Daily Ausaf:
2025-02-28@12:40:27 GMT

استقبال رمضان۔۔۔روزے کی حقیقی روح

اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT

روزہ ’’صبروضبط،ایثارو ہمدردی اورایک دوسرے کے ساتھ حسنِ سلوک کی دعوت دیتاہے۔ اسے تزکیہ نفس اورقربِ الٰہی کا مثالی ذریعہ قراردیاگیاہے‘‘۔
اسلام دین فطرت ہے،اس نے ایسی جامع عبادات پیش کیں کہ انسان ہرجذبے میں اللہ کی پرستش کرسکے اوراپنے مقصدِحیات کے حصول کی خاطرحیاتِ مستعارکاہرلمحہ اپنے خالق ومالک کی رضاجوئی میں صرف کرسکے۔نماز،زکو،جہاد،حج اورماہِ رمضان کے روزے ان ہی کیفیات کے مظہرہیں۔مسلمانوں کورمضان المبارک کے عظیم الشان مہینہ کاشدت سے انتظاررہتاہے،اوراس کی تیاری شعبان المعظم کے مہینے سے شروع ہوجاتی ہے۔یہ مہینہ رحمت،برکت اورمغفرت والامہینہ ہے، نیکی اورثواب کمانے والامہینہ ہے،بخشش اور جہنم سے خلاصی کامہینہ ہے،اسی مہینہ میں بندے کواپنے رب سے قربت کاعظیم موقعہ ہاتھ آتا ہے۔ اس مہینے میں رضائے الٰہی اور جنت کی بشارت حاصل کرنے کے مواقع بڑھ جاتے ہیں،ذرا تصورکیجئے جب آپ کے گھرکسی اہم مہمان کی آمد ہوتی ہے توہم اورآپ کیاکرتے ہیں؟ہم بہت ساری تیاریاں کرتے ہیں۔گھرکی صاف صفائی کرتے ہیں،گھرآنگن کو خوب سجاتے ہیں،خودبھی زینت اختیارکرتے ہیں اوراہل وعیال کوبھی اچھے کپڑے پہنواتے ہیں،پورے گھرمیں خوشی کا ماحول ہوتاہے،بچے خوشی سے اچھل کودکرتے ہیں ۔مہمان کی خاطرتواضع کے لئے ان گنت پرتکلف سامان تیارکئے جاتے ہیں۔جب ایک مہمان کیلئے اس قدرتیاری تواللہ کی طرف سے بھیجاہوامہمان رمضان کامہینہ ہوتواس کی تیاری کس قدر ہونی چاہیے ۔
رمضان کے استقبال کابہترین طریقہ یہ ہے کہ اللہ کاشکراداکیاجائے کہ اس نے ہمیں یہ بابرکت مہینہ عطافرمایا۔خالص نیت کی جائے کہ روزے صرف اللہ کی رضا کے لئے رکھے جائیں گے۔ رسول اللہ ﷺجب رمضان کاچاند دیکھتے تویہ دعاپڑھتے:اے اللہ اس چاندکوہم پرامن،ایمان، سلامتی اوراسلام کے ساتھ طلوع فرما۔(ترمذی)
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے۔(البقرہ:185) لہٰذااس مہینے کااستقبال قرآن سے تعلق بڑھانے،تلاوت اور تدبرکے ساتھ کیاجائے۔ رسول اللہ ﷺرمضان سے پہلے ہی خصوصی عبادات بڑھادیتے تھے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں،آپ ﷺ شعبان میں اتنا روزہ رکھتے جتنا کسی اور مہینے میں نہیں رکھتے تھے (بخاری)اس سے رمضان کی تیاری کا درس ملتا ہے۔
نبی کریم ﷺنے شعبان کے اخیرمیں اس مہینہ کی عظمت اورشان وشوکت کواس لیے بیان فرمایاتاکہ لوگوں کواس کی قدرو منزلت کاعلم ہوسکے اوروہ رمضان کے اعمال کوکما حقہ اداکر سکیں۔ رمضان المبارک کامہینہ دراصل تربیت کامہینہ ہے،جس میں بھوکارہنے،اوردوسروں کی بھوک اورتکلیف کوسمجھنے کی تربیت ہوتی ہے۔سخت سے سخت حالات کاسامناکرنے کی تربیت ہوتی ہے۔ اللہ کی عبادت،اللہ کاذکر،اوراللہ کا دھیان حاصل کرنے کی مشق کی جاتی ہے۔اس کے روزے اورتراویح اس تربیتی مہینہ کانصاب ہے،اسی کو قرآن کریم میں رب العزت کاارشادہے’’اے ایمان والو!تم پرروزے فرض کئے گئے ہیں جیسے پچھلی امتوں پرفرض ہوئے تھے تاکہ تم پرہیزگاربنو۔(البقرہ:183)
یعنی روزہ کامقصد نفس کی تربیت ہے،کہ آدمی کے اندر ضبط کی صلاحیت پیداہو،تقویٰ ہو،اوروہ اپنے آپ کوگناہوں سے بچا سکے۔اس کورس پراگرکوئی عمل کرلیتاہے توبقیہ گیارہ مہینوں میں اس کیلئے عبادت کرنا اور گناہوں سے بچناآسان ہو جاتا ہے۔
