چیمپئینز ٹرافی؛ شکستوں کا ملبہ ہیڈکوچ، سلیکٹرز پر گرنے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT
قومی ٹیم کی چیمپئینز ٹرافی میں ناقص پرفارمنس کے بعد ہیڈکوچ عاقب جاوید کا مستقبل خطرے میں پڑگیا ہے۔
ہیڈکوچ عاقب جاوید کو پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے چیمپئینز ٹرافی تک عہدے پر مقرر کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم اب ناقص پرفارمنس کے بعد انکی مدت ملازمت میں توسیع کا کوئی امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ندیم خان نیشنل کرکٹ اکیڈمی سے مستعفی ہوگئے ہیں اور انہوں نے ملتان سلطانز جوائن کرلی ہے، توقع ہے کہ عاقب جاوید کو یہ ذمہ داری سونپی جاسکتی ہے۔
مزید پڑھیں: بابراعظم، شاہین سمیت کئی کھلاڑیوں کا مستقبل خطرے میں پڑگیا
چیمپئینز ٹرافی میں مایوس کن کارکردگی کے بعد تجزیہ کار، ماہرین اور شائقین کرکٹ قومی ٹیم سمیت سلیکشن کمیٹی میں بھی تبدیلی کا مطالبہ کررہے ہیں۔
عاقب جاوید کو نومبر میں وائٹ بال اور دسمبر میں ریڈ بال ٹیم کا عبوری ہیڈ کوچ بنایا گیا تھا، کیونکہ جیسن گلیسپی عہدہ چھوڑ گئے تھے۔
مزید پڑھیں: ٹیم سے باہر ہونے کا ڈر؛ کھلاڑیوں نے بڑا فیصلہ کرلیا، مشاورت تیز
ہیڈکوچ کے علاوہ سلیکشن کمیٹی سے بھی انہیں فارغ کیا جائے گا جبکہ دیگر سلیکٹرز کے عہدے بھی مشکل میں پڑگئے ہیں۔
مزید پڑھیں: بابراعظم، شاہین سمیت کئی کھلاڑیوں کا مستقبل خطرے میں پڑگیا
خیال رہے کہ خبریں سامنے آئیں تھی کہ چیمپئینز ٹرافی میں شکست کی بڑی وجہ چیف سلیکٹر عاقب جاوید اور کپتان محمد رضوان کے درمیان اختلافات تھے، ہیڈکوچ و سلیکٹر عاقب جاوید کی جانب سے اہم فیصلوں میں مشاورت نہ ہونے کے باعث محمد رضوان نالاں تھے۔
انہوں نے خوشدل شاہ کو شامل کروایا تو عاقب جاوید نے اپنی مرضی سے فہیم اشرف کا انتخاب کرلیا، جس کے باعث اختلافات کو ہوا ملی۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چیمپئینز ٹرافی عاقب جاوید
پڑھیں:
موجودہ حالات میں پاکستان کی بہترین ٹیم منتخب کی، کوچ عاقب جاوید نے تنقید کو مسترد کردیا
پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ عاقب جاوید نے کہا کہ کبھی ٹیم کے انتخاب سے مطمئن نہیں ہوسکتے، تاہم موجودہ حالات میں ہم نے سب سے بہترین ٹیم منتخب کی۔
راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عاقب جاوید نے کہا کہ جتنی مایوسی فینز کو ہوتی ہے اس سے زیادہ کھلاڑیوں کو ہوتی ہے۔ انہوں نے شکست کی ایک وجہ یہ بھی بتائی کہ یہ پاکستان کی سب سے کم تجربہ کار ٹیم ہے، اگر پوری ٹیم کے تمام میچوں کو ملایا جائے تو یہ 400 بھی نہیں بنتے۔
یہ بھی پڑھیے: چیمپیئنز ٹرافی کا بڑا ٹاکرا: بھارت نے پاکستان کو 6 وکٹوں سے شکست دیدی
بھارت کے خلاف شکست سے متعلق عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ اگر قومی ٹیم 280 یا 300 رنز بناتی تو میچ اچھا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 240 کا دفاع کرنا ہو تو وکٹیں لینا ہوتی ہیں، آٹیک کرنا ہوتی ہے مگر وہ کام نہیں ہوسکا۔
انہوں نے کہا کہ جب آپ وکٹیں لینے جاتے ہیں تو پھر آپ کو لگتا ہے کہ یہ کیسی بولنگ ہورہی ہے۔
عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ صائم ایوب اور فخر زمان کی انجریز نے بھی بہت نقصان پہنچا، تاہم کوئی بہانہ نہیں بناؤں گا، ٹیم کو اچھا پرفارم کرنا چاہیے تھا۔
ہیڈ کوچ کا کہنا تھا کہ ابھی کچھ عرصے پہلے ہی اس ٹیم نے آسٹریلیا کو سیریز ہرائی، مگر جب بھارت سے ہار گئے تو تنقید شروع ہوگئی، جو نامناسب ہے۔
انہوں نے کہا کہ کہا جارہا ہے کہ سفیان مقیم کو کیوں شامل نہیں کیا گیا، حالانکہ اس لڑکے کا کوئی فرسٹ کلاس کیریئر نہیں ہے، اور ہم نے اسے موقع دیا اور اس نے ایک ہی میچ کھیلا، مگر اس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ اگر وہ ہوتا تو ہم میچ جیت جاتے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں