Daily Ausaf:
2025-02-28@13:00:12 GMT

مقصدیت رمضان المبارک

اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT

رمضان المبارک کا مقدس مہینہ مسلمانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت، مغفرت اور برکتوں کا خاص موقع ہوتا ہے۔ یہ مہینہ نہ صرف روحانی پاکیزگی اور تقویٰ حاصل کرنے کیلئے خاص ہے، بلکہ یہ انسان کو اپنے رب کے قریب کرنے، اپنی نفسانی خواہشات پر قابو پانے اور دوسروں کے ساتھ ہمدردی و تعاون کا جذبہ پیدا کرنے کا بھی بہترین موقع ہے۔ تقویٰ دل کی ایک ایسی کیفیت کا نام ہے کہ جس سے اللہ تعالیٰ کے خوف کے ساتھ اس کی رضا کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالا جا سکے۔ یہ ایک ایسی صفت ہے جو انسان کو گناہوں سے بچاتی ہے اور نیکی کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔ رمضان المبارک میں تقویٰ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی مقصدیت کو سمجھا جائے۔ روزہ صرف بھوکا اور پیاسا رہنے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک روحانی تربیت کا عمل ہے۔ روزے کے ذریعے ہم اپنے نفس کو قابو میں رکھتے ہیں اور اپنی خواہشات پر کنٹرول حاصل کرتے ہیں۔ روزے کی حالت میں ہر قسم کے گناہوں سے بچنا چاہیے، جیسے جھوٹ بولنا، غیبت کرنا، یا کسی کو تکلیف پہنچانا۔ یہ عمل ہمیں تقویٰ کی طرف لے جاتا ہے۔
رمضان المبارک کا استقبال کرتے ہوئے ہمیں اس کی عظمت، فضیلت اور اس میں موجود برکتوں کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ کما حقہ اس سے مستفید ہو سکیں۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن مجید نازل ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کو دیگر مہینوں پر فضیلت عطا کی ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے “رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور رہنمائی اور حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی واضح نشانیوں پر مشتمل ہے۔” (سورۃ البقرہ، آیت 185)
اس مہینے میں اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں اپنے عروج پر ہوتی ہیں۔ شیطان کو قید کر دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے انسان کو نیکی کی راہ پر چلنا آسان ہو جاتا ہے۔ رمضان کے روزے رکھنا ہر عاقل و بالغ مسلمان پر فرض ہے، اور یہ ایمان اور صبر کا ایک بہترین امتحان ہے۔ روزہ انسان کو نفسانی خواہشات پر قابو پانے کی تربیت دینے کے ساتھ ساتھ صبر و تحمل کا درس بھی دیتا ہے۔ اس کے علاوہ، رمضان المبارک میں غریبوں، مسکینوں اور ضرورت مندوں کی مدد کرنے کا جذبہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ جس کے ذریعے معاشرے میں مالی توازن قائم ہوتا ہے۔ رمضان المبارک کا استقبال کرنے کے لیے ہمیں پہلے سے تیاری کرنی چاہیے۔ یہ تیاری جسمانی، روحانی اور ذہنی ہر لحاظ سے ہونی چاہیے۔ رمضان سے پہلے ہی توبہ و استغفار کر کے اپنے دل کو گناہوں سے پاک کر لینا چاہیے۔ نماز، تلاوت قرآن اور ذکر و اذکار کا اہتمام بڑھا دینا چاہیے تاکہ رمضان میں زیادہ سے زیادہ عبادت کا لطف اٹھایا جا سکے۔ روزے کی حالت میں توانائی برقرار رکھنے کے لیے صحت مند غذا کا استعمال ضروری ہے۔ سحری اور افطاری میں متوازن غذا کا انتخاب ہو تاکہ روزے کے دوران جسم کو کمزوری محسوس نہ ہو۔ اپنے اپنے نظام الاوقات اور مصروفیات کے مطابق رمضان کے لیے ایک منصوبہ بندی کر لینی چاہیے کہ اس مہینے میں کون سی عبادات پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔ مثلاً قرآن مجید کی تلاوت، تراویح کی نماز، دعاؤں اور صدقات کا اہتمام کرنا وغیرھم۔ علاوہ ازیں رمضان المبارک کے کچھ آداب ہیں جن کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ سحری کرنا سنت ہے اور اس میں برکت ہوتی ہے۔ افطاری میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ رمضان المبارک کا پیغام یہ ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ڈھالیں۔ یہ مہینہ ہمیں صبر، ہمدردی، ایثار اور تقویٰ کی تعلیم دیتا ہے۔ اس مہینے میں ہمیں اپنے اردگرد کے لوگوں کی مدد کرنی چاہیے، خاص طور پر غریبوں اور مسکینوں کی۔ رمضان ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ ہم اپنی نفسانی خواہشات پر قابو پا کر ایک بہتر انسان بن سکتے ہیں۔ رمضان المبارک کا استقبال کرتے ہوئے ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم اس مہینے کی قدر کریں گے اور اس میں زیادہ سے زیادہ عبادت کریں گے۔ یہ مہینہ ہمیں اپنے رب کے قریب کرنے اور اپنی زندگیوں کو سنوارنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ اس مہینے میں کثرت سے دعا کرنی چاہیے اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہیے۔ استغفار کرنے سے دل پاکیزہ ہوتا ہے اور انسان تقویٰ کی طرف مائل ہوتا ہے۔ رمضان المبارک میں نفس کی تربیت پر خاص توجہ دینی چاہیے۔ ہر قسم کی بری عادات، جیسے غصہ، حسد، تکبر اور لالچ سے بچنا چاہیے۔ نفس کو قابو میں رکھنے کے لیے روزہ ایک بہترین ذریعہ ہے۔ رمضان المبارک میں دوسروں کو معاف کرنے کا جذبہ پیدا کرنا چاہیے۔ اگر کسی سے کوئی غلطی ہو گئی ہو تو اسے معاف کر دینا چاہیے۔ یہ عمل دل کو صاف کرتا ہے اور تقویٰ حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے۔ رمضان المبارک میں اپنے اخلاق کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ دوسروں کے ساتھ نرمی، محبت اور ہمدردی سے پیش آنا چاہیے۔ یہ عمل ہمیں تقویٰ کی طرف لے جاتا ہے۔ رمضان المبارک میں وقت کی قدر کرنا بہت ضروری ہے۔ اس مہینے میں ہر لمحہ عبادت اور نیکی کے کاموں میں گزارنا چاہیے۔ فضول باتوں اور کاموں سے بچنا چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ ثواب حاصل کیا جا سکے۔ ہر عمل خیر کرتے ہوئے اللہ تعالٰی کی رضا مقصود ہو چاہے وہ روزہ ہو، نماز ہو، یا کوئی اور نیکی کا کام۔ ہر عمل میں اخلاص اور للہیت کا عنصر نمایاں ہو تاکہ وہ عبادات عند اللہ شرف قبولیت پائیں۔ یہی تقویٰ کی اصل روح ہے۔ روزہ رکھنے سے انسان کو بھوک اور پیاس کا احساس ہوتا ہے، جو اسے غریبوں کی تکلیف کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ احساس انسان میں ہمدردی اور ایثار کا جذبہ پیدا کرتا ہے، جس کی وجہ سے وہ غریبوں کی مدد کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ رمضان المبارک میں افطاری کا اہتمام کرنا ایک سنت ہے۔ بہت سے لوگ مساجد یا اپنے گھروں میں افطاری کا انتظام کرتے ہیں اور غریبوں کو دعوت دیتے ہیں۔ اس طرح غریبوں کو کھانا کھلانے کا موقع ملتا ہے، اور وہ بھی روزہ افطار کرنے کی خوشی محسوس کرتے ہیں۔ رمضان المبارک میں غریبوں کی مدد کرنا اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے”اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو، اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اور احسان کرو، بے شک اللہ محسنین کو پسند کرتا ہے۔” (سورۃ البقرہ، آیت 195)
رمضان المبارک میں غریبوں کی مدد کرتے وقت ان کی عزت نفس کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔ صدقہ و خیرات دیتے وقت انہیں شرمندہ نہیں کرنا چاہیے، بلکہ ان کی مدد محبت اور احترام کے ساتھ کرنی چاہیے۔ رمضان المبارک میں مسلمان اجتماعی خدمت کے جذبے سے سرشار ہوتے ہیں۔ بہت سے لوگ اجتماعی افطاری کا اہتمام کرتے ہیں، جس میں غریبوں اور مسکینوں کو کھانا کھلایا جاتا ہے۔ یہ عمل معاشرے میں اتحاد اور بھائی چارے کو فروغ دیتا ہے۔ رمضان المبارک غریب پروری کا مہینہ ہے، کیونکہ یہ مہینہ انسانوں میں ہمدردی، ایثار اور دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ رمضان المبارک کے اختتام پر صدقہ فطر ادا کیا جاتا ہے، جو غریبوں اور مسکینوں کی مدد کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ فطرہ ہر اس مسلمان پر فرض ہے جس پر ذکوة فرض ہے۔ یہ رقم غریبوں کو دی جاتی ہے تاکہ وہ بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان المبارک کی برکتوں سے مستفید ہونے اور غریبوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

