مراکشی بادشاہ کی اپنے شہریوں کو عید الاضحیٰ پر قربانی نہ کرنے کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT
مراکش (نیوزڈیسک) مراکشی بادشاہ شاہ محمد ششم نے بڑھتی مہنگائی اور قحط سالی کی وجہ سے شہریوں سے عید الاضحیٰ پر قربانی نہ کرنے کی اپیل کردی۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ 7 سال سے مراکش کو خشک سالی کا سامنا ہے جس کے باعث یہاں مویشیوں کی تعداد میں گزشتہ 12 ماہ کے دوران 38 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
مراکش کی وزارتِ زراعت کے مطابق گزشتہ 30 برس کی اوسط سے 53 فیصد کم بارش کے باعث ملک کو خطرناک حد تک خشک سالی کا سامنا ہے۔رپورٹ کے مطابق مراکش کے بادشاہ نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ خشک سالی کے باعث مویشیوں کی تعداد میں کمی اور گوشت کی قیمتوں میں اضافے کے پیشِ نظر اس سال عید کے موقع پر جانوروں کی قربانی سے گریز کیا جائے۔
سرکاری ٹی وی پر بادشاہ محمد چہارم نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ملک ماحولیاتی اور اقتصادی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے جس کے باعث مویشیوں کی تعداد میں تیزی سے کمی ہوئی ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ یہ پہلا موقع نہیں جب مراکش میں عید الاضحیٰ پر قربانی نہ کرنے کی اپیل کی گئی ہو۔اس سے قبل 1966ء میں بھی موجودہ فرماں روا شاہ محمد ششم کے والد حسن دوم نے شہریوں سے قحط سالی کے باعث قربانی نہ کرنے کی اپیل کی تھی۔
انسانی حقوق کونسل اجلاس ، پاک ،بھارت مندوبین میں شدید جھڑپ، لفظی گولہ باری ،بھارت کو کھری کھری سنادیں
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: قربانی نہ کرنے کی اپیل کے باعث
پڑھیں:
عمر عبداللہ کو دفعہ 370 کے حوالے سے حالیہ بیان پر شدید تنقید کا سامنا
ذرائع کے مطابق عمر عبداللہ نے ایک حالیہ میڈیا انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد آزادی پسند سرگرمیوں میں کمی آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کو دفعہ 370 کے بارے میں اپنے حالیہ بیان پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق عمر عبداللہ نے ایک حالیہ میڈیا انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد آزادی پسند سرگرمیوں میں کمی آئی ہے۔ عمر عبداللہ کو اس بیان پر سخت تنقید کا سامنا ہے۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے رہنما عبدالوحید پرہ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ اگر مقبوضہ جموں و کشمیر میں آزادی پسند سرگرمیوں میں کمی آئی ہے تو اس کی وجہ کالے قوانین کا بے دریغ استعمال، جائیدادوں پر قبضہ اور دیگر ظالمانہ اقدامات ہیں۔ انہوں نے ”ایکس“ پر لکھا ”پیارے عمر عبداللہ صاحب اگر آج کشمیر پرامن نظر آتا ہے، تو اس کی وجہ ”پی ایس اے، یو اے پی اے، مکانوں اور دیگر املاک کی قرقی، ملازمین کی برطرفی اور دیگر ظالمانہ اقداما ت ہیں، یہ آپ کا انتخابی مہم اور منشور سے مکمل یوٹرن ہے۔" پرہ نے مزید کہا کہ حریت کیمپ کے خلاف سخت اقدامات اور جماعت اسلامی و دیگر پر پابندی بھی سکوت اور خاموشی کی ایک وجہ ہے۔ پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون نے بھی وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کو ان کے بیان پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کی باڈی لینگویج ان کے الفاظ سے متصادم ہے۔