پاکستانی خلائی ایجسنی سپارکو اور چینی خلائی ایجنسی کے درمیان پاکستان کے پہلے مینڈ اسپیس مشن کے حوالے سے معاہدہ طے پاگیا ہے۔

پاکستان اور چین کے درمیان خلائی تحقیق میں تعاون کے سمجھوتے کی دستاویز کے تبادلے کی تقریب کے موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اس  پہلے انسانی اسپیس مشن کے حوالے سے معاہدہ ایک اہم سنگ میل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم چینی حکومت کے تعاون کے مشکور ہیں جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کے وژن کی روشنی میں سپارکو کے اقدامات قابل تعریف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان خلائی شعبے میں تعاون قابل فخر ہے۔ اس مشن کیلئے چین کے خلاباز پاکستانی خلا بازوں کو تربیت فراہم کریں گے جس کے تحت ایک سال کی مدت میں پاکستانی خلاباز چائنیز اسپیس اسٹیشن میں سفر کر سکیں گے۔

عطاءاللہ تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں خلائی تحقیق کے شعبے کی ترقی پر حکومت کی خصوصی توجہ مرکوز ہے۔

انہوں نے کہا کہ انشاءاللہ پاکستان کا سبز ہلالی پرچم خلا میں بھی جائے گا اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے جس پر ہم چین کے دوستوں کے شکر گزار ہیں۔

.

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے درمیان چین کے

پڑھیں:

خلائی شعبے میں پاکستان نے کوئی خاص ترقی نہیں کی، وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اسپارکو 1961 میں قائم ہوئی تاہم خلائی شعبے میں ملک نے کوئی خاص ترقی نہیں کی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں پاکستان مین اسپیس مشن کے موضوع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان خلائی تحقیق میں تعاون کے حوالے سے معاہدے پر دستخط کے لیے یہ تقریب منعقد ہورہی ہے، خلا میں جانے کے لیے پہلے پاکستانی کو ٹریننگ دی جارہی ہے جو چین کے خلائی اسٹیشن سے اسپیس میں جائے گا، خلائی شعبے میں پاکستان اور چین کا تعاون دونوں ممالک کی مضبوط دوستی کا عکاس ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان ایک اور کامیابی کی جانب گامزن، سیٹلائٹ چاند پر بھیجنے کے لیے تیار

وزیراعظم نے کہا کہ چین نے نہ صرف اس فیلڈ میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے بلکہ پچھلی کئی دہائیوں سے پاکستان کی مختلف پروگراموں میں مدد کررہا ہے، میں صدر شی جن پنگ کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں جن کی ولولہ انگیز قیادت میں نہ صرف یہ پروگرام تیزی سے تکمیل کی جانب بڑھ رہا ہے بلکہ چین کے تعاون سے پاکستان کی معیشت بھی مضبوط ہورہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2015 میں چین کے تعاون سے میگا پراجیکٹ سی پیک شروع ہوا جس کا پاکستان کی معیشت کی ترقی میں اہم کردار ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان چلا چاند پر، مشن کو نام دیں اور انعام لیں

شہباز شریف نے کہا کہ اسپارکو 1961 میں قائم ہوئی، مگر ہم اپنے گریباں میں جھانکیں تو ہم نے خلائی شعبے میں کوئی خاص ترقی نہیں کی، اگر آج چین کی معاونت سے ہم آگے بڑھا رہے ہیں تو نہ صرف اس پروگرام کو آگے بڑھائیں بلکہ نوجوانوں کے لیے ان امنگوں کے مطابق  نئی راہ تلاش کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اسپیس پاکستان ٹریننگ چین خلائی تعاون وزیراعظم شہباز شریف

متعلقہ مضامین

  • خلائی تحقیق میں تعاون کا معاہدہ پاک-چین دوستی کا ایک نیا باب ہے، وزیراعظم
  • خلائی تحقیق میں تعاون کا معاہدہ پاک چین دوستی کا نیا باب ہے، وزیراعظم
  • چین اور پاکستان کے درمیان خلابازوں کی تربیت سے متعلق تعاون کے معاہدے پر دستخط
  • خلائی تحقیق میں تعاون کا معاہدہ پاک چین دوستی کا ایک نیا باب ہے، وزیراعظم
  • پاکستان اورچین کے درمیان خلائی تحقیق میں تعاون کے سمجھوتے پر دستخط
  • خلائی تحقیق میں تعاون کاسمجھوتہ پاک چین دوستی کا نیاباب ہے، وزیراعظم شہبازشریف کاسپارکو اورچین کی مینڈ اسپیس ایجنسی کے درمیان خلائی تحقیق میں تعاون کے معاہدے پر دستخطوں کی تقریب سے خطاب
  • پاکستان کی معیشت کی مضبوطی میں سی پیک کا اہم کردار ہے:وزیراعظم
  • خلائی تحقیق میں تعاون کاسمجھوتہ پاک چین دوستی کا نیا باب ہے، وزیراعظم شہبازشریف کا تقریب سے خطاب
  • خلائی شعبے میں پاکستان نے کوئی خاص ترقی نہیں کی، وزیراعظم