اطالوی یہودیوں نے ٹرمپ کے غزہ منصوبے کو مسترد کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT
اٹلی کے سب سے بڑے اخبار میں 200 یہودیوں کے مشترکہ بیان میں اٹلی کی حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ٹرمپ کے اس منصوبے کے ساتھ گٹھ جوڑ نہ کرے۔ اسلام ٹائمز۔ اطالوی یہودیوں نے ٹرمپ کے غزہ منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ اٹلی کی حکومت کو اس منصوبے کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ اطالوی یہودیوں نے غزہ کی پٹی میں "نسلی تطہیر” کے منصوبے کی مخالفت کا اظہار کرتے ہوئے اطالوی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس منصوبے کے ساتھ گٹھ جوڑ نہ کرے۔ رپورٹ کے مطابق یہ بات بدھ کے روز اٹلی کے سب سے بڑے اخبار ''لا ریپبلیکا'' میں شائع کردہ 200 سے زائد یہودیوں کے شائع کردہ ایک مشترکہ بیان میں سامنے آئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غزہ سے فلسطینیوں کو نکالنا چاہتے ہیں، اور ساتھ ہی مغربی کنارے میں آباد کاروں اور اسرائیلی حکومت کی طرف سے تشدد جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اطالوی یہودی نسلی تطہیر کی حمایت نہیں کرتے۔ اٹلی کو اس منصوبے میں شریک نہیں ہونا چاہیے۔ مشترکہ بیان پر پر اٹلی کے 200 سے زائد یہودیوں نے دستخط کیے تھے۔
.ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: یہودیوں نے
پڑھیں:
ٹرمپ کی دھمکیوں سے کینیڈا کی حکمران پارٹی عوام میں پھر مقبول
لاہور:کینیڈا میں پچھلے نو برس سے قائد لبرل پارٹی، جسٹین ٹروڈو کی حکومت ہے۔بعض غلطیوں سے حکومت مقبول نہ رہی اور دسمبر 24ء میں صرف 20 فیصد مقبولیت رہ گئی۔
اتنی گراوٹ کبھی نہیں آئی تھی جبکہ معاصر کنزرویٹو پارٹی کی 43 فیصد ریکارڈ ہوئی۔ تبھی کینیڈین سیاست میں نومنتخب امریکی صدر ٹرمپ داخل ہوئے اور متنازع بیانات سے بھونچال پیدا کر دیا.
یہ کہ کینیڈین مال پہ ٹیکس لگیں گے اور کینیڈا کو امریکی ریاست بن جانا چاہیے, ٹروڈو تب تک پارٹی صدارت سے مستعفی ہو چکے تھے مگر انھوں نے بہادری سے ٹرمپ کی دہمکیوں کا جواب دیا۔
لبرل پارٹی نے بھی دلیرانہ موقف اپنایا جس کا عوام نے خیرمقدم کیا, حالیہ جائزوں کے مطابق لبرل پارٹی کی عوام میں مقبولیت38 فیصد ہو چکی جبکہ کنزرویٹو کی 37 فیصد رہ گئی، یوں ٹرمپ نے حکمران جماعت کے نیم مردہ لاشے میں نئی روح پھونک دی۔