Daily Ausaf:
2025-02-28@12:43:55 GMT

کاروبار کی کامیابی کا راز

اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT

جس کاروبار نے بڑے لیول پر کامیاب ہونا ہو وہ اپنے آغاز میں خود پر کیئے گئے ہوم ورک ہی سے نمایاں ہو جاتا ہے۔ ہمارے ہاں نئے کاروبار کے ناکام ہونے کا تناسب اسی فیصد تک ہے، جو اپنی ابتدا ہی میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم کاروبار کو پوری تیاری اور تحقیق کے بغیر شروع کرتے ہیں۔ آپ کامیاب کاروباری گروپس، ملٹی نیشنل کمپنیوں اور امیر ترین کاروباری افراد کی تاریخ کو پڑھ کر دیکھ لیں ان میں اکثر نے نچلی سطح سے اوپر اٹھ کر کامیابی حاصل کی۔ چھوٹی کمپنیاں اپنی لیڈرشپ، تجربے اور مخلص اسٹاف کی وجہ سے ترقی کرتی ہیں جبکہ کسی کمپنی میں کام کرنے والا ایک عام ورکر اپنا کاروبار شروع کرتا ہے تو وہ ترقی کرتے کرتے اپنی مدر کمپنی کو بھی بہت پیچھے چھوڑ جاتا ہے، کیونکہ وہ اپنی کامیابی کے لئے مزدور کے طور پر تجربہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ وہ اپنا ذاتی کاروبار شروع کرنے کے لیئے اندر ہی اندر خود کو تیار بھی کرتا رہتا ہے۔ایک کامیاب کاروبار کی مثال ایک ماہر تعمیرات انجینئر یا آرکیٹیکچرکی سی ہے جو پتھر، سیمنٹ، لوہے اور لکڑی وغیرہ کی حقیقی عمارت کھڑی کرنے سے پہلے وہ اس عمارت کو قبل تجربی کے انداز میں اپنے دماغ میں کھڑا کرتا ہے۔ کسی عمارت کا نقشہ دراصل وہ خاکہ یا آئوٹ لائنز ہوتی ہیں جو عمارت تعمیر کرنے سے پہلے اس مجوزہ انجینئر کے دماغ میں پیدا ہوتی ہیں کہ زیر نظر عمارت کی کتنی اونچائی کتنے کمرے، کتنی کھڑکیاں اور کتنے کو ریڈورز وغیرہ ہیں اور کہاں کہاں ہیں۔ اسی طرح ایک ممکنہ کامیاب کاروبار بھی کسی کاروبار کے مالک یا پائنیر کی تخلیق کا نتیجہ ہوتا ہے، جس نے اس کاروبار سے متعلقہ مارکیٹ، مقابلے، افرادی قوت، حتی کے اس کاروبار کے ہر شعبے اور کامیابی و ناکامی کے حتی المقدور تمام امکانات پر پوری تیاری کر رکھی ہوتی ہے۔جیسے انگریزی کا ایک محاورہ ہے کہ:”Well Begun Is Half Done” جس کا مطلب ہے کہ اچھے طریقے سے شروع کیا گیا کام یا کاروبار اپنے آغاز کے ساتھ ہی آدھا مکمل ہو جاتا ہے اسی طرح کاروبار کا اچھا آغاز کیا جائے یعنی پوری تیاری اور ’’ہوم ورک‘‘کے بعد کاروبار کو شروع کیا جائے تو اس کی کامیابی کے 50 فیصد امکانات مزید بڑھ جاتے ہیں۔
میرے خیال میں تو کاروبار کی کامیابی کا سارا انحصار ہی فقط اس پر کئے گئے ہوم ورک پر ہے جس کے دوران آپ کاروبار کے ناکام ہونے کے تقریبا ًسارے امکانات کا قبل از وقت جائزہ لے کر ان کا تدارک کر لیتے ہیں یعنی ناکامی کے تمام سوراخ آپ پہلے ہی بند کر لیتے ہیں۔ لھذا ہمارے نئے کاروبار کی 80 فیصد ناکامی کا یہی کارن ہوتا ہے کہ ہم نئے کاروبار پر ذہنی یا معلوماتی کام کیئے بغیر اس کا آغاز کرتے ہیں جو عموما ابتدا ہی میں ناکامی سے دوچار ہو جاتا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ بعض نیا کاروبار شروع کرنے والے تو کاروبار کے ہوم ورک میں اتنے کورے ہوتے ہیں، یا اتنی جلد بازی سے کاروبار شروع کرتے ہیں کہ آغاز ہی میں ان سے غلطیاں ہو جاتی ہیں جن کا بعد میں ازالہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ جلدی میں ہمارا دماغ کام نہیں کرتا، جیسا کہ انگریزی کا محاورہ ہے کہ Hurry Creates Worry یا کچھ افراد وافر پیسے اور کاروبار کے شوق میں آ کر کاروبار تو شروع کر لیتے ہیں مگر انہیں یہ تک پتہ نہیں ہوتا کہ کونسا کاروبار کرنا ہے یا اس کی ابتدا کیسی تیاری اور کس دھماکے کے ساتھ کرنی ہے کہ ان کے کاروبار کی شروع ہی میں دھاک بیٹھ جائے۔جرمن فلسفی امانوئل کانٹ کی علم انسانی کے بارے ایک اصطلاح ’’قبل تجربی‘‘ہے جس کا مطلب وہ علم ہے جو بدیہی طور پر حاصل ہوتا ہے اور جسے تجربے سے گزارنے سے پہلے ہی ہم اپنے تخیل اور مشاہدے کے زور پر حاصل کر لیتے ہیں۔ کاروبار میں ’’بدیہی علم‘‘حقیقی اور تجرباتی علم سے زیادہ طاقت رکھتا ہے کیونکہ کاروبار میں اس کا کلی تعلق نفع اور نقصان کے ساتھ منسلک ہوتا ہے۔ اگر آپ کاروبار بغیر کسی ریسرچ اور ہوم ورک کے شروع کر دیتے ہیں تو اس کی مثال اندھیرے میں چھلانگ لگانے کے مترادف ہے کہ جس کے مثبت اور منفی نتائج آپ کے اختیار سے باہر نکل جاتے ہیں۔اس کی ایک اور سادہ اور عام فہم مثال افلاطون کے اس واقعہ سے بھی دی جا سکتی ہے کہ جس کے مطابق ایک دفعہ وہ اپنی کلاس کے ایک شاگرد کو پانی کا ایک مٹکا بھر کر لانے کو کہتے ہیں مگر اسے واپس بلا کر ایک تھپڑ رسید کرتے ہیں کہ پانی کا مٹکا گرا کر توڑنا نہیں ہے۔ اس پر شاگرد حیران ہو کر کہتا ہے کہ ’’مٹکا تو میں نے ابھی توڑا ہی نہیں ہے مگر مجھے یہ تھپڑ کیوں مارا گیا ہے تو افلاطون کہتا ہے‘‘ مٹکا ٹوٹنے کے بعد تھپڑ مارا تو اس کا کیا فائدہ ہو گا، تم جائو پانی احتیاط سے بھر کر لانا۔ ’’میں متحدہ عرب امارات دبئی میں رہتا ہوں اور کاروباری مشورے دینا میرا پیشہ ہے۔ نیا کاروبار شروع کرنے کے بارے اکثر لوگ مجھ سے معلومات لیتے رہتے ہیں اور بعض اوقات ’’انوسٹمنٹ‘‘بھی بھیج دیتے ہیں مگر میں نے اکثر نوٹ کیا ہے کہ وہ نیا کاروبار شروع کرنے کے لئے ہوم ورک نہیں کرتے یا ذہنی طور پر تیار نہیں ہوتے ہیں۔
کاروباری کامیابی کانٹ یا افلاطون کا کوئی مشکل اور پیچیدہ مسئلہ نہیں ہے کہ جسے سمجھا نہ جا سکے۔دبئی میں کامیاب کاروبار زیادہ تر کم پڑھے لکھے یا ان پڑھ چلا رہے ہیں۔ دبئی میٹروپولیٹن سٹی ہے یہاں کامیابی کے بہت زیادہ مواقع موجود ہیں۔