.

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: رمضان المبارک میں رمضان المبارک کا غریبوں کی مدد کا جذبہ پیدا اس مہینے میں کرنی چاہیے اللہ تعالی خواہشات پر کا اہتمام یہ مہینہ ضروری ہے انسان کو کرتے ہیں کرنے کا ہوتا ہے کے ساتھ کرتا ہے دیتا ہے ہے اور کے لیے یہ عمل کی رضا اپنے ا

پڑھیں:

ماہِ رمضان خوش آمدید

اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان چاند سورج کی تخلیق کے بعد سال کے بارہ مہینے مقرر فرمائے۔ اسلامی سن کا آغاز ہجرت نبوی ﷺ سے ہوا، بارہ مہینوں میں سے ایک مہینہ کا نام ماہ رمضان ہے۔ ماہِ رمضان کی تمام تر رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ آمد آمد ہے، شعبان کے آخری ایام ہیں، اس ماہ کی 29 یا 30 تاریخ کو رمضان المبارک کا چاند نظر آئے گا، یہ کوئی معمولی چاند نہیں ہوگا، یہ ماہِ رمضان کا چاند ہو گا، ایمان کا چاند ہوگا، توحید اور قرآن کا چاندہوگا، روزے اور نماز کا چاند ہوگا، توبہ و استغفار کا چاند ہوگا، فیاضی و سخاوت کاچاند ہوگا، دعا اور امید کا چاند ہوگا، نجات اور آزادی کا چاند ہوگا، رمضان کا چاند ایسا ہی ہوتا ہے۔ اس چاند کے نظر آتے ہی شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔

 پوری کائنات پر گویا اللہ کی رحمتوں کی چادر سی تن جاتی ہے، ہر مسلمان کا دل موم ہوجاتا ہے، ہر زبان اللہ کے ذکر سے معطر ہو جاتی ہے، ہر دل عبادات و مناجات میں محو ہو جاتا ہے، مساجد کی رونقیں دوبالا ہو جاتی ہیں، گھروں میں جائے نماز بچھ جاتے ہیں، طاقوں میں رکھے قرآن کھل جاتے ہیں، سحر و افطار کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں، یہ سب ماہِ رمضان کی برکتوں کا مظہر ہوتا ہے۔ جب رمضان المبارک کا مہینہ آتا تو امام الانبیاء صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو یہ دعا سکھاتے تھے کہ وہ اس طرح دعا کریں:

ترجمہ: اے اللہ! آپ مجھے اس مہینے میں (گناہوں سے) بچا لیجیے، اور مجھے رمضان تک پہنچا دیجیے، اور اس مہینے کی (عبادات )کو میری طرف سے قبول فرمائیے۔

طبرانی میں روایت ہے کہ مسلمان رمضان کا مہینہ داخل ہونے پر یہ دعا کیا کرتے تھے:

ترجمہ: اے اللہ! رمضان کا مہینہ قریب آگیا، پس آپ اس مہینے کو میری سلامتی کا ذریعہ بنائیے اور مجھے اس مہینے میں گناہوں سے محفوظ فرمائیے اور میری طرف سے اسے سلامتی والا بنائیے۔ اے اللہ! مجھے صبر اور اجر کی امید کے ساتھ اس کے روزے اور راتوں کی عبادت کی توفیق عطا فرمائیے، اور اس مہینے میں مجھے کوشش کرنے کی، محنت کرنے کی، طاقت کی اور چستی کی توفیق عطا فرمائیے، اور مجھے بچا لیجیے اس مہینے میں اکتاہٹ، تھکنے، سستی اور اونگنے سے، اور اس مہینے میں مجھے شب قدر نصیب فرمائیے جس کو آپ نے ہزار مہینے سے بہتر بنایا ہے۔

