پاکستان میں جمہوریت بحال، دوسرے ملکوں کو ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے، دفتر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT
پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت بحال ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دوسرے ملکوں کو ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔
ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران 3 ریپبلیکن سینیٹرز کی جانب سے عمران خان کی بریت اور پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے حوالے سے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو لکھے گئے خط سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت بحال ہے۔ پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ دوسرے ملکوں کو ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہییے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے ایف سولہ طیاروں کے لیے رقم جاری کرنے کے معاملے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ پاکستان اور امریکا کے درمیان گہرے، فعال، اور پرانے تعلقات ہیں۔
یہ بھی پڑھیےغیرملکی سفارتکار پاکستان کے اندرونی معاملات پر تبصروں میں محتاط رہیں، ترجمان دفتر خارجہ
ترجمان شفقت علی خان نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات میں صرف ایک رکاوٹ حائل ہے وہ دہشتگردی ہے۔ افغانستان کے ساتھ ہمارے تعلقات کی کئی جہتیں ہیں جبکہ بنیادی مسئلہ دہشت گردی ہے جس کو لے کر ہم افغان حکومت سے مطمئن نہیں اور اس مسئلے کے حل کے لیے زور دیتے ہیں۔
’دوحہ معاہدے کے تحت، ہم نے دیگر ممالک کی یقین دہانیوں پر افغان شہریوں کو پاکستان میں رہنے کی اجازت دی۔ اگر کوئی ملک کہتا ہے کہ ہم ان افغان شہریوں کو واپس نہیں لے جاتے تو یہ شہری غیر قانونی تصور ہوں گے۔‘
انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے جس دورہ افغانستان کے بارے میں بیان دیا ہے، وہ دفتر خارجہ نے ارینج نہیں کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیےدفتر خارجہ نے عمران خان کی رہائی کے لیے امریکی ایوان نمائندگان کاخط باہمی احترام کے منافی قراردیدیا
ترجمان نے کہا کہ افغانستان اور امریکا کے درمیان وہاں اسلحہ چھوڑنے کے حوالے سے جو کچھ ہوا وہ دو خودمختار ملکوں کا اندرونی معاملہ ہے۔ پاکستان کو افغانستان میں امریکا کی جانب سے حساس نوعیت کے ہتھیار چھوڑے جانے پر تشویش ہے کہ دہشت گردی میں استعمال ہوتے ہیں۔
پاکستان سمجھتا ہے کہ افغان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان ہتھیاروں کو دہشگردوں کے ہاتھوں میں جانے سے روکے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اگر افغانستان سے انخلا پر تحقیقات کرتا ہے تو یہ اس کا اندرونی معاملہ ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ابو ظہبی کے ولی عہد نے پاکستان کا پہلا دورہ کیا۔ ولی عہد کے ساتھ اماراتی کاروباری افراد بھی پاکستان آئے۔ دورے کے دوران ریلوے کان کنی اور دیگر شعبوں کے بارے میں معاہدات پر دستخط کئے گئے۔ جبکہ ازبکستان کے دورے میں ٹرانس افغان ریلوے پر بات کی گئی۔
ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے چین کی دعوت پر 18 فروری کو نیویارک میں اقوام متحدہ سلامتی کونسل اجلاس میں شرکت کی۔ انہوں نے فلسطین اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر بات چیت کی۔ نائب وزیراعظم نے اسلامی کانفرس کے اراکین سے بھی خطاب کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان انسداد دہشتگری پر مذاکرات کا دوسرا دور لندن میں ہوا۔ دونوں ملکوں نے افغانستان کی صورتحال اور دیگر معاملات پر بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور جاپان کے درمیان بھی انسداد دہشتگری پر مذاکرات ہوئے۔
یہ بھی پڑھیےپی ٹی آئی سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ غیرضروری ہے، دفتر خارجہ
