Islam Times:
2025-02-28@13:19:25 GMT

امریکا کا افغانستان میں چھوڑا گیا اسلحہ واپس لینے کا اعلان

اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT

امریکا کا افغانستان میں چھوڑا گیا اسلحہ واپس لینے کا اعلان

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ "ہم دیکھ رہے ہیں کہ افغان طالبان اربوں ڈالر کے امریکی اسلحے کی نمائش کر رہے ہیں، جن میں 777,000 رائفلیں اور 70,000 بکتر بند گاڑیاں شامل ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ "ہم نے افغانستان میں جدید ہتھیار اور اعلیٰ معیار کا فوجی سازوسامان چھوڑا، جو اب طالبان کے کام آرہا ہے۔ ہمیں اسے واپس لینا ہوگا۔" اسلام ٹائمز۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں ڈالر کے امریکی اسلحے کو واپس لینے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے افغانستان سے 2021ء میں ہونے والے امریکی انخلاء کو ناقص قرار دیتے ہوئے جوبائیڈن کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ ٹرمپ نے کہا کہ "ہم دیکھ رہے ہیں کہ افغان طالبان اربوں ڈالر کے امریکی اسلحے کی نمائش کر رہے ہیں، جن میں 777,000 رائفلیں اور 70,000 بکتر بند گاڑیاں شامل ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ "ہم نے افغانستان میں جدید ہتھیار اور اعلیٰ معیار کا فوجی سازوسامان چھوڑا، جو اب طالبان کے کام آ رہا ہے۔ ہمیں اسے واپس لینا ہوگا۔" امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے بھی اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ "بائیڈن انتظامیہ کی اس انخلاء میں ناکامیوں کے ذمہ دار افراد کو جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔"

سکیورٹی ماہرین کے مطابق امریکی انخلاء کے بعد افغانستان میں کئی عالمی دہشت گرد تنظیموں نے دوبارہ جنم لیا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق "افغان طالبان پاکستان میں دہشت گرد سرگرمیوں کی مالی اور آپریشنل حمایت فراہم کر رہے ہیں، جبکہ 2024ء میں 600 سے زائد حملے ریکارڈ کیے گئے، جن میں بیشتر افغان سرزمین سے کیے گئے۔" امریکی وزارت دفاع کی رپورٹ کے مطابق 2021ء سے 2025ء تک امریکہ نے افغانستان کی قومی دفاعی فورسز کو 18.

6 ارب ڈالر کا فوجی سازوسامان فراہم کیا، جس میں طیارے، اسلحہ، گاڑیاں اور مواصلاتی نظام شامل تھا۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ کو بگرام ایئر بیس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہیئے تھا اور اس کا نقصان اب واضح ہو رہا ہے۔

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: افغانستان میں نے افغانستان رہے ہیں کہا کہ

پڑھیں:

یوکرینی صدر واشنگٹن میں معاہدہ کریں گے، ٹرمپ کا حیران کن انکشاف

واشنگٹن: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین کے صدر ولودو میر زیلنسکی امریکی معدنیات کے معاہدے پر دستخط کے لیے تیار ہو گئے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکا اور یوکرین ایک معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، جس کے تحت یوکرین اپنی زمینی معدنیات اور دیگر قدرتی وسائل تک امریکا کو رسائی دے گا۔

اس پیشرفت کا تعلق یوکرین کی روس کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور مزید امریکی امداد کی امید سے جوڑا جا رہا ہے۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یوکرینی صدر واشنگٹن آکر معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، اور یہ معاہدہ ایک ٹریلین ڈالر تک جا سکتا ہے۔

ٹرمپ کے مطابق، امریکا یوکرین کی جنگ پر اربوں ڈالر خرچ کر چکا ہے، جو کبھی نہیں ہونی چاہیے تھی۔ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے کی واپسی کو یقینی بنایا جائے گا۔

یوکرین کو اس معاہدے کے بدلے کیا ملے گا؟ کے جواب میں، ٹرمپ نے 350 بلین ڈالر کی امریکی امداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین کو پہلے ہی بھاری فوجی ساز و سامان فراہم کیا جا چکا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق دنیا کے خام مال کا تقریباً 5 فیصد یوکرین میں پایا جاتا ہے۔

یوکرین میں 19 ملین ٹن گریفائٹ کے ثابت شدہ ذخائر موجود ہیں، جو الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریاں بنانے میں استعمال ہوتے ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • پاکستان میں امریکی اسلحہ دہشتگردی کیلئے استعمال ہو رہا ہے، ترجمان دفترخارجہ
  • صدر ٹرمپ کا افغانستان کا بگرام ایئربیس واپس لینے کا عزم‘کابل یوکرین سے مختلف میدان ہے.ماہرین
  • پاکستان میں امریکی اسلحہ دہشتگردی کیلئے استعمال ہو رہا ہے: ترجمان دفترِ خارجہ
  • امریکہ کا افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی اسلحہ واپس لینے کا اعلان
  • امریکہ کا افغانستان میں چھوڑا گیا اسلحہ واپس لینے کا اعلان
  • ٹرمپ نے افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی اسلحہ واپس لینے کا اعلان کر دیا
  •  دہشتگردی میں امریکی اسلحے کا استعمال،ٹرمپ نے  پاکستان کے موقف کی تائید کردی
  • ٹرمپ کی دھمکی اور عالمی فوجی عدالت کے بارے میں افغان طالبان کا ردعمل
  • یوکرینی صدر واشنگٹن میں معاہدہ کریں گے، ٹرمپ کا حیران کن انکشاف