی کابینہ میں واپسی

مسلم لیگ نون کے رہنما  اور سابق وزیر مملکت برائے اطلاعات طلال چوہدی کی وفاقی کابینہ میں آج کابینہ کی توسیع کا سب سے خوشگوار سرپرائز ہے۔ طلال چوہدری کو  سابق چیف جسٹس گلزار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے ایک بنچ نے نام نہاد توہین عدالت کے جرم میں عدالت برخاست ہونے تک قید کی سزا، سنا دی تھی۔ اس سزا کا ظالمانہ کمپوننٹ عوامی نمائندہ کو پانچ سال کے لیے نااہل قرار دینا تھا۔ طلال چوہدری نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے خلاف کچھ طالع آزما ججوں کی سازش کو لے کر جڑانوالہ میں ایک بہت بڑے جلسہ مین میاں نواز شریف کی موجودگی میں تقریر کی تو  میاں نواز شریف کو  مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کی اعلی عدلیہ میں فوجی آمر کے عبوری آئینی حکم نامے پر حلف لینے والے 'بت' بیٹھے ہوئے ہیں، ان کو باہر نکالا جائے ورنہ یہ اسی طرح ناانصافیاں کرتے رہیں گے۔(حوالہ بی بی سی اردو مطبوعہ 2  اگست 2018)

طلال چوہدری پر فرد جرم 15 مارچ 2018 کو عائد کی گئی تھی اور سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے 63 ون جی کے تحت طلال چوہدری کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دیا تھا۔ اس عدالتی فیصلہ نے مسلم لیگ نون کے پنجاب میں مقبول ترین نوجوان رہنما کو عملاً مین سٹریم سیاست سے باہر لا پٹخا تھا۔ اس کے بعد وفاق میں مسلم لیگ نون کی حکومت تو بن  گئی لیکن طلال چوہدری کو کابینہ میں جگہ نہیں ملی۔ گزشتہ سال الیکشن کے بعد مسلم لیگ نون کی حکومت دوبارہ بنی تو طلال چوہدری کی کابینہ میں واپسی آج ہوئی ہے۔

Waseem Azmet

متعلقہ مضامین

  • عمران خان اگر اپنے ضمیر کاسودا کرتے توآرام سے باہر آسکتے تھے ، شبلی فراز
  • چین کے صوبے ہائی نان میں سمندری سازوسامان کے کامیاب تجربات
  • وفاقی کابینہ کی توسیع، مسلم لیگ نون کی حکومت نے کابینہ مکمل ہکرنے میں ایک سال لگایا
  • آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کو 6 سال مکمل، وزیراعظم آزاد کشمیر کا افواج پاکستان کو خراجِ تحسین
  • ایم کیو ایم پاکستان کا سندھ حکومت کیخلاف وائٹ پیپر شائع کرنے کا اعلان
  • خیبر پختونخوا میں سرکاری ملازمین کو رہائشی یونٹ فراہم کرنے فیصلہ
  • صنعتی شعبے کا بجلی کی فی یونٹ قیمت 26 روپے کرنے کا مطالبہ
  • ہوا کا دروازہ گوادر، ماضی حال اور مستقبل کے آئینے میں
  • تکنیکی اور آپریشنل وجوہات کے باعث متعدد پروازیں منسوخ