عالمی برادری کی جانب سے امریکہ کی غنڈہ گردی پر تنقید
اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT
عالمی برادری کی جانب سے امریکہ کی غنڈہ گردی پر تنقید WhatsAppFacebookTwitter 0 28 February, 2025 سب نیوز
بیجنگ :
ٹرمپ انتظامیہ عالمی تجارتی قوانین کے برخلاف میکسیکو کو چین پر محصولات عائد کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ اس حوالے سے چائنا میڈیا گروپ کے تحت (سی جی ٹی این) کی جانب سے دنیا بھر کے انٹرنیٹ صارفین کے لیے جاری کیے گئے ایک سروے کے مطابق، جواب دہندگان نے میکسیکو کو چین پر محصولات عائد کرنے پر مجبور کرنے پر امریکہ کی شدید مذمت کی اور خدشہ ظاہر کیا کہ اس کے منفی اثرات عالمی تجارتی نظام کو خطرے میں ڈال دیں گے۔
سروے میں 70.
یہ سروے سی جی ٹی این کے انگریزی، ہسپانوی، عربی، فرانسیسی اور روسی پلیٹ فارمز پر جاری کیا گیا اور 24 گھنٹوں کے اندرمجموعی طور پر 6,603 غیر ملکی انٹرنیٹ صارفین نے سروے میں حصہ لیا اور اپنی رائے کا اظہار کیا۔
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کی جانب سے امریکہ کی
پڑھیں:
اجلاس میں امریکہ کی عدم شرکت سے کثیر الجہتی نظام کو خطرہ ہے، جی 20
سیرل رامفوسا نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ کثیر الجہتی نظام کا زوال عالمی ترقی اور استحکام کے لیے خطرہ ہے، بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی تنازعات کے موجودہ حالات میں، تنازعات کے انتظام اور انہیں حل کرنے کے میکانزم کے طور پر قواعد پر مبنی نظام خاص طور پر اہم ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی وزیر خزانہ کی غیر موجودگی کی وجہ سے جنوبی افریقہ میں جی 20 کے مالیاتی اجلاس میں صدر سیرل رامفوسا نے خبردار کیا ہے کہ کثیر الجہتی نظام کے خاتمے سے عالمی ترقی اور استحکام کو خطرہ لاحق ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دنیا کی صف اول کی معیشتوں کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینک کے گورنرز کے درمیان 2 روزہ مذاکرات کا آغاز جنوبی افریقہ میں ہوا، ایک ہفتہ قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جی 20 ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کو مسترد کر دیا تھا۔
سیرل رامفوسا نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ کثیر الجہتی نظام کا زوال عالمی ترقی اور استحکام کے لیے خطرہ ہے، بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی تنازعات کے موجودہ حالات میں، تنازعات کے انتظام اور انہیں حل کرنے کے میکانزم کے طور پر قواعد پر مبنی نظام خاص طور پر اہم ہے۔ 19 ممالک کے ساتھ ساتھ یورپی یونین اور افریقی یونین پر مشتمل جی 20 اہم معاملات پر منقسم ہے جس میں یوکرین میں روس کی جنگ سے لے کر ماحولیاتی تبدیلی تک شامل ہیں۔
سیرل رامغوسا کے مطابق عالمی رہنما امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی واپسی کے بعد سے واشنگٹن سے پالیسی میں ہونے والی سخت تبدیلیوں کا جواب دینے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ رامافوسا نے کہا کہ کثیر الجہتی تعاون غیر معمولی چیلنجز پر قابو پانے کی واحد امید ہے جس میں سست اور ناہموار ترقی، بڑھتے ہوئے قرضوں کے بوجھ، مسلسل غربت اور عدم مساوات، اور آب و ہوا کی تبدیلی سے وجود کا خطرہ شامل ہے۔
اطالوی وزیر خارجہ جیانکارلو جیورگیٹی نے بھی اس مطالبے کی تائید کرتے ہوئے متنبہ کیا کہ جغرافیائی سیاسی تناؤ سے عالمی معیشت خاص طور پر غریب ممالک میں مزید سست پڑنے کا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحفظ پسندی، تجارتی رکاوٹیں اور سیاسی غیر یقینی صورتحال ترقی اور عالمی ویلیو چینز کے لیے خطرہ ہیں، پیداواری لاگت اور افراط زر میں اضافہ اور معاشی لچک کو کمزور کر رہے ہیں۔ جنوبی افریقہ اس سال جی 20 کی صدارت کر رہا ہے اور اس نے ’یکجہتی، مساوات، پائیداری‘ کا موضوع منتخب کیا ہے۔