.

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کاروبار شروع کرنے کامیاب کاروبار کر لیتے ہیں کاروبار کے کاروبار کی ہو جاتا ہے کرتے ہیں ہوم ورک ہوتا ہے کرنے کے کے ساتھ ہی میں

پڑھیں:

باغبان

والدین کا رشتہ انمول ہے مگر کبھی کبھار یہی رشتہ بچے کی زندگی کو بے مول بنا کر رکھ دیتا ہے۔ سب والدین اولاد کو پالتے ہیں، بنیادی ضروریات پوری کرتے ہیں لیکن بہت کم ہیں جو ان کی پرورش کرتے ہیں۔

اس کی ایک مثال اس طرح ہے کہ جیسے باغبان پودوں کا خیال رکھتا ہے، وہ ہر پودے کو اس کے مزاج کے مطابق رکھتا ہے، کچھ پودے دھوپ میں پھلتے پھولتے ہیں تو کچھ چھاؤں میں زندہ رہتے ہیں جبکہ دھوپ میں مرجھا جاتے ہیں۔ جو پودا اپنے مزاج کے مطابق رکھا جائے وہی بہترین پھل بھی دے گا، ورنہ وہ جلا سڑا آپ کے آنگن میں پڑا تو رہے گا لیکن پھل نہ دے گا۔

