9 مئی، پولیس 11 مقدمات کے مکمل چالان پیش نہ کر سکی
اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT
راولپنڈی (جنرل رپورٹر) انسداد دہشت گردی راولپنڈی کی خصوصی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے9 مئی کے مظاہروں کے دوران اہم تنصیبات، نجی و سرکاری املاک کے گھیرائو جلائو اور پولیس افسروں و اہلکاروں پر حملوں کے11 الگ الگ مقدمات کی سماعت مکمل چالان پیش نہ ہونے کے باعث15 مارچ تک ملتوی کر دی ہے۔ پولیس کی جانب سے بیشتر مقدمات میں مکمل چالان پیش نہ کئے جا سکے جس پر عدالت ملزموں میں چالان کی نقول تقسیم نہ کر سکی۔ عدالت نے حاضری کے بعد سماعت15 مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے پولیس کو حکم دیا ہے کہ آئندہ تاریخ پر چالان کی مکمل کاپیاں اور ریکارڈ عدالت میں جمع کروائے۔
.ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
اڈیالہ جیل کا 142 سالہ سفر، اب تک 4 مقدمات تبدیل، سابق وزرائے اعظم بھی قید رہے
راولپنڈی:ڈسٹرکٹ جیل راولپنڈی کا اڈیالہ جیل تک کا سفر 142 سال مکمل کر چکا ہے، اس جیل نے اب تک 4 مقامات تبدیل کیے اور پاکستان کے کئی سابق وزرائے اعظم یہاں قید رہے ہیں۔
ڈیڑھ صدی قبل راولپنڈی جیل کمیٹی چوک تیلی محلہ روڈ ٹرائینگلور پر تھی پھر تھوڑے عرصہ کیلیے موجودہ محکمہ تعلیم سیکریٹریٹ میں رہی اور 1882 میں راولپنڈی جیل موجودہ جناح پارک ،جوڈیشل کمپلیکس مقام پر تھی یہاں جیل 104 سال تک رہی، یہ ایک تاریخی جیل تھی جس میں تحریک پاکستان کے فریڈم فائٹرز بھی لاہور ممبئی ،دہلی حیدرآباد دکن، بھارتی پنجاب ڈھاکا چٹاگانگ سے گرفتار کر کے انگریز سرکار یہاں قید کرتی رہی۔
اس پرانی جیل میں علامہ مشرقی بھی قید رہے ، بھٹو کی پھانسی کے بعد اس کی تاریخی حیثیت مٹانے کے لیے جنرل ضیاء الحق نے نئی جیل بنانے کا فیصلہ کیا 1988 میں یہ جیل مکمل مسمار کر دی گئی اور یہاں جناح پارک بنا دیا گیا اور اڈیالہ گاؤں کے قریب سنٹرل جیل راولپنڈی بنائی گئی۔
اڈیالہ جیل میں ابتدا میں 1927 قیدیوں کی گنجائش تھی جو 3500 تک چلی گئی، اس وقت 6 ہزار سے زائد قیدی ہیں، لشکر طیبہ کے ذکی الرحمان لکھوی ،سابق وزرائے اعظم نواز شریف ،یوسف رضا گیلانی ، شاہد خاقان عباسی ، مریم نواز ، شہباز شریف آ صف زرداری، ایان علی، ممتاز قادری، امریکی اداکار ایرک انتھونی( منشیات کیس) بھی قید رہے۔
آج کل یہ جیل تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی قید کے باعث مشہور ہے۔