آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی کی کوریج کے لیے پاکستان آنے والے نامور بھارتی صحافی وکرانت گپتا پاکستانی عوام کی میزبانی دیکھ کر دنگ رہ گئے اور تعریف کرنے پر مجبور ہو گئے۔

وکرانت گپتا کی مختلف ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں جس میں انہیں لاہور کی سڑکوں پر گھومتے دیکھا جا سکتا ہے جہاں شہری ان کا نام لے کر نعرے لگاتے نظر آئے اور انہیں سندھی اجرک کا تحفہ بھی پیش کیا گیا۔

Vikrant Gupta reaction on Pakistan hospitality.

#ChampionsTrophy2025 pic.twitter.com/XbgLREBvaq

— Jabir khan (@jabirkhan_khan9) February 27, 2025

بھارتی صحافی کا کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ پاکستانی عوام ان کی ایسے میزبانی کریں گے کیونکہ وہ ایک عام سے صحافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام سے صرف انہیں ہی نہیں بلکہ بھارتی کرکٹ ٹیم کو بھی پیار مل رہا ہے اور وہ یہ دیکھ کر بہت حیران ہیں۔

Vikrant Gupta reaction on Pakistan hospitality.#ChampionsTrophy2025 pic.twitter.com/hTwJYvWjpq

— Ans (@PakForeverIA) February 27, 2025

وکرانت گپتا کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں جب پاکستانی ٹیم انڈیا سے میچ ہار کر چیمپیئنز ٹرافی سے باہر ہو گئی ہے پاکستانی عوام ویرات کوہلی اور روہت شرما کے حق میں بات کر رہے ہیں۔ لوگ ان کی عزت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان آ کر اتنا پیار ملا جتنا سوچا بھی نہیں تھا۔

 واضح رہے کہ وکرانت گپتا نے بھارتی  ٹیم کے پاکستان نہ آنے کے سوال پر بتایاکہ ’میں پاکستان اکیلا آیا ہوں اس لیے میری کوئی خاص اہمیت نہیں لیکن بھارت کی پوری ٹیم ہے جس کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے، بھارتی ٹیم کے پاکستان  نہ آنے کی وجہ صرف یہ نہیں کہ بھارتی ٹیم پاکستان میں غیر محفوظ ہے، وجہ یہ بھی ہےکہ  دونوں ملکوں کے درمیان کوئی رشتہ نہیں  اور اس رشتے کو سدھارنےکی کسی نے کوشش بھی نہیں کی، میں اس کے لیے کسی ایک کو  قصور وار نہیں ٹھہراتا‘۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آئی سی سی چیمپینئز ٹرافی پاکستانی کرکٹ ٹیم روہت شرما لاہور وکرانت گپتا ویرات کوہلی

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا ئی سی سی چیمپینئز ٹرافی پاکستانی کرکٹ ٹیم روہت شرما لاہور ویرات کوہلی پاکستانی عوام تھا کہ

پڑھیں:

وی ایکسکلوسیو: عمران خان رہائی کے لیے اسٹیبلشمنٹ سے کبھی معافی نہیں مانگیں گے، بیرسٹر گوہر

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ عمران خان رہائی کے لیے اسٹیبلشمنٹ سے کبھی معافی نہیں مانگیں گے، معافی مانگنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تاہم عمران خان جمہوریت کے لیے سب کو معاف کرنے کے لیے تیار ہیں اس لیے باقی لوگوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے مؤقف سے تھوڑا پیچھے ہٹیں۔

’وی ایکسکلوسیو‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جب انا بیچ میں آ جاتی ہے تو کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی، آرمی چیف سے میری ملاقات پر عمران خان خوش تھے اور انہوں نے اطمینان کا اظہار بھی کیا۔

یہ بھی پڑھیں تحریک انصاف عمران خان کی رہائی نہیں چاہتی، فیصل واوڈا کا دعویٰ

بیرسٹر گوہر نے کہاکہ میں نے یہ ملاقات عمران خان کی پیشگی اجازت سے کی تھی، آرمی چیف سے دوسری ملاقات ابھی شیڈول میں نہیں۔