بہت سے والدین ماں باپ تو بن جاتے ہیں اور بچے کی زندگی کی ظاہری ضروریات کو پورا بھی کر رہے ہوتے ہیں، لیکن ساتھ ساتھ اپنے منفی رویے سے ان کی شخصیت اور ذہنی صحت کو تباہ کر رہے ہوتے ہیں۔ بچوں کی تذلیل کرتے ہیں۔ ان سے بہت سی اُمیدیں بچپن سے ہی رکھتے ہیں، اس وجہ سے بے جا روک ٹوک، ڈانٹ ڈپٹ اور مار پیٹ کرتے ہیں۔ اپنی مرضی کی تعلیم دلوا کر اپنی پسند کے شعبے سے وابستہ کرنا چاہتے ہیں۔ جبکہ بچے کی پسند ناپسند ان کےلیے معنی ہی نہیں رکھتی اور جب وہ اچھے گریڈز نہیں لے پاتا تو اس کی ذات کو نشانہ بناتے ہیں اور تمام تر ناکامی کی ذمے داری اُس پر ڈال دیتے ہیں۔

ماں باپ کی آپس کی نااتفاقی اور گھریلو لڑائی جھگڑے بھی بچوں پر منفی اثرات کا باعث بنتے ہیں اور ان کی تعلیم و تربیت اور ذہنی صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ جبکہ کچھ والدین کی لاپرواہی سے بچہ نہ صرف نظر انداز ہوتا ہے بلکہ تمام عمر احساس محرومی کا شکار بھی رہتا ہے۔ وہ والدین کی نہ ملنے والی توجہ اور محبت دوسروں میں تلاش کرتا ہے جس کے نتائج بدتر بھی ہوسکتے ہیں۔

یونیسیف کی 11 جون 2024 کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 400 ملین چھوٹے بچے گھر میں تشدد کا شکار ہوتے ہیں۔

والدین کا بچوں کی غلط باتوں میں بھی ان کی حوصلہ افزائی کرنا ان میں جھوٹ، چوری، گالم گلوچ، مار کٹائی جیسی بری خصلتوں کی حوصلہ افزائی کرنا نہ صرف انہیں بری اولاد بناتا ہے بلکہ معاشرے کو ایک ناسور دے دیا جاتا ہے۔

ایسے والدین کی اولاد جب شادی کی عمر کو پہنچتی ہے تو یہاں بھی یہ لوگ اولاد کے ساتھ ناانصافی کرجاتے ہیں۔ کچھ لوگ بچوں کو ایک اے ٹی ایم کی طرح استعمال کرتے ہیں جبکہ ان کےلیے اولاد کی خوشی اور ذہنی سکون ان کےلیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ یہاں اولاد سے محبت کے بجائے سراسر خود غرضی کا رشتہ رکھا جاتا ہے۔ والدین بس اپنی خوشی اور سکون کا سوچ کر اولاد کی زندگی تک برباد کر دیتے ہیں، اس خوف سے اس کی شادی میں بے جا تاخیر کی جاتی ہے کہ کہیں ان سے آسائشیں چھین نہ لی جائیں یا پھر ان کا لائف پارٹنر آ بھی جائے تو دونوں میاں بیوی کے درمیان اس قدر جھگڑے کرواتے ہیں کہ نوبت طلاق تک آجاتی ہے یا پھر فضول خرچ کرواتے ہیں  کہ وہ اپنے لائف پارٹنر یا بچوں کےلیے کوئی سیونگ یا ان کے مستقبل کےلیے کوئی منصوبہ بندی کر ہی نہیں پاتے۔

والدین کی بنیادی ضروریات پوری کرنا اولاد پر فرض ہے، ان کی خوشی کا خیال رکھنا لازم ہے۔ وہ ہمیں پالتے ہیں، اچھی تعلیم دلواتے ہیں، اپنی خواہشات کو قربان کرکے ہماری خواہشات پوری کرتے ہیں۔ مگر یہاں بات ہو رہی ہے ان والدین کی جو سازشیں کرتے ہیں، بہو سے حسد میں اولاد کو تباہ کرنے کی ٹھان لیتے ہیں۔ 