حال ہی میں یورپی ممالک سے ڈی پورٹ ہونے والے پاکستانیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ یہ معمول کا معاملہ ہے کوئی بھی ملک بغیر ویزہ اپنے ملک میں رہنے والوں کو ڈی پورٹ کرتا ہے۔ امریکا میں مقیم 8 غیر قانونی پاکستانیوں کا کل ڈی پورٹ کیا گیا ہے۔ اس طرح کے غیر قانونی افراد کی واپسی کے لیے بھی معاونت کر سکتے ہیں لیکن ان کی شہریت کنفرم ہو جائے۔
ایران اور افغانستان کے ساتھ بند بارڈر اور تجارت کے نقصان پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ایران کے ساتھ بارڈر بند ہونے کے معاملے پر میرے پاس مکمل تفصیلات نہیں۔ بارڈر کی بندش پر کئی سرکاری محکمے شامل ہوتے ہیں۔ بارڈرز کی بندش دوطرفہ اقدامات کے تحت کی جاتی ہے۔ ہمیں بارڈرز بند کر کے کچھ نہیں ملتا لیکن کچھ فنکشنل مجبوریوں کے تحت بند کئے جاتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان امریکا ایران ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان.ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغانستان امریکا ایران ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان پاکستان میں جمہوریت ترجمان دفتر خارجہ اندرونی معاملات دفتر خارجہ نے افغانستان کے پاکستان اور کے درمیان نے کہا کہ انہوں نے بتایا کہ کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کی امداد بحال
تحریک انصاف امریکا کی بھر پور کوشش رہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح ٹرمپ انتظامیہ بانی تحریک انصاف کی رہائی کے لیے پاکستان پر دباؤ ڈالے۔ اس مقصد کے لیے بھر پور لابنگ کی گئی۔ یہاں تک کہا گیا کہ جب تک امریکا کی جانب سے پاکستان پر پابندیاں نہیں لگائی جائیں گی تب تک پاکستان پر دباؤ نہیں آئے گا۔
اس لیے بانی تحریک انصاف کی رہائی تک پاکستان پر اقتصادی پابندیاں لگائی جائیں۔ اس ضمن میں آرمی چیف کو بھی خصوصی ٹارگٹ کیا گیا اور پاکستان پر فوجی پابندیاں لگانے کے لیے بھی زور لگایا گیا۔ آرمی چیف کے حالیہ دورہ برطانیہ کے دوران ایک ناکام احتجاج بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی۔تا ہم تحریک انصاف ابھی تک ٹرمپ انتظامیہ سے پاکستان پر کوئی دباؤ ڈلوانے میں ناکام رہی ہے۔
امریکی انتخابات سے پہلے تو ایسا ماحول بنایا جا رہا تھا کہ جیسے ٹرمپ اور اس کے تمام ساتھی تحریک انصاف امریکا کی جیب میں ہیں۔ رچرڈ گرنیل کے ٹوئٹس نے بھی ماحول کو کافی گرما دیا تھا۔ لیکن پھر رچرڈ گرنیل نے تمام ٹوئٹس ڈیلیٹ کر دیے۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ابھی تک ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے انھیں کوئی لفٹ بھی نہیں ہے۔
ٹرمپ نے صدارت کا منصب سنبھالتے ہی دنیا بھر کے لیے امریکی ایڈ بند کر دی۔ صرف پاکستان کے لیے بند نہیں کی گئی۔ ہم نے امریکی کی نئی حکومت کی جانب سے بہت شور سنا یو ایس ایڈ میں بہت کرپشن ہو گئی ہے۔ ایسے میں ہمارے تحریک انصاف کے دوستوں نے شور مچانا شروع کر دیا کہ پاکستان میں یو ایس ایڈ کے منصوبوں میں بھی بہت کرپشن ہوئی ہے، اس کا بھی آڈٹ ہونا چاہیے۔ ایک طوفان بدتمیزی نظر آرہا تھا۔ لیکن اب خبر یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان کے لیے 5.3 ارب ڈالر کی امداد جاری کردی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے غیر ملکی امداد کے منجمد فنڈز میں سے پاکستان سے متعلق پروگراموں کے لیے 397 ملین ڈالر سمیت 5.3 ارب ڈالر جاری کر دیے ہیں۔امریکی کانگریس کے ایک عہدیدار کے مطابق پاکستان میں امریکی حمایت یافتہ پروگراموں کے لیے 397 ملین ڈالرز مختص کیے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد غیر ملکی امداد روکنے کا حکم دیا تھا، تاہم اب یہ فنڈز جاری کیے جا رہے ہیں۔یہ کوئی معمولی خبر نہیں ہے۔ اس وقت امریکا دنیا میں کسی کو پیسے دینے کے موڈ میں نہیں ہے بلکہ پیسے لینے کے موڈ میں ہے۔ ایسے میں پاکستان کے لیے یو ایس ایڈ کی بحالی کوئی معمولی بات نہیں ہے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے پاکستان امریکا تعلقات کو سبوتاژ کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی گئی، اس حوالے سے کبھی امریکی کانگریس اراکین کے ذریعے خطوط لکھوائے گئے، کبھی آئی ایم ایف کو خطوط لکھ کر قرض پروگرام روکنے کی مذموم کوشش کی گئی۔امریکی ارکان کانگریس سے پاکستان کے خلاف توئٹس کرائے گئے۔ اس سے پہلے تو یو ایس کانگریس کی جانب سے قرار داد بھی منظور کرائی گئی ۔ بائیڈن انتظامیہ میں اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی بریفنگ میں خاص طور پر پاکستان مخالف سوال کرائے جاتے تھے۔ لیکن وہ نہ تب کامیاب ہوئے اور اب بھی ساری کوششیں ناکام ہی ہو گئی ہیں۔
