’50 لاکھ کے لیے نہیں ٹیم کی بہتری کے لیے مینٹور شپ قبول کی‘، شعیب ملک غصے میں آگئے
اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT
سابق کپتان شعیب ملک کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں انہوں نے خود پر تنقید کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ کرکٹرز اور صحافی اپنا ہوم ورک پورا کیا کریں اس کے بعد بات کیا کریں۔
شعیب ملک کا کہنا تھا کہ جو لوگ ان کے 50 لاکھ روپے ماہانہ کمانے پر تنقید کر رہے ہیں وہ ان کو بتانا چاہتے ہیں کہ وہ مینٹور شپ قبول کرنے سے پہلے بھی ماہانہ 50 لاکھ سے بہت زیادہ کماتے تھے اور اگر اس کے ثبوت چاہیے تو وہ بھی دینے کو تیار ہیں۔
سابق کپتان کا کہنا تھا کہ ’ہم یہاں ٹیم کی بہتری کے لیے آئے ہیں اور ہمیں اصل مسائل کا علم ہے‘۔ شعیب ملک کا کہنا تھا کہ وہ دنیا بھر میں کرکٹ کھیلتے ہیں انہوں نے صرف اپنے ملک میں کرکٹ نہیں کھیلی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے اندر کچھ نہ کچھ ہو گا تو ہی دنیا نے انہیں کرکٹ کھیلنے کے لیے بلایا ہے۔
شعیب ملک کا کہنا تھا کہ ’ہم یہاں پاکستان کرکٹ ٹیم کی بہتری کے لیے آئے ہیں اور چیزیں آگے جا سکتی ہیں، ہم نے رپورٹس بنا کے دی ہیں ان پر کام ہو رہا ہے‘۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے خلاف پاکستانی شکست پر شعیب ملک نے کونسا گانا گایا؟
واضح رہے کہ پاکستان ٹیم کے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے پہلے ہی راؤنڈ سے باہر ہوجانےکی وجہ سے شعیب ملک نے پاکستان کرکٹ ٹیم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ شعیب ملک نے اسٹوڈیو میں بیٹھ کر بالی ووڈ کا گانا ’دل کے ارماں آنسوؤں میں بہہ گئے‘ گانا گایا جس پر انہیں سابق کرکٹرز نے آڑے ہاتھوں لیا تھا اور ان پر خوب تنقید کی تھی۔
سابق ٹیسٹ کرکٹر سکندر بخت نے پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی کو آڑے ہاتھوں لیا اور انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جن کو آپ 50 لاکھ روپیہ مہینے کا دیتے ہیں وہ ٹی وی پر بیٹھ کر آپ کا مذاق اڑا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ شعیب ملک جو آپ کے پے رول پر ہیں وہ پاکستانی کرکٹ کا گانے گا کر مذاق اڑا رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی شکست پر گلوکاری، شعیب ملک تنقید کی زد میں کیوں؟
سابق قومی کرکٹر اور تجزیہ کار باسط علی نے شعیب ملک کے پاکستانی ٹیم پر طنزاً گانا گانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’شعیب ملک کے گانا گانے پر پی سی بی کو ایکشن لینا چاہیے‘۔
یاد رہے پاکستان کرکٹ بورڈ نے پانچ مینٹورز کو ماہانہ 50 لاکھ اور سالانہ 6 کروڑ روپے ادا کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ڈومیسٹک کرکٹ میں یہ ادا کیا جانے والا ریکارڈ معاوضہ ہے۔ وقار یونس، مصباح الحق، شعیب ملک، سرفراز احمد اور ثقلین مشتاق تین سالہ معاہدے کے تحت پورے سال کے لیے دستیاب ہوں گے اور بطور ایڈوائزر بھی کام کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی 2025 پاکستان کرکٹ ٹیم شعیب ملک.ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی 2025 پاکستان کرکٹ ٹیم شعیب ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ شعیب ملک انہوں نے کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان کی ہار کی وجہ کیا چیز بنی؟ سابق کپتان نے بتا دیا
سابق ٹیسٹ کپتان معین خان میں کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کو اب نئے خون کی ضرورت ہے،پاکستان کرکٹ ٹیم کی شکستوں پر غور کرنا ہوگا، میرٹ کا فقدان اور محنت میں کمی چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان کی ہار کی وجہ بنی، وزیر اعظم کرکٹ کے معاملات کا نوٹس لیں۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے معین خان نے کہا کہ اگر محنت نہ کریں جیت نہیں سکتے۔ جو ٹیم محنت کر کے آتی ہے وہی جیتتی ہے۔ چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان کی شکست کی وجوہات میں بہت سی باتیں ہیں۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کی سلیکشن بھی درست انداز میں نئی ہوئی ،جن پلیئرز کو موقع ملا وہ توقعات پر پورا نہیں اترے۔
سابق کپتان کا کہنا تھا کہ جب عالمی کپ ٹی 20 ہارے تو چیئرمین پی سی بی سمیت سب نے سرجری کی بات کی لیکن کچھ نہ ہوا۔ اس وقت بھی سرجری نہیں ہوئی، ہمیں مشکل فیصلے لینے پڑیں گے۔ اس وقت میرٹ کا فقدان ہے، تعلقات پر کرکٹ ہورہی ہے۔ پی سی بی میں میں کرکٹرز کی جگہ نان ٹیکنیکل لوگ بیٹھے ہوئے ہیں،جب محنت اور سنجیدہ کوشش نہیں کریں گے تو مشکلات سامنے آئیں گی۔
معین خان نے کہا کہ پاکستان ٹیم کو مضبوط بنانے کے لیے تلخ فیصلے کرنا ہوں گے، میرٹ پر فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ کرکٹ میں بدقسمتی سے فیصلے پہلے ہو جاتے ہیں،پی سی بی میں ملازمت پہلے دے دی جاتی ہے اور اشتہار بعد میں آتا ہے،پی سی بی کا چیئرمین بھی ناظم نامزد ہوتا ہے ۔ گورننگ بورڈ نامزد چیئرمین کو ہی منتخب کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی سی بی میں ایسے لوگ ہونے چاہیے جن کو کرکٹ کا تجربہ ہو ،من پسند اور مرضی کے لوگوں کو لانے کا سلسلہ بند کرنا ہوگا۔وزیراعظم کو کرکٹ میں ریفارم پر توجہ دینی ہوگی۔ پی ایس ایل میں کارکردگی کی بنیاد پر ون ڈے ٹیم بنا لی جاتی ہے، بی پی ایل میں کارکردگی بنیاد پر قومی ٹیم میں کھلاڑی شامل کر لیا گیا،اب کرکٹ میں نئے خون کو موقع ملنا چاہیے،ریجن کی سطح پر کرکٹ کو تقویت دینا ہوگی۔
بابر اعظم کے متعلق بات کرتے ہوئے معین خان نے کہا کہ بابرعظم اچھا کھلاڑی ہے اسے خود کو تبدیل کرنا ہوگا۔ بابر اعظم کو اپنی سوچ اور رویے میں تبدیلی لانا ہوگی، بابر اعظم کو ویرات کوہلی کی طرح خود کو تبدیل کرنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم میں اب سینئرز کو خیرباد کہنا ہوگا، قومی ٹیم کو نئے خون کی ضرورت ہے۔ چیئر مین پی سی بھی معاملات کا نوٹس لیں، پی سی بی سے بڑی بڑی تنخواہ لینے والے اس کے خلاف ہی باتیں کررہے ہیں۔