پاکستان میں پولیو کے دو نئے کیسز رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT
قمبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 فروری2025ء)پاکستان میں پولیو کے دو نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، حکام نے سندھ کے علاقے قمبر اور پنجاب کے منڈی بہاؤالدین میں پولیو کیسز کی تصدیق کردی ہے۔
(جاری ہے)
سندھ میں رواں برس کا تیسرا اور پنجاب کا پہلا پولیو کیس سامنے آیا ہے، اس سال پولیو کے مجموعی کیسز کی تعداد پانچ ہوگئی ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ سال ملک میں پولیو کے 74 کیسز سامنے آئے تھے، ان کیسز میں بلوچستان سے 27، کے پی سے 22 اور سندھ سے 23 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ان کے علاوہ پنجاب اور اسلام آباد سے گزشتہ سال پولیو کا ایک، ایک کیس رپورٹ ہوا تھا۔
.ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے میں پولیو پولیو کے
پڑھیں:
پنجاب کے بعد سندھ حکومت کا بھی پنک بائیک دینے کا اعلان
ویب ڈیسک : پنجاب حکومت کے بعد سندھ حکومت نے بھی خواتین کی سہولت کیلئے پنک بائیک دینے کا اعلان کردیا۔
سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن نےپریس کانفرنس میں بتایا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ خواتین کو مفت پنک اسکوٹرز دینے جارہا ہے،اس سلسلے میں جن کے پاس 2ویلرز لائسنس ہوگا ان کو پنک اسکوٹرز ملیں گے، اوپن بیلٹنگ کے ذریعے اسکوٹرز دیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اسٹوڈنٹس، کاروبار اور نوکری پیشہ خواتین کو اسکوٹرز ملیں گے، محکمہ ٹرانسپورٹ خواتین کو بائیک چلانا بھی سکھائے گا۔
مردوں کے بینک اکاونٹس زیادہ ہیں یا خواتین کے ،گورنر اسٹیٹ بینک نے بتا دیا
شرجیل میمن نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ خواتین کو خودمختار بنانے کی بات کرتی ہے۔ کوشش ہے کہ اگلے ماہ سے پنک ٹیکسی بھی شروع کریں۔ حکومت کا پورا فوکس عوام کو ریلیف دینے پر ہے۔ کراچی میں پانی کی طلب زیادہ ہے، پانی کی دستیابی بڑھانےکےمنصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے صوبائی کابینہ سے ڈبل ڈیکر بسوں کی منظوری لیے جانے کی خوش خبری دیتے ہوئے مزید بتایا کہ کے فور منصوبے پر بھی کام کو تیز کیا جائے گا۔ اسی طرح اے این ایف کو آٹو میٹڈ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ڈبل کیبن گاڑیوں کو بھی پرسنل گاڑی کے طور پر رجسٹرڈ کیا جائے گا۔
کرکٹ کا اہم ایونٹ بھارت میں نہیں ہو گا، نیوٹرل وینیو کی تلاش
واضح رہے کہ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز بھی خواتین کے لیے پنک بائیک متعارف کروا چکی ہیں۔ اس حوالے سے ایک تقریب میں مریم نواز نے کہا تھا کہ والدین اپنی بچیوں کو بائیک چلانے کی اجازت دیں ، بچیاں بائیک چلانے سے بااختیار ہوں گی اور اپنا کام خود کریں گی ۔