انہوں نے کہاکہ ہمارے سپورٹرز ہم سے ناراض ہیں، ان کو یہ بات ہضم ہی نہیں ہورہی کہ عمران خان کیوں جیل میں ہیں۔ ’ہم ان کو کہتے ہیں کہ اپنے جذبات پر قابو رکھو لیکن وہ کب تک جذبات پر قابو رکھیں گے۔‘

’پی ٹی آئی عمران خان کی قیادت میں متحد، کوئی فارورڈ بلاک نہیں‘

بیرسٹر گوہر نے کہاکہ پی ٹی آئی ملک کی بڑی سیاسی جماعت ہے، سب لوگ عمران خان کی قیادت میں متحد ہیں، جب پارٹی پر مشکل وقت تھا تو قیادت منظر عام پر نہیں تھی، ایسے وقت میں عمران خان نے میرا نام بطور پارٹی چیئرمین لیا تو سب لوگوں نے اسے خوشی سے تسلیم کیا، پارٹی میں اختلافات اس لیے ہیں کیوں کہ ہم کنگز پارٹی نہیں ہیں، سب کو آزادی حاصل ہے کہ جو کرنا چاہیں کرسکتے ہیں، پارٹی میں ڈسپلن قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں، تاہم پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہاکہ عمران خان رہائی کے لیے اسٹیبلشمنٹ سے کبھی معافی نہیں مانگیں گے، سیاست میں معافی مانگنا کچھ نہیں ہوتا، عمران خان جمہوریت کے لیے سب کو معاف کرنے کے لیے تیار ہیں تو باقی لوگوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے مؤقف سے تھوڑا پیچھے ہٹیں، یہ ملک اور جمہوریت کے لیے ضروری ہے، جب انا بیچ میں آ جاتی ہے تو ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔

’شیر افضل مروت عمران خان سے ملاقات کرکے پارٹی میں واپس آسکتے ہیں‘

بیرسٹر گوہر نے کہاکہ شیر افضل مروت کو پارٹی سے نکالے جانے کا فیصلہ حتمی ہے، یہ اب عمران خان کی صوابدید ہے کہ وہ کسی کو کب واپس پارٹی میں بلا لیں، شیر افضل مروت عمران خان سے ملاقات کرکے پارٹی میں واپس آ سکتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ علی امین گنڈاپور نے عمران خان کو خود کہا تھا کہ ان پر گورننس کا بوجھ زیادہ ہے، وہ صوبائی معاملات پر توجہ نہیں دے پا رہے اس لیے پارٹی کی صوبائی صدارت کسی کارکن کو دے دی جائے جس پر جنید اکبر کو صوبائی صدر بنانے کا فیصلہ کیا گیا، اب بھی عمران خان کو علی امین گنڈاپور پر مکمل اعتماد ہے۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہاکہ ہماری پارٹی کی سیاسی، لیگل اور دیگر کمیٹیاں موجود ہیں، وہ فیصلہ کرتی ہیں کہ کس کو کس طرح احتجاج کرنا ہے، حلقوں سے احتجاج کے لیے لوگ لانے کے لیے ارکان قومی اسمبلی کی نہیں بلکہ ارکان صوبائی اسمبلی اور ٹکٹ ہولڈرز کی ذمہ داری ہوتی ہے، یہ سب پالیسیاں عمران خان کی ہدایت پر بنائی جاتی ہیں، جہاں مجھے کہا جاتا ہے میں لیڈ بھی کرتا ہوں۔ سوشل میڈیا بہت تیز ہو چکا ہے، لوگ اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ ایسے انداز میں کسی پر تنقید نہیں کرنی چاہیے کہ اس کو برا لگے۔

’عمران خان سادہ غذا کھاتے ہیں، حکومت کی جانب سے اخراجات کی تفصیل من گھڑت ہے‘

بیرسٹر گوہر نے کہاکہ عمران خان جب سے جیل میں گئے ہیں اپنا خرچ خود کرتے ہیں، سادہ غذا کھاتے ہیں، باہر سے کچھ نہیں منگواتے، ان کو ایک مشقتی کھانا بنا کر دیتا ہے، اور مشقتی کیا کھانا بناتا ہو گا یہ آپ اندازہ کرلیں۔

