کراچی:

مصطفیٰ عامر کے اغوا اور قتل کیس میں اہم پیش رفت، پولیس نے انسداد دہشتگردی منتظم عدالت کو کیس میں تحقیقات کے  لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کے حوالے سے آگاہ کردیا۔

اس حوالے سے ہولیس نے رپورٹ جمع کرادی۔ رپورٹ میں پولیس تفتیش کے دوران ملزم ارمغان کے بار بار بے ہوشی کا ڈرامہ کرنے کا بھی انکشاف کردیا۔ ریمانڈ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کیس میں ملنے والی لڑکی سے تفتیش کرکے دیگر ساتھیوں کو گرفتار کرنا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تفتیش میں ملزم شیراز نے بخوبی اپنے جرم کا اعتراف کیا ہے۔ ملزم ارمغان نہایت شاطر، چالاک اور عادی جرائم پیشہ ہے۔ ملزم ارمغان بار بار اپنے بیان تبدیل کررہا ہے اوربار بار بے ہوش ہونے کی ایکٹنگ کرتا ہے۔

رپورٹ  میں مزید کہا گیا ہے کہ ملزم شیراز کا ویڈیو بیان بھی ریکارڈ کرایا گیا ہے۔ مقتول مصطفیٰ کا سیمپل والدہ وجیہہ عامر کے ڈی این اے سے میچ ہوگیا ہے۔ ڈی این اے میچ ہونے سے ثابت ہوتا ہے کہ نعش مصطفیٰ عامر کی ہے۔

ملزم شیراز کا متعلقہ مجسٹریٹ کے روبرو اقبالی بیان ریکارڈ کرانا ہے۔ ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جو ملزمان کو انٹروگیٹ کرے گی۔ ملزم ارمغان کے دیگر مقدمات کی معلومات کے لیے افسران بالا کو لیٹر ارسال کیے گئے ہیں۔ ملزم کال سینٹر اور سافٹ ویئر ہاؤس چلا رہا ہے جبکہ غیر قانونی سرگرمیوں بھی ملوث ہے۔

 رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملزم ارمغان کو انٹروگیٹ کرکے غیر قانونی سرگرمیوں کی معلومات بھی حاصل کرنی ہے اور دیگر اصل حقائق کو بھی سامنے لانا ہے۔

.

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کہا گیا ہے کہ رپورٹ میں

پڑھیں:

مصطفی قتل کیس؛ پولیس نے پیشی پر ملزم ارمغان کی والدہ کو کس چیز سے روکا؟

ویب ڈیسک: مصطفی قتل  کیس کے ملزمان کو عدالت میں پیش کردیا گیا، جہاں ملزم ارمغان کی والدہ نے اس سے ملنے کی کوشش کی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق مصطفی عامر قتل کیس کی سماعت سینٹرل جیل میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں ہوئی، جہاں پولیس نے ملزمان ارمغان اور شیراز کو پیش کیا۔

عدالت میں کیس کی سماعت کے موقع پر ملزم ارمغان کی والدہ نے اس سے ملنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے ملزم کی والدہ کو ملنے سے روک دیا اور ہدایت کی کہ سکیورٹی رسک کی وجہ سے افسران بالا نے ملاقات سے منع کیا ہے۔

بلدیاتی انتخابات میں تاخیر؛ پنجاب حکومت کی جلد قانون سازی کی یقین دہانی

واضح رہے کہ ڈیفنس سے 6 جنوری کو اغوا کے بعد بے دردی سے قتل کیے جانے والے نوجوان مصطفیٰ عامر کے والدین نے کہا ہے کہ مشکل وقت میں کسی نے رابطہ تک نہیں کیا، اگر انصاف نہ ملا تو بھوک ہڑتال کریں گے۔

مقتول مصطفیٰ کے والدین نے وزیر اعظم پاکستان ، آرمی چیف اور چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ہمیں انصاف کی فراہمی میں اپنا اہم کردار ادا کریں۔

علاوہ ازیں مصطفیٰ عامر قتل کیس میں ملزم ارمغان کا ریمانڈ نہ دینے پر وزیر داخلہ سندھ کے خط کی روشنی میں ہائیکورٹ نے جج کے اختیارات ختم کردیے۔

لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ, بری ہونے والے افراد کا نام کریکٹر سرٹیفکیٹ پر ظاہر نہیں ہوگا

 
 

Ansa Awais Content Writer

متعلقہ مضامین

  • مصطفیٰ قتل کیس: جے آئی ٹی بنادی گئی، ارمغان کی گرفتاری، اسلحہ رپورٹ بھی جمع
  • مصطفی عامر کے اغوا اور قتل کیس میں زوما نامی لڑکی کی انٹری
  • مصطفی قتل کیس؛ ملزم ارمغان سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع؛ نئے انکشافات
  • مصطفیٰ قتل کیس: گواہ نے ملزم ارمغان اور شیراز کو شناخت کر لیا
  • مصطفیٰ عامر قتل کیس: ملزمان ارمغان اور شیراز کے ریمانڈ میں 5 روز کی توسیع
  • مصطفی عامر قتل کیس؛ پولیس کی درخواست منظور، ملزم کی خواہش پوری نہیں ہو سکی
  • مصطفی قتل کیس؛ پولیس نے پیشی پر ملزم ارمغان کی والدہ کو کس چیز سے روکا؟
  • مصطفیٰ عامر قتل کیس: عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں پولیس کے اہم انکشافات
  • مصطفیٰ عامر قتل کیس: ارمغان کو پولیس نے کیسے گرفتار کیا؟ رپورٹ عدالت میں جمع