Express News:
2025-02-28@15:34:05 GMT

خودکش حملہ آور نے کہاں دھماکا کیا؛ ٹارگٹ کیا تھا؟

اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT

نوشہرہ:

مدرسہ جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکے میں مولانا حامد الحق سمیت 4 افراد شہید ہو گئے۔
 

ریسکیو ذرائع کے مطابق دھماکے کی اطلاع ملنے پر 4 ایمبولینس مع میڈیکل ٹیموں اور فائر ٹیم موقع پر پہنچیں اور 20 افراد کو نکال کر ایمبولینسوں کے ذریعے اسپتال منتقل کیا گیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ایک سینئر پولیس آفیسر نے بتایا کہ دھماکے میں مولانا حامد الحق کو ٹارگٹ کیا گیا۔  انہوں نے بتایا کہ مسجد کے ساتھ ملحقہ ایریا میں مولانا حامد الحق کو نشانہ بنایا گیا۔ 

اکوڑہ خٹک مدرسے میں پولیس کے 23 اہل کار ڈیوٹی پر تعینات تھے۔ مولانا حامد الحق کو 6 پولیس اہل کار سکیورٹی کے لیے فراہم کیے گئے تھے۔ اکوڑہ خٹک مدرسے کے انٹری گیٹس پر مدرسہ انتظامیہ کی بھی سکیورٹی موجود تھی۔

.

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مولانا حامد الحق

پڑھیں:

دارالعلوم اکوڑہ خٹک خودکش دھماکا؛ سکیورٹی ذرائع کے چشم کشا انکشافات،مولانا حامد الحق نے خواتین کو تعلیم حاصل کرنے سے روکنے کو بھی خلافِ اسلام قرار دیا تھا

دارالعلوم اکوڑہ خٹک خودکش دھماکا؛ سکیورٹی ذرائع کے چشم کشا انکشافات،مولانا حامد الحق نے خواتین کو تعلیم حاصل کرنے سے روکنے کو بھی خلافِ اسلام قرار دیا تھا WhatsAppFacebookTwitter 0 28 February, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(سب نیوز )مدرسہ جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکے میں مولانا حامد الحق سمیت 4 افراد شہید ہو گئے جب کہ 20 افراد زخمی ہوئے جو مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔آئی جی پولیس اور دیگر افسران کے مطابق دھماکا خودکش تھا، جس میں حملہ آور دہشت گرد نے مولانا حامد الحق ہی کو نشانہ بنایا گیا ۔

سکیورٹی ذرائع نے خودکش دھماکے کے حوالے سے چشم کشا انکشافات کیے ہیں، جن میں بتایا گیا ہے کہ دارالعلوم حقانیہ میں خود کش حملہ فتن الخوارج اور ان کے سر پرستوں کی مذموم کارروائی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق خود کش حملہ فتن الخوارج کے دہشت گردوں نے کیا ہے اور خود کش حملے میں مولانا حامد الحق حقانی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ مولانا حامد الحق حقانی نے گزشتہ ماہ رابطہ عالم اسلامی کے تخت ہونے والی کانفرنس میں خواتین کی تعلیم کے حوالے سے واضح اور دو ٹوک مقف اختیار کیا تھا۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا حامد الحق نے خواتین کو تعلیم حاصل کرنے سے روکنے کو بھی خلافِ اسلام قرار دیا تھا۔ اس بیانیے پر مولانا حامد الحق کو دھمکیاں بھی دی گئی تھیں۔ نماز جمعہ کے دوران دھماکا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ فتن الخوارج، ان کے پیروکاروں اور سہولت کاروں کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔

متعلقہ مضامین

  • دارالعلوم اکوڑہ خٹک خودکش دھماکا؛ سکیورٹی ذرائع کے چشم کشا انکشافات،مولانا حامد الحق نے خواتین کو تعلیم حاصل کرنے سے روکنے کو بھی خلافِ اسلام قرار دیا تھا
  • دارالعلوم اکوڑہ خٹک خودکش دھماکا؛ سکیورٹی ذرائع کے چشم کشا انکشافات
  • دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی مسجد میں دھماکا، مولانا حامد الحق سمیت 4 افراد شہید
  • مدرسہ حقانیہ میں خودکش دھماکا، مولانا حامد الحق کی شہادت کی تصدیق
  • نوشہرہ: دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی جامع مسجد میں دھماکا، مولانا حامد الحق شہید
  • دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی جامع مسجد میں نمازِ جمعہ کے بعد خودکش دھماکا، 5 نمازی شہید، متعدد زخمی
  • دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی جامع مسجد میں نمازِ جمعہ کے بعد خودکش دھماکا، 5 نمازی شہید
  • دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی جامع مسجد میں نمازِ جمعہ کے بعد خودکش دھماکا، 4 نمازی شہید
  • مدرسہ اکوڑہ خٹک؛ نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکا، مولانا حامد الحق سمیت کئی افراد شدید زخمی