ہر مسلمان کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ ہم رمضان کا مہینہ ایسے گزاریں جیسے امام الانبیاء ﷺ گزارتے تھے، اب سوال یہ ہے کہ امام الانبیاء ﷺ رمضان کیسے گزارتے تھے ؟ اکابر علماء فرماتے ہیں کہ آپﷺ کا خود یہ عالم ہوتا کہ آپﷺ کی تلاوت میں اضافہ ہوجاتا حتیٰ کہ جبرئیل امین کے ساتھ قرآن کا دور ہوتا، آپﷺ کی نمازوں کی کیفیت بدل جاتی، آپﷺ کی سخاوت ہوا کی رفتار سے چلتی اور دریا کی رفتار سے بہتی، کبھی پورے مہینہ کے لیے مسجد میں معتکف ہوجاتے، کبھی 20 دن کے لیے، اخیر عشرہ کا اعتکاف تو آپ نے پوری زندگی بڑے اہتمام سے کیا ہے۔ رمضان المبارک میں آپﷺ کے چہرے کا رنگ متغیر ہوجاتا، زیادہ سے زیادہ عبادت، تلاوت اور دوسرے کارخیر کی فکر ہمیشہ آپ کے قلب ودماغ پر چھائی رہتی، دعاؤں کا اہتمام بڑھ جاتا، راحت وآرام اور بستر کو الوداع کہہ دیا جاتا۔ آپﷺ کا رمضان عبادت وریاضت کا ایک مثالی مہینہ ہوتا تھا۔

ہم خوش نصیب ہیں کہ ہماری زندگیوں میں ایک بار پھر یہ رحمتوں والا مہینہ آرہا ہے، ہم میں سے ہر ایک کی کوشش یہی ہونی چاہیے کہ اسے آقا کریمﷺ کے طریقے کے مطابق گزاریں، رمضان المبارک کے موقع کو ہمیں غنیمت سمجھنا چاہیے، اس کی ایک ایک ساعت اور گھڑی کے ہم قدر کرنے والے بنیں، رمضان کے مبارک مہینہ میں جہاں اپنے اور اپنے اہل خانہ کے لیے افطار کا انتظام کرنا باعث ثواب ہے، وہیں مسافروں، غریبوں، راہگیروں اور مدارس کے غریب و نادار طلباء و اساتذہ کرام کا خیال رکھنا بڑے اجر کا کام ہے، یہ ایک بڑی فضیلت اور فائدے کی چیزہے، اس فضیلت کو حاصل کرنے کا موقع ہمیں صرف رمضان کے مہینہ میں ہی پورے طور پر ملتا ہے۔

رمضان المبارک کے مہینہ میں ایک اہم اور روزانہ ادا کی جانے والی عبادت تراویح کی نماز بھی ہے، ہمیں رمضان کی راتوں کو تراویح اور تہجد سے زندہ رکھنا چاہیے۔ اس مہینہ کی صحیح قدر اسی وقت ہوگی، جب ہم اس کے ایک ایک پیغام کوملحوظ رکھیں اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں، رمضان المبارک کی ایک بڑی صفت اور خاصیت یہ ہے کہ یہ ہمیں صبر، غم خواری اور خیر خواہی کی دعوت دیتا ہے، یعنی ہمیں اس مہینہ میں طبیعت کے خلاف اور ناپسندیدہ باتوں کو بہت ہی تحمل کے ساتھ برداشت کرنا چاہیے، اسی لیے آپﷺ اس مہینہ میں کثرت سے سخاوت فرماتے تھے اور لوگوں پر خرچ کرتے تھے، اگرچہ آپ کی سخاوت پورے سال جاری رہتی تھی۔ شب قدر بڑی انمول نعمت ہے، اللہ تعالیٰ نے یہ مبارک رات صرف اس امت کو عطا کی ہے، غالب گمان یہی ہے کہ یہ رات رمضان کے مہینہ اور اس کے آخری عشرہ میں ہوتی ہے۔