انہوں نے کہاکہ عمران خان کوئی فروٹ یا ایواکاڈو نہیں کھاتے یہ حکومت کے من گھڑت اخراجات کی تفصیل ہے جو حقیقت پر مبنی نہیں۔

بیرسٹر گوہر نے کہاکہ عمران خان کا جیل میں ہونا پورے سسٹم کی ناکامی ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے کارکنان اور سپورٹرز ہم سے ناراض ہیں کہ کیوں کپتان کی رہائی نہیں ہو پارہی، ہم کب تک کارکنوں کو روک کر رکھیں گے۔

انہوں نے کہاکہ پانچ دنوں میں 45 سال کی تین سزائیں دی گئیں، اور جب بھی سزا دی جاتی ہے تو ساتھ بھاری جرمانے بھی عائد کیے جاتے ہیں۔

’عمران خان ایک عام آدمی کے طور پر اپنے لیے انصاف کا تقاضا کررہے ہیں‘

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہاکہ عمران خان اپنے لیے کچھ نہیں مانگ رہے، وہ بطور سابق وزیراعظم یا پارٹی سربراہ نہیں ایک عام آدمی کے طور پر انصاف کا تقاضا کررہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت ہونی چاہیے، بشریٰ بی بی کا توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن وہ بھی جیل میں قید ہیں۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہاکہ عمران خان ہی پارٹی کے چیئرمین تھے، ہیں اور رہیں گے، چاہے وہ جیل میں ہوں یا باہر، وہی پارٹی کے فیصلے کرتے ہیں، مائنس عمران خان پورے ملک میں کوئی خبر ہی نہیں ہے، تمام پارٹیوں نے عام انتخابات میں 3 کروڑ ووٹ لیے لیکن عمران خان نے تمام تر سختیوں کے باوجود سب کو شکست دی۔

’میں نے بطور پارٹی چیئرمین کبھی ایک روپیہ بھی تنخواہ نہیں لی‘

بیرسٹر گوہر نے کہاکہ میں نے کبھی بطور پارٹی چیئرمین ایک روپیہ بھی تنخواہ نہیں لی، پارٹی کا ایک پین پینسل تک استعمال نہیں کیا، گاڑی بھی استعمال نہیں کرتا، جبکہ عمران خان کے سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے کیسز مفت لڑے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھی عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کیوں کر رہےہیں؟

انہوں نے مزید کہاکہ زیادہ وکلا کو کوئی فیس نہیں دی جاتی، پروفیشنل وکلا کو معمولی فیس دی جاتی ہے، رؤف حسن کو بھی بطور پارٹی سیکریٹری جنرل ادائیگیاں نہیں کی گئیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews آرمی چیف اسٹیبلشمنٹ معافی القادر ٹرسٹ کیس انا بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پریشر پی ٹی آئی کارکنان توشہ خانہ جنید اکبر جیل میں کھانا شیر افضل مروت واپسی علی امین گنڈاپور عمران خان عمران خان رہائی مؤقف سے پیچھے وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • پاکستان 22 سال بعد جنوبی ایشیائی گیمز 2026 کی میزبانی کریگا
  • امریکا اور عالمی میڈیا نے پاکستانی ایف 16 طیارہ گرانے کے بھارتی جھوٹے دعوے کا کس طرح پول کھولا
  • امریکا نے پاکستان کیخلاف سرجیکل اسٹرائیکس کا بھارتی دعویٰ مسترد کردیا
  • افواج پاکستان کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کر سکتے:وزیراعظم
  • وی ایکسکلوسیو: عمران خان رہائی کے لیے اسٹیبلشمنٹ سے کبھی معافی نہیں مانگیں گے، بیرسٹر گوہر
  • امریکہ نے بھارت کے پاکستانی ایف-16 طیارہ گرانے کے بھونڈے دعوے کو مسترد کر دیا
  • بھارتی صحافی نے اپنی ٹیم کے پاکستان نہ آنے کی وجہ بتا دی
  • لاہور بھارت کے کن 2 شہروں جیسا ہے؟ بھارتی صحافی وکرانت گپتا کی دلچسپ باتیں
  • بھارتی وزیرِ خارجہ کی بنگلہ دیش کو وارننگ؛ ‘اپنا ذہن بنائیں کہ ہمارے ساتھ کیسے تعلقات چاہتے ہیں’