اسی طرح اکثر زمینداروں یا جائیداد رکھنے والے منفی سوچ کے والدین اپنی بیٹیوں کی زندگی تباہ کرتے ہیں۔ ذات پات کا بہانہ بنا کر یا سوشل اسٹیٹس کا ایشو بنا کر اس کے بالوں میں چاندی اُترنے کا انتظار کرتے ہیں تاکہ ان کی بیٹی کے حصے کی جائیداد بیٹوں کے ہاتھ میں ہی رہے۔ جبکہ شادی شدہ بہنوں کا حصہ بھی بھائی کھا جاتے ہیں۔ اس میں بھی وہ والدین قصوروار ہیں جو زندگی میں اپنی اولاد میں انصاف سے سب تقسیم کرکے نہیں جاتے ہیں۔

اولاد کی شادی میں پسند اور ناپسند کو مد نظر رکھنا بھی ایک اہم جز ہے۔ جبکہ اس میں بھی چند والدین ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ کچھ تو اپنی زندگی میں اتنے مگن ہوتے ہیں کہ ان کو اپنی اولاد کی ڈھلتی عمر کی فکر ہی نہیں ہوتی ہے یا انہیں بڑھاپے کا سہارا بنانے کےلیے استعمال کیے جارہے ہوتے ہیں، یا پھر ان کی شادی ان کی مرضی کے بغیر کردی جاتی ہے۔

تمام عمر انہیں احساسات دبانے کو باعث ثواب قرار دیا جاتا ہے۔ اور جو ہمسفر آپ کےلیے پسند کیا جائے وہ بدکردار ہو یا نفسیاتی مسائل کا شکار، اسے بھی اپنا نصیب سمجھ کر برداشت کرنے کا درس دیا جائے گا۔

یہ سب بیٹا بیٹی دونوں کےلیے ہی تکلیف دہ ہوتا ہے مگر خاص کر بیٹی کےلیے بہت اذیت کا باعث ہے۔ کیونکہ بیٹا تو شاید ہمسفر کا دماغ یا کردار ٹھیک نہ ہونے پر اس سے جان چھڑوا لے مگر بیٹی کہاں جائے؟ وہ شادی سے پہلے بھی اذیت میں رہی اور شادی کے بعد بھی سسرال میں میکے جیسا ماحول برداشت کرتی ہے۔ نہ آگے بڑھ سکتی ہے نہ واپسی کا سوچ سکتی ہے۔

جبکہ والدین کے بگاڑے بچے دوسروں کی زندگیاں بگاڑ دیتے ہیں۔ ہھر چاہے وہ نشے کی لت میں مبتلا ہوں یا اپنی کاہلی کی وجہ سے بے روزگاری کا شکار ہوں، اس کی وجہ بھی ان کے بیوی کا نصیب ہی سمجھا جائے گا۔

لیکن یہ بات یہیں ختم نہیں ہوتی اس قسم کے والدین بچوں کو ایک جہنم جیسی زندگی دے کر اپنے بڑھاپے میں یہی طعنہ دیتے دکھائی دیتے ہیں کہ ہماری خدمت نہیں کرتے یا نافرمان اولاد ہے وغیرہ وغیرہ۔

جس اولاد کو چھاؤں میں رکھنا تھا اسے دھوپ میں جلا دیا اور جس کو دھوپ چاہیے تھی اسے روشنی سے محروم کرکے کس پھل کی اُمید لگائے بیٹھے ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی جنگ لڑ رہے ہیں انہیں آپ کیوں ایک نئی جنگ میں دھکیل رہے ہیں؟

بلاشبہ والدین عزت، محبت، دولت، دوستی اور اولاد کے وقت کے حقدار ہیں، مگر کیا اولاد ان تمام چیزوں کی حقدار نہیں؟

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

متعلقہ مضامین

  • امن مشنز کی کامیابی یقینی بنانے کے لئے اقوام متحدہ کی پولیس کو حقیقت پسندانہ مینڈیٹ دینے کی ضرورت ہے، پاکستانی سفیر منیراکرم
  • پاکستانی ایئرلائن کا نئی پروازیں شروع کرنے کا اعلان
  • محمد فاروق حیدر کی وادی لیپہ کو اسمبلی میں اضافی نشست دینے کے فیصلے کی حمایت
  • سندھ بلڈنگ، اسحق کھوڑو نے کرپٹ سسٹم کی سرپرستی شروع کردی
  • وٹامن اور معدن اکھٹے کھا کر صحت کی دولت پائیے
  • پشاور، ایم این اے انجینئر حمید حسین کا ٹیسکو کے چیف سے ملاقات، ضلع کرم کے بجلی کے بحران پر گفتگو
  • امریکہ میں کاروبار اور شہریت؛ غیر ملکیوں کے لیے ’گولڈ کارڈ‘ متعارف کرانے کا اعلان
  • باغبان
  • 9 ویں اور 10 ویں کے امتحانات ملتوی، نیا شیڈول جاری