وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی ایک سالہ کارکردگی کے حوالے سے اخبار میں اشتہار پر صوبائی وزیر ماحولیات مریم اورنگزیب سے پوچھنا چاہیے کہ ان کی موجودگی میں ایسا کیوں ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کی جانب سے اخباروں میں اشتہارات، رانا ثنااللہ بھی بول پڑے

نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کے دوران رانا ثنااللہ نے کہا کہ مریم نواز کا اخباروں میں اشتہار سے کوئی تعلق نہیں ہے، میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ مریم نواز کا اس میں کوئی قصور نہیں ہوگا، وہ واقعی محنت کررہی ہیں اور کوشش کررہی ہیں، میں مریم اورنگزیب سے ضرور پوچھوں گا، ان اشتہاروں سے برا تاثر جارہا ہے تو یہ نہیں ہونا چاہیے۔

میزبان نے سوال اٹھایا کہ وزیراطلاعات پنجاب تو عظمیٰ بخاری ہیں، مریم اورنگزیب کا اس اشتہار سے کیا تعلق ہے، جواب میں رانا ثنااللہ نے کہا کہ مجھے ہر چیز یاد ہے اور میں چیزوں کو صحیح سمجھ کے جواب دیتا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: ’مریم نواز کا پرس نہ اٹھائیں تو کیا عوام کی خدمت کریں؟‘، مریم اورنگزیب تنقید کی زد میں کیوں؟

رانا ثنااللہ سے سوال کیا گیا کہ تو اس معاملے کا تعلق مریم اورنگزیب سے ہے اگرچہ وہ ماحولیات کی وزیر ہیں لیکن ان سے سوال پوچھنا چاہیے کہ یہ اشتہار کیوں بنا؟ جواب میں انہوں نے کہا کہ جی بلکل صحیح بات یہی ہے کہ مریم اورنگزیب کی موجودگی میں یہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔

واضح رہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے ملک کے بڑے اخبارات کو فرنٹ پیج کے لیے اشتہار جاری کیا گیا ہے، جس کو اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا کہ وہ بالکل اخبار کے فرنٹ پیج کی شکل میں ہے، تاہم اس پر حکومت کی کارکردگی سے متعلق خبریں شائع ہیں۔

پنجاب حکومت نے اب تک جتنے منصوبوں کا اعلان کیا ہے یا پایہ تکمیل تک پہنچائے ہیں اس حوالے سے مریم نواز کے بیانات اس اشتہار کا حصہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کی ایک برس کی کارکردگی پر اشتہار، ’جن اخبارات نے اشتہار چھاپا ان پر پیکا نہیں لگتا؟‘

پنجاب حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے اس اشتہار پر عوام کی جانب سے جہاں حکومت پر تنقید کی جارہی ہے وہیں میڈیا ہاؤسز کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

یہ بھی واضح رہے کہ اس سے قبل 8 فروری کو حکومت کا ایک سال مکمل ہونے پر بھی ایسا ہی اشتہار جاری کیا گیا جو پورے پیج پر مشتمل تھا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ مریم نواز کا کرکٹ پر اشتہار: “اب مریم کے ہاتھوں 92 کا ورلڈکپ جتوانا رہ گیا ہے‘‘

اس کے علاوہ گزشتہ برس 8 فروری کو مسلم لیگ ن نے اخبارات کو فرنٹ پیج کے لیے ایسا ہی اشتہار جاری کیا تھا جس میں شہ سرخی پر وزیراعظم نواز شریف لکھا گیا تھا، تاہم انتخابات کے بعد وزارت عظمیٰ کا تاج شہباز شریف کے سر سج گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news پاکستان عظمیٰ بخاری کارکردگی مریم اورنگزیب مریم نواز وزیراعلٰی پنجاب.

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان کارکردگی مریم اورنگزیب مریم نواز رانا ثنااللہ نے مریم اورنگزیب مریم نواز کا پنجاب حکومت کی جانب سے حکومت کی کیا گیا نے کہا

پڑھیں:

مریم نواز کے 60،60 صفحات کے اشتہارات پر تجزیہ کاروں کی شدید تنقید

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 فروری2025ء) مریم نواز کے 60،60 صفحات کے اشتہارات پر تجزیہ کاروں کی شدید تنقید، تحقیقات کا مطالبہ کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق جرمن خبر رساں ادارے ڈی ڈبلیو کی جانب سے وزیر اعلٰی پنجاب مریم نواز کی غیر معمولی اشتہارات کی مہم کے حوالے سے رپورٹ شائع کی گئی ہے۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے سینئر صحافیوں اور تجزیہ کاروں نے اس حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