ٹرمپ کے صدارت سنبھالنے کے بعد سے دنیا بدل گئی ہے۔ امریکا کے دوست بدل گئے ہیں، دشمن بدل گئے ہیں۔ دنیا کی ایک نئی صف بندی نظر آرہی ہے۔ کل تک امریکا کے قریبی اتحادی نظر آنے والے اب دشمن لگ رہے ہیں۔ جن کی دوستی کی مثالیں دی جاتی تھیں، وہ اب دشمن نظر آرہے ہیں۔ ایک نئی معاشی جنگ کا آغاز نظر آرہا ہے۔ آپ کینیڈا اور امریکا کے تعلقات کو ہی دیکھ لیں، کیا ہم سوچ بھی سکتے تھے کہ امریکا اور کینیڈا کے درمیان تعلقات اس قدر کشیدہ ہو سکتے ہیں کہ کینیڈا کی سالمیت ہی خطرے میں آجائے گی۔
یہی صورتحال یورپ کے ساتھ بھی ہے۔ کل کا مضبوط نیٹو اتحاد آج ٹوٹتا نظر آرہا ہے۔ امریکا یورپ سے دور ہو رہا ہے۔ سلامتی کونسل میں یوکرین کے موضوع پر قرار داد میں امریکا نے یورپ کی روس مخالف ترامیم مسترد کر دی ہیں۔ یورپ اور امریکا کی دوستی کے بجائے اب روس اور امریکا کی دوستی کی بات کی جا رہی ہے۔ ایک دم یورپ کمزور نظر آنے لگ گیا ہے۔ یوکرین میں یورپ کے سربراہی اجلاس میں امریکی نمایندہ موجود نہیں تھا۔ امریکا کا یوکرین روس جنگ کے خاتمے کا فارمولہ یورپ کے حق میں نہیں ہے۔ لیکن یورپ بے بس نظر آرہا ہے۔
اس لیے اس وقت امریکا دنیا میں پیسے خرچ کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ اس وقت امریکا دنیا سے اپنے خرچ کیے گئے پیسے واپس لینے کے موڈ میں ہے۔ آپ دیکھیں وہ عالمی تنظیموں سے اس لیے الگ ہو رہا ہے کہ وہاں امریکا کو زیادہ پیسے خرچ کرنے پڑ رہے تھے۔ اسے اب عالمی اداروں کی چودھراہٹ پیسے خرچ کر کے نہیں چاہیے۔ یہ سب منظر نامہ لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم سمجھ سکیں کہ اس موقع پر پاکستان کے لیے یوایس ایڈ کی بحالی کوئی معمولی بات نہیں۔ یقیناً بیک چینل پر پاکستان اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان بات چیت کافی حد تک کامیاب ہو گئی ہے، یہ اسی کامیابی کا اشارہ ہے۔
اسی طرح جب امریکی انتخابات میں واضح نظر آنے لگا کہ ٹرمپ نئے امریکی صدر ہوںگے تو بانی پی ٹی آئی اور اس کی جماعت نے یہ بیانیہ بنانے کی کوشش کی کہ جیسے ہی ٹرمپ اقتدار میں آئے گا بانی پی ٹی آئی جیل سے باہر ہوں گے مگر یہ سب کچھ پی ٹی آئی کے کارکنوں کو بیوقوف بنانے اور پاکستانی حکومت پردباؤ ڈالنے کی ایک ناکام کوشش تھی۔اب لگ رہا کہ وہ سب جھوٹ تھا۔ ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ صرف تحریک انصاف کے کارکنوں کو جھوٹی امید دلانے کی کوشش کی گئی تھی۔
پی ٹی آئی نے امریکی صدر ٹرمپ کے آنے کے بعد بھی خطوط کا سلسلہ جاری رکھا مگر اس میں نہ انھیں پہلے کامیابی ملی تھی اور نہ ہی اب ملی ہے لہٰذا پی ٹی آئی کا ٹرمپ کارڈ چل نہیں سکا۔ ابھی حال ہی میں عارف علوی جو پاکستان کے سابق صدر بھی ہیں نے دورہ امریکا کے دوران پاکستان کے حوالے سے جو زہر اگلا ، وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ ایک سابق صدر کو کیا یہ سب کچھ کرنا زیب دیتا ہے؟ جب کہ وہ ایک اعلیٰ عہدے پر فائز رہ کر وہ تمام مراعات حاصل کرتے رہے ہیں اور کر رہے ہیں، بہرحال پی ٹی آئی کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں اور امریکا پاکستان کے ساتھ معاشی، دفاعی اور دیگر شعبوں میں کام کرنے کے لیے پرعزم نظر آتا ہے۔
سابق صدر عار ف علوی نے بھی اپنے حالیہ دورے کے دوران یو ایس ایڈ کو ہی نشانے پر رکھا ہے۔ اور یہی بیانیہ بنانے کی کوشش کی ہے کہ یو ایس ایڈ ماضی میں غلط استعمال ہوئی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ انھوں نے کسی بڑے امریکی چینل کو نہیں بلکہ ایک مقامی چینل کو انٹرویو دیا ہے۔ جس کو پاکستان میں سوشل میڈیا میں ایسا ظاہر کیا گیا ہے جیسے امریکا کے کسی بڑے چینل نے ان کا انٹرویو کیا ہے۔