 اس رات کی فضیلت اور منفعت انتہائی عظیم ہے، اس رات کی عبادت کو اللہ تعالیٰ نے اپنے مقدس کلام میں ہزار مہینہ کی عبادت سے بھی بہتر قرار دیا ہے۔ رمضان کی خاص اور اپنی نوعیت کی ایک انوکھی عبادت اعتکاف ہے، رسول اللہﷺ پابندی سے اخیر عشرہ کا اعتکاف فرماتے تھے، اس خصوصی عبادت کی احادیث مبارکہ میں بڑی فضیلت آئی ہے، اس کا ایک بڑا فائدہ رسول اللہﷺ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اس کی وجہ سے انسان گناہوں سے محفوظ رہتا ہے۔ ہر طرف سے تعلق ختم کرکے بندہ اللہ کی طرف یکسو اور متوجہ ہوجاتا، اس کے در پہ پڑجاتا اور بالکل علیحدہ ہوکر اس کی عبادت اور اس کے ذکر وفکر میں مشغول رہتاہے۔

 اس مقدس مہینہ میںجہاں عبادات و مناجات کا اہتمام ازحد ضروری ہے وہاں ہر طرح کے گناہ سے پرہیز کرنابھی بے حد ضروری ہے، خدا نخواستہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم رمضان سے محروم لوگوں میں شامل ہوجائیں، بجائے سعادت مندی کے بد بختی ہمارے ہاتھ آئے، بجائے رحمت الٰہی کے، فرشتوں کی لعنت ہم پر برسے اور نہ جانے ان سب کی تلافی کے لیے اگلا رمضان ملے یا نہ ملے۔ مبارک مہینہ کی ناقدری کرنے والے کو کبھی حضرت جبرئیلؑ نے اس طرح بد دعا دی"ہلاک ہو وہ شخص جس نے رمضان المبارک کا مہینہ پایا پھر بھی اس کی مغفرت نہ ہوسکی"۔ جس پر آپﷺ نے آمین کہا۔ کبھی آپﷺ نے ایسے شخص کے بارے میں فرمایاکہ"بد بخت ہے وہ شخص جو اس ماہ مبارک میں بھی باران رحمت سے محروم رہا"۔ (کنز العمال، حدیث نمبر: 23693)

 ایک جگہ آپﷺ نے فرمایا "جس کی رمضان میں مغفرت نہ ہوسکی تو پھر کب ہوگی"۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث نمبر: 8963)

رمضان المبارک کے مہینہ میں بھی جو لوگ گناہوں میں ملوث رہتے ہیں، ان کے بارے میں اللہ کے نبیﷺ کی وعید ہے کہ "اگلے ایک سال تک فرشتے ان پر لعنت کرتے رہتے ہیں"۔ (کنزالعمال، حدیث نمبر: 23724)

ایک روایت میں اللہ کے نبیﷺ کا فرمان ہے کہ"میری امت اس وقت تک ذلیل وخوار نہیں ہوسکتی، جب تک وہ روزوں کا اہتمام کرتی رہے"۔ (کنز العمال، حدیث نمبر 23701)

ایک جگہ رمضان کے نا قدروں کے بارے میں رحمۃ للعالمینﷺ نے فرمایا کہ "اللہ تعالی کو کوئی ضرورت نہیں کہ ایسے لوگ بھوکے پیاسے رہیں یعنی اللہ کے یہاں ان کے اس عمل کی کوئی وقعت اور اہمیت نہیں"۔ اللہ کریم ہم سب کو اس رمضان کو اس طرح گزارنے کی توفیق عطا فرمائے جس طرح نبی کریمﷺ گزارا کرتے تھے۔ آمین یا رب العالمین

متعلقہ مضامین

  • استقبال ماہ مبارک رمضان
  • استقبال رمضان۔۔۔روزے کی حقیقی روح
  • ماہِ رمضان کی تیاری، قرآن، سنت اور رومیؒ کی حکمت کی روشنی میں
  • نواز شریف کا رمضان المبارک کے بعد صوبہ بھر میں دورے کرنے کا فیصلہ
  • پہلا روزہ اتوار کے روز ہونے کا امکان
  • رمضان المبارک اور قرآن کریم
  • رمضان المبارک اور قرآن مجید کا باہمی ربط
  • رمضان المبارک: اسلام آباد کے 17 مقامات پر فیئر پرائس شاپس قائم کرنے کا فیصلہ
  • ماہِ رمضان خوش آمدید