پیرچناسی 22 ، وادی لیپا، سیری میں برفانی طوفان، 57 افراد پھنس گئے ، ریسکیو آپریشن ، پھنسے سیاحوںکو بحفاظت نکال لیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT
مظفرآباد(اوصاف نیوز) نیلم ویلی کے علاقے شاردا سے کیل برفانی تودہ گرنے سے روڈ ٹریفک کیلئے بند،آذاد کشمیر کے میدانی علاقوں میں بارش اور بالائی علاقوں میں برفباری کا رات گئے سلسلہ جاری رہا۔برفباری کے باعث آزادکشمیر میں سردی لوٹ آئی ۔
ریاست بھر میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا۔ضلع حویلی میں بھی بارش اور برف باری کا سلسلہ جاری ہے۔۔سردی کی شدت کے باعث لوگ گھروں میں محصور ہوگئے جبکہ بعض علاقوں میں سیاح اور مسافر پھنس گئے جن کو نکالنے کیلئے ریسکیو آپریشن کیا گیا ۔ وادی لیپہ میں شدید برفباری اور برفانی تودوں کے باعث محکمہ شاہرات کا فیلڈ عملہ جو گزشتہ کئی گھنٹوں سے لاپتہ تھا، بالآخر ان سے رابطہ بحال ہو گیا ہے۔
دوسری جانب کیل سیر ی شیخ بیلہ کے مقام پر آج شام 57 سیاح حضرات بوجہ گلیشئر کیل سے آتے ہوئے بند ہو گئے تھے جن کی ایک گاڑی بھی پھنس گئی جنہیں ریسکیو کرلیا گیا ہے ۔ تما م پھنسے ہوئے سیاحوں اور مقامی لوگوں کوریسکیو کرکے کیل پہنچا دیا گیا ۔ سب خیریت سے ہیں ۔
صدر انجمن تاجران کیل چوہدری خان ولی اور ان کے ساتھیوں نے 55 پھنسے افراد سیاحوں اور مقامی افراد کیلئے رہائش کھانے پینے کا مفت بندوست کیا۔کیل گیسٹ ہاؤسز میں اہتمام کردیا گیا ہے۔سول سوسائٹی اور انتظامیہ کا صدر انجمن تاجران کیل چوہدری خان ولی اور ان کے دوستوں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے
ترجمان محکمہ شاہرات کے مطابق، ریشیاں کے مقام پر تقریباً 100 کے قریب مسافر دو دن سے شدید برفباری میں پھنسے ہوئے تھے، جنہیں آج محکمہ شاہرات کے فیلڈ اسٹاف نے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر بحفاظت وادی لیپہ پہنچایا۔
مقامی پولیس ، پاکستان آرمی اور ایمرجنسی ریسکیو یونٹ 1122 شاردہ نے رسپانس میں حصہ لیا۔ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں انتباہ جاری کیا گیا کہ سیاح اور مقامی افراد غیر ضروری اور خاص کر رات کے وقت سفر سے گریز کریں۔
اس وقت نیلم ویلی شدید موسمی صورت حال برف باری کی لپیٹ میں ہے آپ جہاں کہیں بھی ہیں آپ ادھر ہی رک جائیں۔ موسم صاف ہونے پر سفر کریں آپ کے گھر پر آپ کے والدین ،بیوی ،بچے ،بہن بھائی اور رشتہ واپسی کا انتظار کر رہے ہیں خود بھی مصیبت میں نہ پڑیں اور دوسرے کو بھی مصیبت میں نہ ڈالیں
بوجہ گلیشئر بند ہونے والی شاہراہ نیلم کو کل دن کی روشنی میں کلیئر کیا جائے گا، اس وقت خرابی موسم کی وجہ سے روڈ کو کھولنے کا کام ممکن نہیں ہے اس لیے ہر کسی قسم کے سفر سے اجتناب کریں ۔مسافروں کو ریسکیو کرنے کے بعد واپس ریشیاں جاتے ہوئے شاہرات عملہ بھی شدید برفانی طوفان، برفانی ہواؤں اور لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آ گیا، جس کے بعد ان سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ اس صورت حال نے پورے محکمہ میں تشویش اور بےچینی پیدا کر دی جبکہ فیلڈ اسٹاف کے اہلخانہ بھی شدید پریشانی میں مبتلا ہو گئے تھے۔
ڈائریکٹر آپریشن ایس ڈی ایم اے سعید قریشی کے مطابق سراں پیر چناسی میں ایس ڈی ایم اے کا ریسکیو آپریشن مکمل۔4 گاڑیوں سے 22 سیاحوں کو ریسکیو کر لیا گیا۔پھنسے ہوئے ان6 سیاحوں کا تعلق صوبہ پنجاب کے ضلع جہلم سے ہے باقی افراد مظفرآباد اور گجر کوہالہ سے تعلق رکھتے ہیں تمام افراد کو بحفاظت رسکیو کر کے مظفرآباد کی جانب روانہ کر دیا گیا ہے۔
.ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
افغانستان: شدید بارشوں اور سیلاب سے کم زکم چھتیس افراد ہلاک
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 26 فروری 2025ء) افغانستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے (این ڈی ایم اے) کے مطابق گزشتہ دو دنوں کے دوران شدید بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے افغانستان بھر میں بچوں سمیت کم از کم 36 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
این ڈی ایم اے کے ترجمان جانان سیاق نے جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو بتایا کہ شدید موسم کی وجہ سے مزید 40 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کم از کم 300 رہائشی مکانات متاثر ہوئے ہیں، جن میں سے زیادہ تر مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں اور زرعی زمین کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ حکام ان اہم سڑکوں کو دوبارہ کھولنے کے لیے کام کر رہے ہیں جو شدید برف باری اور سیلاب کی وجہ سے بند ہو گئی ہیں۔مقامی حکام نے ڈی پی اے کو بتایا کہ ایک المناک واقعے میں ملک کے جنوب مغربی صوبے فرح کے ضلع پشت کوہ میں بچوں سمیت کم از کم 21 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
(جاری ہے)
صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے اہلکار محمد اسماعیل سیار نے بتایا کہ تین خاندان، جن میں بچے بھی شامل تھے، پہاڑوں میں پکنک منانے گئے تھے، جب سیلاب نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیا۔سیلاب نے افغانستان میں پہلے سے جاری سنگین انسانی بحران کو مزید بڑھا دیا ہے۔ افغانستان میں سیلاب اور خشک سالی جیسے شدید موسمی واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے اور ماہرین موسمیاتی تبدیلیوں کو اس بحران کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔
ماحول کے لیے ضرر رساں اخراج میں حصے دار نہ ہونے کے باجود یہ ملک دنیا میں ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثرہ دس ممالک میں شامل ہے۔یہ ملک کئی دہائیوں کی جنگ اور تنازعات کے بعد موسمیاتی تبدیلیوں کے نتائج سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ افغانستان میں گزشتہ سال بھی متعدد زلزلوں اور شدید سیلاب نے تباہی مچائی تھی۔
ش ر⁄ ک م (ڈی پی اے)