ماہِ رمضان کی تیاری، قرآن، سنت اور رومیؒ کی حکمت کی روشنی میں
اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT
رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمتوں، مغفرتوں، برکتوں اور نجات کا مہینہ ہے۔ یہ تقویٰ، صبر، خود احتسابی اور اللہ کے قرب کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ جلال الدین رومی ؒفرماتے ہیں،یہ دنیا ایک خواب ہے اور جب رمضان آتا ہے تو گویا انسان خواب سے بیدار ہونے کا موقع پاتا ہے۔ جو شخص روزہ رکھ کر اپنے اندر ضبطِ نفس، صبر اور تقویٰ پیدا نہیں کرتا، وہ حقیقت میں اس بیداری کے موقع کو کھو دیتا ہے۔پس رمضان کی برکتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اس کی درست تیاری کریں۔سوشل میڈیا اور ہر میسج فارورڈ کرنے سے بھی روزہ رکھ لیں۔ ہر قسم فضول اور فحش باتوں سے مکمل اجتناب کریں اور پرہیزگاری اختیار کریں۔ روزہ رکھنے کا مقصد ہ پرہیزگاری کا اختیار کرنا ہے روحانی تیاری،اخلاص اور نیت کی درستگی۔ ذکر و استغفار کا اہتمام کرنا،اس سے روحانی سکون ملتا ہے۔ رومیؒ فرماتے ہیں،نیت کی پاکیزگی عمل کی روشنی ہے، اگر نیت خالص ہو تو ایک ذرہ بھی پہاڑ بن جاتا ہے۔لہٰذا، روزہ رکھتے وقت ہمیں اپنی نیت کو خالص رکھنا چاہیے کہ یہ محض بھوکا رہنے کے لئے نہیں، بلکہ اللہ کے حکم کی تعمیل، تقویٰ کے حصول، اور دل کی اصلاح کے لئے ہے۔ جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہے:لعلکم تتقون (البقرہ: 183)
توبہ و استغفاررومیؒ فرماتے ہیں،اگر تمہارے گناہ دریا کی جھاگ کے برابر بھی ہیں، تب بھی اللہ کی رحمت اس سے زیادہ وسیع ہے۔ وہ توبہ کو پسند کرتا ہے، پس اس کی رحمت کو پانے کے لئے اپنے دل کو صاف کرو۔حدیث میں آتا ہے کہ رمضان میں توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے وہ ابھی پیدا ہوا ہو (مسلم) پس ہمیں چاہیے کہ رمضان سے پہلے اور دوران، گناہوں سے سچی توبہ کریں تاکہ ہمارا دل صاف ہو اور ہم رحمت الہٰی کے مستحق بن سکیں۔قرآن سے گہرا تعلق رومی فرماتے ہیں،قرآن ایک ایسا نور ہے جو تمہارے دل کی تاریکی کو مٹا دیتا ہے، لیکن یہ روشنی صرف انہیں نصیب ہوتی ہے جو اخلاص کے ساتھ اس سے جڑتے ہیں۔رمضان قرآن کا مہینہ ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:شہر رمضان الذیِٓ انزِل فِیہِ القران (البقرہ: 185) اس لئے ضروری ہے کہ روزانہ قرآن کی تلاوت کریں، اس کے معنی و مفہوم پر غور کریں، اور اسے اپنی زندگی میں نافذ کریں۔نماز، دعا، اور ذکر کی پابندی رومیؒ کہتے ہیں،نماز وہ دروازہ ہے جو تمہیں اللہ کے قرب میں لے جاتا ہے، اور دعا وہ ندی ہے جو تمہارے دل کو پاک کرتی ہے۔ لہٰذا، ہمیں چاہیے کہ فرض نمازوں کے ساتھ ساتھ تراویح، تہجد، اور اذکار کا اہتمام کریں، کیونکہ رمضان میں دعائیں خاص طور پر قبول ہوتی ہیں(ترمذی)نیک اعمال میں سبقت رومیؒ کہتے ہیں،اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ تمہیں نوازے، تو پہلے دوسروں پر نوازش کرو۔ اللہ کا دروازہ دینے والوں کے لئے کھلتا ہے، مانگنے والوں کے لئے نہیں۔اسی لئے رمضان میں سخاوت، خیرات اور یتیموں و مساکین کی مدد کرنی چاہیے، کیونکہ نبی کریم ﷺ سب سے زیادہ سخاوت رمضان میں کرتے تھے (بخاری) جسمانی تیاری،صحت مند طرزِ زندگی رومیؒ فرماتے ہیں،زیادہ کھانے سے دل سخت ہو جاتا ہے اور روحانی بصیرت ماند پڑ جاتی ہے۔ کھانے میں اعتدال اختیار کرو تاکہ روح بلند ہو سکے۔بہت سے لوگ رمضان میں وزن کم کرنے کے بجائے زیادہ کھا کر اسے بڑھا لیتے ہیں، جو کہ روزے کے مقصد کو فوت کر دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ سادہ، متوازن، اور ہلکی غذا کھائیں۔سحری کی پابندی حدیث میں ہے: تسحروا فاِن فِی السحورِ برکۃ (بخاری)
