مصطفی عامر قتل کیس ، سنسنی خیز انکشافات پر بڑے ناموں میں کھلبلی
اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT
کیس کی تفتیش کہاں تک پہنچی اور ملزمان نے کیا کیا بتایا؟ متعلقہ افسران طلب
مصطفی عامر قتل کیس میں سنسنی خیز انکشافات اور بڑے نام سامنے آنے پر کھلبلی مچ گئی، اعلیٰ حکام کی جانب سے سندھ حکومت سے ممکنہ طور پر بڑے ناموں پر ہاتھ ڈالنے کی اجازت مانگی جائے گی۔تفصیلات کے مطابق مصطفی عامر قتل کیس کے بعد سنسنی خیز انکشافات اور بڑے نام سامنے آنے پر کھلبلی مچ گئی، کیس کی تفتیش کہاں تک پہنچی اور ملزمان نے کیا کیا بتایا؟اس حوالے سے صوبے اور شہرقائد کے تمام متعلقہ افسران کو طلب کرلیا گیا ہے ۔ساجد حسن کے بیٹے ساحر حسن نے بڑے راز اور نام اگلے تھے ، ایس ایس پی شعیب میمن ساحر کی تفتیش کا مکمل احوال بتائیں گے ، ممکنہ طور پر بڑے ناموں پر ہاتھ ڈالنے کی اجازت بھی مانگی جائے گی ، سندھ حکومت نے اگر اجازت دی تو بڑے ناموں کی گرفتاری ہوسکے گی۔واضح رہے گرفتار ملزم ساحر حسن نے تفتیش میں بڑے بزنس مین سیاستدانوں اور دیگر کے نام بتائے تھے اور کہا تھا منشیات کی آن لائن رقم والد ساجد کے منیجر کے اکاؤنٹ میں منگواتا تھا۔گرفتار ساحر کا کہنا تھا کہ 5سال سے ماڈلنگ اور13سال سے ویڈ کا نشہ کر رہا ہوں جبکہ 2سال سے ویڈ فروخت کر رہا تھا اور منشیات کا مکمل بزنس اسنیپ چیٹ پر تھا، بازل اور یحییٰ سے منشیات لے کر فروخت کرتا ہوں۔معروف اداکار کے بیٹے نے انکشاف کیا تھا کہ کوریئر کمپنیوں کے ذریعے کروڑوں کی منشیات منگوائی اور ہر ہفتے 4سے 5لاکھ روپے ادا کرتا ہوں ، مہینے میں دو مرتبہ ایک کلو سے زائد ویڈ منگواتا ہوں۔ملزم نے مزید بتایا کہ ایک گرام ویڈ 10 ہزار روپے میں فروخت کرتا تھا اور ڈیجیٹل اسکیل پر ویڈ کا وزن کرتا ہوں جبکہ ساحر نے دوران تفتیش 12 سے زائدکلائنٹس کے نام بھی پولیس کو بتائے تھے ۔
.ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
مصطفیٰ عامر قتل کیس: ساجد حسن نے بیٹے کے ملوث ہونے پر کیا کہا؟
پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار ساجد حسن مصطفیٰ عامر قتل کیس میں اپنے بیٹے ساحر حسن کے ملوث ہونے پر بول پڑے۔
ساجد حسن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قتل ایک دل دہلا دینے والا سانحہ ہے اور میں مصطفیٰ عامر کے گھر والوں سے ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔
اُنہوں نے کہا کہ جب سے میں نے مصطفیٰ کی والدہ کا پیغام سنا ہے مجھے نیند نہیں آ رہی، مصطفیٰ میرے اپنے بیٹے جیسا تھا۔
اداکار نے کہا کہ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ انصاف ہو، ناصرف میرے بیٹے کے ساتھ بلکہ جتنے بھی خاندان اس کیس سے جڑے ہوئے ہیں ان سب کے ساتھ انصاف ہو۔
اُنہوں نے میڈیا اور لوگوں کی جانب سے اپنے بیٹے ساحر حسن کے ساتھ کیے جانے والے سلوک پر تنقید بھی کی۔
ساجد حسن نے کہا کہ میرے بیٹے کو تفتیش مکمل ہونے سے پہلے ہی مجرم قرار دیا جا چکا ہے، میں اپنے بیٹے کے اقدامات کا دفاع نہیں کر رہا لیکن صرف ایک منصفانہ قانونی عمل کا مطالبہ کر رہا ہوں۔
اُنہوں نے یہ انکشاف کیا کہ میری فیملی اس مشکل وقت میں سماجی طور پر بالکل تنہا ہو گئی ہے، یہاں تک کہ پڑوسیوں سے بھی تعلقات خراب ہو گئے ہیں اور کام میں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
اداکار نے کہا کہ میرے بیٹے کی غلطیوں کو قتل کیس سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
اُنہوں نے کہا کہ مجھے عدالتوں پر یقین ہے اور میں چاہتا ہوں کہ سچ سامنے آئے، پھر چاہے وہ کتنا ہی تکلیف دہ کیوں نہ ہو۔
واضح رہے کہ پولیس نے کراچی کے علاقے ڈیفنس میں چھاپہ مار کر اداکار ساجد حسن کے بیٹے ساحر حسن اور 3 دیگر افراد کو گرفتار کیا ہے۔
یہ گرفتاریاں جنوری میں لاپتہ ہونے والے 23 سالہ مصطفیٰ عامر کے ہائی پروفائل قتل کیس میں جاری تحقیقات کے نتیجے میں کی گئی ہیں۔
پولیس کے مطابق ساجد حسن کے بیٹے ساحر حسن نے دورانِ تفتیش بتایا کہ وہ گزشتہ 2 سال سے اسنیپ چیٹ کے ذریعے منشیات فروخت کر رہا ہے اور ہر ہفتے تقریباً 15 لاکھ روپے کما رہا ہے۔