بھارتی سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو پاکستانی اسٹار کرکٹر بابر اعظم کے دفاع میں سامنے آ گئے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان بابر اعظم گزشتہ چند سالوں سے میدان میں کارکردگی نہ دکھانے پر تنقید کا سامنا کر رہے ہیں، چیمپئنز ٹرافی 2025ء میں بھارت کے خلاف میچ میں بابر اعظم نے 23 رنز بنائے اور ٹیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

اس تنقید کے دوران بھارتی سابق کرکٹر اور سیاستدان نوجوت سنگھ سدھو نے بابر اعظم کی حمایت کی ہے، انہوں نے پاکستانی شائقین سے اپیل کی ہے کہ وہ بابر اعظم کا احترام کریں اور ان کے مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ بابر نے آپ کے لیے رنز بنائے ہیں اور وہ طویل عرصے تک آپ کے لیے ہی کھیلیں گے، ان کا احترام کرنا سیکھیں، دور سے پتھر نہ پھینکیں۔

سدھو نے بابر اعظم کی تکنیکی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کو بہتری کے لیے مشورے بھی دیے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بابر اعظم کو اپنے پاؤں کی پوزیشن پر کام کرنا چاہیے تاکہ وہ گیند کی باؤنس اور موومنٹ کو بہتر طریقے سے سمجھ سکیں۔

بابر اعظم کی حالیہ کارکردگی پر تنقید کے باوجود سدھو اور دیگر ماہرین کا ماننا ہے کہ وہ ایک باصلاحیت کھلاڑی ہیں اور مناسب رہنمائی اور حمایت سے اپنی فارم دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔

شائقینِ کرکٹ نے سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ بابر اعظم کبھی میچ جیتنے والی اننگز نہیں کھیلتے اور صرف اپنے ہی ریکارڈز کا پیچھا کرتے رہتے ہیں۔

.

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

اڈیالہ جیل کا 142 سالہ سفر، اب تک 4 مقدمات تبدیل، سابق وزرائے اعظم بھی قید رہے

راولپنڈی:

ڈسٹرکٹ جیل راولپنڈی کا اڈیالہ جیل تک کا سفر 142 سال مکمل کر چکا ہے، اس جیل نے اب تک 4 مقامات تبدیل کیے اور پاکستان کے کئی سابق وزرائے اعظم یہاں قید رہے ہیں۔

 ڈیڑھ صدی قبل راولپنڈی جیل کمیٹی چوک تیلی محلہ روڈ ٹرائینگلور پر تھی پھر تھوڑے عرصہ کیلیے موجودہ محکمہ تعلیم سیکریٹریٹ میں رہی اور 1882 میں راولپنڈی جیل موجودہ جناح پارک ،جوڈیشل کمپلیکس مقام پر تھی یہاں جیل 104 سال تک رہی، یہ ایک تاریخی جیل تھی جس میں تحریک پاکستان کے فریڈم فائٹرز بھی لاہور ممبئی ،دہلی حیدرآباد دکن، بھارتی پنجاب ڈھاکا چٹاگانگ سے گرفتار کر کے انگریز سرکار یہاں قید کرتی رہی۔

 اس پرانی جیل میں علامہ مشرقی بھی قید رہے ، بھٹو کی پھانسی کے بعد اس کی تاریخی حیثیت مٹانے کے لیے جنرل ضیاء الحق نے نئی جیل بنانے کا فیصلہ کیا 1988 میں یہ جیل مکمل مسمار کر دی گئی اور یہاں جناح پارک بنا دیا گیا اور اڈیالہ گاؤں کے قریب سنٹرل جیل راولپنڈی بنائی گئی۔

اڈیالہ جیل میں ابتدا میں 1927 قیدیوں کی گنجائش تھی جو 3500 تک چلی گئی، اس وقت 6 ہزار سے زائد قیدی ہیں، لشکر طیبہ کے ذکی الرحمان لکھوی ،سابق وزرائے اعظم نواز شریف ،یوسف رضا گیلانی ، شاہد خاقان عباسی ، مریم نواز ، شہباز شریف آ صف زرداری، ایان علی، ممتاز قادری، امریکی اداکار ایرک انتھونی( منشیات کیس) بھی قید رہے۔

 آج کل یہ جیل تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی قید کے باعث مشہور ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان کی ہار کی وجہ کیا چیز بنی؟ سابق کپتان نے بتا دیا
  • ’اتنے کیلے بندر بھی نہیں کھاتے‘، سابق کرکٹر کی وسیم اکرم کے بیان پر کڑی تنقید
  • پاک فضائیہ کے سربراہ ظہیر احمد بابر سدھو سے ازبک نائب وزیر دفاع کی ملاقات ، اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ  ایئر ہیڈکوارٹرز کا دورہ
  • ازبکستان کے اعلی سطح دفاعی وفد کی ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات
  • محمد یوسف نے بابر اعظم کی بیٹنگ میں خامیوں کی نشاندہی کردی
  • کن دو کھلاڑیوں کو پاکستان ٹیم میں شامل نہ کرنا بڑی غلطی تھی؟ جیسن گلیسپی نے بتادیا
  • ڈی جی تعیناتی کیس؛ سینیئر افسر کی جگہ جونیئر کی تعنیاتی پر عدالت برہم
  • اڈیالہ جیل کا 142 سالہ سفر، اب تک 4 مقدمات تبدیل، سابق وزرائے اعظم بھی قید رہے
  • قومی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی پر سابق کپتان کا اہم کھلاڑیوں کو ٹیم سےنکالنے کا مطالبہ