رمضان کے روزوں کامقصد،پرہیزگاری کا حصول اورمومن کی تربیت اورریاضت کے ایام ہیں۔وہ رمضان کے روزوں اور عبادات سے اللہ تعالیٰ کی رضاحاصل کرسکتاہے۔ مسلمان حضورِاکرم ﷺسے محبت کااظہارآپ کی پیروی اوراتباع سے کرتاہے اوراپنی روح ونفس کاتزکیہ کرتاہے،تاکہ زندگی کے باقی ایام میں وہ تقویٰ اختیارکرسکے اوراپنے مقصد ِحیات یعنی اللہ کی بندگی اوراس کی رضاجوئی میں اپنی بقیہ زندگی کے دن بسرکرسکے۔
تمام عبادات انسان کے کسی نہ کسی جذبے کو ظاہرکرتی ہیں۔نمازخوف کو،زکو رحم کو،جہادغصہ وبرہمی اورغضب کوحج تسلیم ورضاکواورروزہ اللہ تعالیٰ سے محبت کوباقی عبادات کچھ اعمال کو بجالانے کانام ہیں،جنہیں دوسرے بھی دیکھ لیتے ہیں اورجان لیتے ہیں۔مثلاًنماز رکوع وسجوداوراسے باجماعت اداکرنے کاحکم ہے، جہاد کفارسے جنگ کانام ہے،زکو کسی کوکچھ رقم یامال دینے سے اداہوتی ہے لیکن روزہ کچھ دکھاکرکام کرنے کانام نہیں بلکہ روزہ توکچھ نہ کرنے کانام ہے۔وہ کسی کے بتلائے بھی معلوم نہیں ہوتابلکہ اس کوتووہی جانتاہے،جو رکھتا ہے اورجس کے لئے رکھاگیاہے۔لہنداروزہ محب صادق کااپنے محبوب کے حضورخاموش اورپوشیدہ نذرانہ ہے۔
نبی اکرمﷺنے فرمایاکہ اللہ کریم نے اپنے روزے داربندوں کے لئے ایک بے بہاانعام کااعلان فرمایاہے،وہ یہ کہ’’روزے دار‘‘روزہ میرے لئے رکھتا ہے،اورمیں خوداس کی جزا ہوں۔ اللہ رب العزت خودکوجس عمل کی جزافرمارہا ہوتواس کی عطااورانعام واکرام کاکیااندازہ ہوسکتاہے۔ روزہ دراصل بندے کی طرف سے اپنے کریم مولا کے حضورایک بے ریاہدیہ ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اتنے عظیم انعام واکرام کااعلان فرمایا ہے ۔
رمضان المبارک کے بہت سے فضائل وخصائص ہیں،ان میں سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ رمضان المبارک کے مہینے میں قرآنِ مجید نازل ہوا،اورقرآن پاک میں سال کے تمام مہینوں میں صرف ماہِ رمضان کانام صراحتاًآیاہے۔اس سے رمضان المبارک اورقرآن پاک میں گہری مناسبت اورزیادہ تعلق ثابت ہوتاہے، قرآن اوررمضان المبارک میں ایک گہری نسبت کاایک پہلویہ بھی ہے کہ اس ماہِ مبارک میں بالخصوص شب وروزقرآنِ کریم کی زیادہ تلاوت ہوتی ہے۔ماہِ رمضان المبارک وہ ہے جس کی شان میں قرآن کریم نازل ہوا،دوسرے یہ کہ قرآنِ کریم کے نزول کی ابتداماہِ رمضان میں ہوئی۔تیسرے یہ کہ قرآنِ کریم رمضان المبارک کی شبِ قدرمیں لوحِ محفوط سے آسمان سے دنیامیں اتاراگیااوربیت العزت میں رہا۔یہ اسی آسمان پرایک مقام ہے، یہاں سے وقتا فوقتا حسبِ اقتضائے حکمت جتنا منظورِالٰہی ہوا،حضرت جبریل امین علیہ السلام لاتے رہے اوریہ نزول تقریباً تئیس(23)سال کے عرصے میں پوراہوا۔
بہرحال قرآنِ مجیداورماہِ رمضان المبارک کاگہراتعلق ونسبت ہرطرح سے ثابت ہے اوریہ بلا شبہ اس ماہِ مبارک کی فضیلت کوظاہرکرتاہے۔روزہ اورقرآن مجید دونوں شفیع ہیں اور قیامت کے دن دونوں مل کی شفاعت کریں گے۔حضرت عبداللہ بن عمر راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا کہ روزہ اورقرآن مجیدبندے کے لئے شفاعت کریں گے ۔روزہ کہے گا کہ اے میرے رب!میں نے کھانے اور خواہشوں سے دن میں اسے روکے رکھا،تو میری شفاعت اس کے حق میں قبول فرما،قرآن کہے گا کہ اے میرے رب!میں نے اسے رات میں سونے سے باز رکھاتو میری شفاعت اس کے حق میں قبول فرما۔دونوں کی شفاعتیں قبول ہوں گی۔
حضورِ اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ رمضان آیا،یہ برکت کامہینہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کے روزے تم پرفرض کئے ہیں،اس میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بندکردیئے جاتے ہیں اورسرکش شیطانوں کے طوق ڈال دیئے جاتے ہیں اوراس میں ایک رات ایسی ہے جوہزارمہینوں سے بہترہے جواس کی بھلائی سے محروم رہا،وہ کل بھلائی سے محروم رہا۔
(جاری ہے)