سحری میں برکت ہے، اس لیے ہمیں سحری ضرور کرنی چاہیے اور ایسی غذا کا انتخاب کرنا چاہیے جو دن بھر توانائی برقرار رکھے۔افطار میں سادگی اور اسراف سے اجتناب رومیؒ فرماتے ہیں،سونا چمکنے میں خوبصورت ہے، مگر اگر ضرورت سے زیادہ ہو تو آنکھوں کو چکاچوند کر دیتا ہے۔ اسی طرح، اگر کھانے میں سادگی نہ ہو تو وہ تمہاری روح کو بھاری کر دیتا ہے اور صحت و خراب ردیتا ہے۔ افطار میں سادگی اختیار کریں، جیسا کہ نبی کریم ﷺ کا معمول تھا، اور غیر ضروری، نمائشی، اور فضول خرچی پر مبنی افطاریوں سے بچیں اور افطار پاڑٹیوں سے اجتناب کریں۔اجتماعی اور سماجی تیاری،گھریلو ماحول کی تیاری رومی فرماتے ہیں،اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارے گھر میں روشنی ہو، تو پہلے اپنے دل کے چراغ کو روشن کرو۔لہٰذا، ہمیں چاہیے کہ اپنے گھروں میں نیکی، عبادت، اور محبت کا ماحول پیدا کریں اور بچوں کو رمضان کی اہمیت سکھائیں۔صدقہ و خیرات کی عادت، رومیؒ فرماتے ہیں،جو شخص دیتا ہے وہ حقیقت میں لے رہا ہوتا ہے، کیونکہ اللہ کے راستے میں دیا گیا ہر سکہ سات سو گنا بڑھ کر لوٹتا ہے۔رمضان میں نیکیوں کا اجر کئی گنا بڑھ جاتا ہے (ترمذی) اس لیے زکوٰۃ اور صدقہ و خیرات کا خاص اہتمام کریں۔دوسروں کو معاف کرنا اور دل کو بغض و حسد سے پاک کرنارومیؒ کہتے ہیں،جب تم کسی کو معاف کرتے ہو، تو تم اپنے دل کو قید سے آزاد کرتے ہو۔ اگر چاہتے ہو کہ تمہیں اللہ معاف کرے، تو پہلے تم دوسروں کو معاف کرو۔لہٰذا، دل کی کدورتیں نکال کر رشتہ داروں، دوستوں، اور پڑوسیوں سے حسنِ سلوک کریں، کیونکہ حدیث میں آتا ہے کہ بغض رکھنے والوں کے اعمال قبول نہیں ہوتے (مسلم) اگر ہم ان امور پر عمل کریں گے، تو ان شا اللہ رمضان کی برکتوں سے بھرپور فائدہ حاصل کر سکیں گے۔
رومی ؒفرماتے ہیں،رمضان اللہ کے دروازے پر دستک دینے کا وقت ہے۔ اگر تم خلوص کے ساتھ آگے، تو تمہیں وہ ملے گا جس کی تمہیں طلب ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان کی صحیح تیاری کرنے، اس کی برکتیں حاصل کرنے، اور فضول خرچی، نمود و نمائش سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: ہمیں چاہیے کہ فرماتے ہیں رمضان کی اللہ کے دیتا ہے جاتا ہے کہ اللہ کے لئے اگر تم
پڑھیں:
استقبال ماہ مبارک رمضان
دین و دنیا پروگرام اسلام ٹائمز کی ویب سائٹ پر ہر جمعہ نشر کیا جاتا ہے، اس پروگرام میں مختلف دینی و مذہبی موضوعات کو خصوصاً امام و رہبر کی نگاہ سے، مختلف ماہرین کے ساتھ گفتگو کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ ناظرین کی قیمتی آراء اور مفید مشوروں کا انتظار رہتا ہے۔ متعلقہ فائیلیںاستقبال ماہ رمضان
پروگرام دین و دنیا
عنوان: استقبال ماہ رمضان
میزبان: محمد سبطین علوی
مہمان: حجہ الاسلام والمسلمین سید ضیغم رضوی
تاریخ: 28 فروری 2025
موضوعات گفتگو: ماہ رمضان کی دیگر مہینوں کی نسبت فضیلت
ضیافہ اللہ یا خدا کی مہمانی سے کیا مراد ہے؟
اور یہ کس قسم کی مہمان نوازی ہے؟
کیسے ہم روح ماہ رمضان اور اس مہمان نوازی تک پہنچ سکتے ہیں، اور بہرہ مند ہو سکتے ہیں؟
خلاصہ گفتگو:
ماہِ رمضان دیگر مہینوں کے مقابلے میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے کیونکہ یہ قرآن کے نزول کا مہینہ ہے، جس میں روزے فرض کیے گئے تاکہ انسان تقویٰ حاصل کر سکے۔ یہ مہینہ گناہوں کی بخشش، رحمت اور مغفرت کا موسم ہے، جس میں ہر نیکی کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔
حدیثِ نبویؐ کے مطابق، رمضان "شہرُ الضّیافَةِ اللہ" یعنی خدا کی مہمانی کا مہینہ ہے۔ اس مہمان نوازی میں مادی لذتوں کے بجائے روحانی نعمتیں دی جاتی ہیں، جیسے دل کی طہارت، گناہوں کی معافی اور قربِ الٰہی۔ اللہ اپنے بندوں کو اپنے دسترخوان پر بلاتا ہے، جہاں روزہ صبر، تقویٰ اور نفس کی تربیت کا ذریعہ بنتا ہے۔
ہم روحِ رمضان تک تبھی پہنچ سکتے ہیں جب صرف ظاہری روزے پر اکتفا نہ کریں بلکہ باطنی پاکیزگی، اخلاص، دعا، عبادت، تلاوتِ قرآن اور خدمتِ خلق کو اپنائیں۔ تقویٰ، انابت اور خلوصِ نیت کے ساتھ رمضان گزارنے والا شخص اللہ کی مہمانی سے حقیقی طور پر بہرہ مند ہو سکتا ہے اور اپنی روح کو جلا بخش سکتا ہے۔ یہی ماہِ رمضان کی اصل روح ہے!