سینئیر تجزیہ کار اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلٹس (پی ایف یو جے) کے سابق صدر مظہر عباس نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اشتہاری مواد کو خبروں کی شکل میں پیش کرنے کا کسی صورت دفاع نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے بقول، '' یہ قارئین کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات عوام کو فراہم کرنے کا اختیار تو حکومت کے پاس ہے لیکن اس کی آڑ میں بھاری رقوم میڈیا مالکان کو دینے کا نہیں۔

(جاری ہے)

‘‘ مظہر عباس کا کہنا تھا کہ سرکاری اشتہارات حکومت کے پاس ہونے ہی نہیں چاہییں کیونکہ حکومتیں اکثر ان کا منصفانہ استعمال نہیں کرتیں بلکہ اسے سچ کو روکنے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرتی ہیں۔ سینئر تجزیہ کار امتیاز عالم نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ساٹھ ساٹھ صفحات کے سپلیمنٹ جن اخبارات کو دیے گئے ہیں ان کی معاشرے میں سرکولیشن کوئی زیادہ نہیں ہے۔

ان کے بقول، ''پنجاب حکومت کچھ زیادہ ہی پراپیگنڈہ کر رہی ہے۔ وہ چند ایمبولینسیں چلا کر پورے صوبے میں ایمبولینس سروس شروع کرنے کا تاثر دیتے ہیں۔ چند ہزار طلبا کو وظائف دے کر سارے طلبہ کی مدد کا تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور یوں لگتا ہے جیسے تمام کسانوں کو کسان کارڈ اور دیگر مراعات مل گئی ہیں۔‘‘ کارپوریٹ کنسلٹنٹ مہوش خان کا کہنا تھا کہ ہر منصوبے کو اپنا نام دینا اور ہر جگہ اپنے نام کی تختی لگانا اور ہر منصوبے کی تشہیر پر ضرورت سے زیادہ فوکس کرکے اپنے آپ کی تشہیر کرنا کوئی اچھا رجحان نہیں ہے۔

ان کے بقول، ''امیج بلڈنگ کا درست طریقہ یہ ہے کہ پہلے بلڈنگ ٹھیک کی جائے پھر اس کی اطلاع عوام کو دی جائے۔‘‘ پی ایف یو جے کے سابق نائب صدر نواز طاہر نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کو عوام کا پیسہ اپنی مرضی کے میڈیا مالکان کو دینے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ اس بارے میں وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، '' یہ کام ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب کئی اخباری اداروں میں کارکن صحافیوں کو بروقت تنخواہ نہیں مل رہی ہے۔

اور جو لوگ حکومت سے بھاری رقوم لے رہے ہیں وہ کس طرح حکومتی خامیوں پر تنقید کر سکیں گے۔ ‘‘ امتیاز عالم کا کہنا ہے کہ "اصل میں اس بات کی تحقیق ہونی چاہیے کہ عوام کا پیسہ خرچ کرکے اخبارات اور دیگر میڈیا پر جو مواد دیا شائع کیا جا رہا ہے اس میں کتنا سچ ہے اور پنجاب حکومت نے اپنی تشہیری مہم کے دوران ایک سال میں کتنے پیسے خرچ کیے ہیں؟۔"

متعلقہ مضامین

  • کیا مولانا حامدالحق کی شہادت میں بھارتی ایجنسیز ملوث ہیں؟
  • پنجاب حکومت کی کارکردگی کچھ لوگوں کو ہضم نہیں ہو رہی :عظمیٰ بخاری
  • بزدار نے 100 دن بعد خالی اشتہار چھاپا کیونکہ وہ مصروف تھے، عظمیٰ بخاری
  • زاہدخان ن لیگ میں شامل ‘پارٹی کی ایک سالہ کارکردگی عوام کے سامنے رکھییں : نواز شریف
  • وزیراعلیٰ پنجاب کی 5 سالہ ٹرانسپورٹ پلان کی منظوری
  • مریم نواز کے 60،60 صفحات کے اشتہارات پر تجزیہ کاروں کی شدید تنقید
  • اپوزیشن اتحاد ایجنڈا سامنے لائے، حکومت بات چیت کے لیے تیار ہے، رانا ثنااللہ کی پیشکش
  • مریم نواز کی تشہیری مہم تنقید کی زد میں کیوں؟
  •  پنجاب حکومت نے ایک سال میں کامیابیوں کے ریکارڈ قائم کیے: عظمیٰ بخاری