.

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: اللہ تعالی جاتے ہیں رمضان کے مہینہ ہے کی تربیت ہوتی ہے ہیں اور اللہ کی کے لئے

پڑھیں:

سعودی عرب میں‌رمضان المبارک کا چاند آج نظرآنے کی امید، کل بروز ہفتہ پہلا روزہ ہوگا

ریاض(نیوزڈیسک) سعودی عرب میں آج جمعہ کی شام رمضان المبارک کا چاند نظر آنے کی امید، سعودی عرب میں عیدالفطر کی تعطیلات کا اعلان کر دیا گیا،

سعودیہ میں جمعہ کے روز چاند کی رویت پر پہلا روزہ یکم مارچ ہفتے کو ہوگا۔ چاند نظر نہ آنے کی صورت میں پہلا روزہ 2 مارچ کو اتوار کے روز ہوگا، رمضان کےدوران بینک صبح 10 سے سہ پہر 4 بجے تک کام کریں گے،

عیدالفطر کی تعطیلات کا آغاز یکم شوال بروز اتوار 30 مارچ سے ہوگا، عید کی چھٹیاں 4 شوال 2 اپریل بدھ تک جاری رہیں گی۔
دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے دوران دھماکہ، مولانا حامد الحق حقانی سمیت 5افراد جان کی بازی ہار گئے

متعلقہ مضامین

  • سعودی عرب میں‌رمضان المبارک کا چاند آج نظرآنے کی امید، کل بروز ہفتہ پہلا روزہ ہوگا
  • استقبال ماہ مبارک رمضان
  • مقصدیت رمضان المبارک
  • ماہِ رمضان کی تیاری، قرآن، سنت اور رومیؒ کی حکمت کی روشنی میں
  • رمضان المبارک اور قرآن کریم
  • رمضان المبارک اور قرآن مجید کا باہمی ربط
  • رمضان المبارک کا شان دار استقبال کیجیے
  • فضائلِ رمضان المبارک
  • مہنگائی کے طوفان سے رمضان المبارک کے استقبال کی تیاریاں