وفاقی وزیرداخلہ کی دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک جامع مسجد میں دھماکےکی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT
اسلام آباد(صغیر چوہدری )وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک جامع مسجد میں دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت وزیرداخلہ محسن نقوی کا دھماکے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کااظہار وزیرداخلہ محسن نقوی کا شہداء کے لواحقین سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت وزیرداخلہ محسن نقوی کی مولانا حامد الحق حقانی سمیت زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا
مسجد میں دھماکے کے افسوسناک واقعہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔دشمن ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی گھناؤنی سازش کر رہا ہے۔قوم کی حمایت سے دشمن کی ہر سازش ناکام بنائیں گے۔شہداء کے خاندانوں اور زخمیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وزیرداخلہ محسن نقوی
پڑھیں:
دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی جامع مسجد میں نمازِ جمعہ کے بعد خودکش دھماکا، 5 نمازی شہید
آئی جی خیبر پختون خوا ذوالفقار حمید کے مطابق جامعہ حقانیہ کی مسجد میں نمازِ جمعہ کے بعد مبینہ خودکش حملہ کیا گیا، جس میں جامعہ حقانیہ کے سربراہ حامد الحق حقانی سمیت 5 افراد شدید زخمی ہیں۔ آئی جی خیبر پختون خوا نے بتایا ہے کہ مولانا حامد الحق حقانی کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے، حملے کا ہدف وہی تھے۔ اسلام ٹائمز۔ نوشہرہ کے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی جامع مسجد میں خودکش دھماکا ہوا ہے، جس کے نتیجے میں 5 نمازی شہید ہوگئے جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق دھماکا مسجد کی اگلی صفوں میں ہوا ہے۔ ڈی پی او عبدالرشید کے مطابق دھماکا خودکش تھا، جس میں مولانا سمیع الحق کے صاحبزادے اور جے یو آئی س کے سربراہ مولانا حامدالحق بھی زخمی ہوئے ہیں۔ ریسکیو 1122 کے مطابق ایمبولینسز اور ریسکیو ٹیمیں پہنچ گئیں، جو زخمیوں اور لاشوں کو اسپتال منتقل کر رہی ہیں۔ سینٹرل پولیس آفس کے مطابق مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک میں دھماکا نماز جمعہ کے بعد ہوا ہے۔ اکوڑہ خٹک دھماکے کے بعد پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ لیڈی ریڈنگ اسپتال کے ترجمان کے مطابق انتظامیہ اور طبی عملے کو زخمیوں کے علاج کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ کسی بھی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے اسپتال میں ہائی الرٹ ہے۔
آئی جی خیبر پختون خوا ذوالفقار حمید کے مطابق جامعہ حقانیہ کی مسجد میں نمازِ جمعہ کے بعد مبینہ خودکش حملہ کیا گیا، جس میں جامعہ حقانیہ کے سربراہ حامد الحق حقانی سمیت 5 افراد شدید زخمی ہیں۔ آئی جی خیبر پختون خوا نے بتایا ہے کہ مولانا حامد الحق حقانی کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے، حملے کا ہدف وہی تھے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ مسجد میں نمازِ جمعہ کے وقت 25 پولیس اہلکار تعینات تھے۔ آئی جی کے پی نے بتایا کہ مولانا حامد الحق کی سکیورٹی پر 6 پولیس اہلکار تعیات تھے، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، بم ڈسپوزل یونٹ اور سی ٹی ڈی کی ٹیمیں دھماکے کی جگہ پر پہنچ گئی ہیں۔ واضح رہے کہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کا شمار ملک کے بڑے مدارس میں ہوتا ہے۔