پہلا پارلیمانی ، سال ، 47قوانین ، 26، قراردیں منظور :ارکان اسمبلی کی حاضری میں کو تاہی
اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT
اسلام آباد(خبرنگار)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی(پلڈاٹ)نے 16ویں قومی اسمبلی کے پہلے سال کی کارکردگی کی سالانہ جائزہ رپورٹ میں اس بتایا ہے کہ موجودہ اسمبلی کے کام کا دورانیہ کام کے اوقات اور ایام کے حوالے سے گزشتہ اسمبلی کے مقابلے میں کم رہا حالانکہ ان ایام اور اوقات میں اہم قانون سازی کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا جس میں سے زیادہ تر قوانین اور قانون سازی کے عمل کو بغیر کسی جانچ پڑتال اور غور و خوض کے منظور کیا گیا تھا موجودہ اسمبلی کا 29 فروری 2024 کو افتتاحی اجلاس منعقد ہوا اور پہلے پارلیمانی سال کی مدت 28 فروری 2025 کو ختم ہو رہا ہے16ویں قومی اسمبلی کے 93 اجلاس منعقد ہوئے اور موجودہ اسمبلی نے 212 گھنٹے کام کیا جبکہ اس کے مقابلے میں 15ویں قومی اسمبلی کے پہلے پارلیمانی سال کے دوران 96 اجلاس منعقد اور گذشتہ اسمبلی نے 297 گھنٹے کام کیا جو کہ ایک ریکارڈ ہے جبکہ موجودہ اسمبلی کی کارکردگی گذشتہ اسمبلی کے مقابلے میں واضح حد تک کم ہے۔ واضح رہے کہ سولہویں قومی اسمبلی کے پہلے سال میں ایک گھنٹے کام کرنے کی لاگت تقریبا 60.
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اجلاسوں میں شرکت کی ممبران اسمبلی کی موجودہ اسمبلی کے مقابلے میں گذشتہ اسمبلی اسمبلی نے کی حاضری
پڑھیں:
ارکان پنجاب اسمبلی کی نون لیگی حکومت کے خلاف صدر زرداری کو شکایتیں
بیورو کریسی ہماری بات نہیں سنتی، ایک ایڈیشنل سیکریٹری دیا گیا ہے جس کی کوئی سنتا ہی نہیں، اسسٹنٹ کمشنر بھی ایڈیشنل سیکریٹری کی بات نہیں سنتا،اربوں کا بجٹ لاہور پر لگا دیا، باقی پنجاب نظرانداز کر دیا گیا
آپ سب کے تحفظات جائز ہیں، ہم ان کو جلد حل کروائیں گے ، ، بلاول اور میں خود پنجاب میں بیٹھیں گے ،گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر کی کارکردگی متاثر کن ہے، صدر زرداری کی پیپلزپارٹی کے ارکان اسمبلی سے گفتگو
صدر آصف زرداری کی لاہور میں اراکین پنجاب اسمبلی سے ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ارکان اسمبلی نے صدر کو بتایا کہ بیورو کریسی ہماری بات نہیں سنتی، ایک ایڈیشنل سیکریٹری دیا گیا ہے جس کی کوئی سنتا ہی نہیں، متعلقہ ضلع کا ڈپٹی کمشنر تو کیا، اسسٹنٹ کمشنر بھی ایڈیشنل سیکریٹری کی بات نہیں سنتا۔ صدر زرداری نے کہا کہ بلدیاتی الیکشن کی تیاری کریں، ہمیں بھرپور کامیابی حاصل کرنا ہوگی، پنجاب میں بلدیاتی الیکشن میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے ۔انھوں نے کہا کہ بلدیاتی الیکشن کا ہونا بہت ضروری ہے عوامی مسائل کاحل بلدیاتی الیکشن ہے ۔ صدر آصف زرداری نے مزید کہا کہ ہم عوامی لوگ ہیں اور ہمیں عوام کی جنگ لڑنی ہے ۔صدر آصف زرداری نے اس موقع پر سوال کیا کہ جنوبی پنجاب میں بجلی اور گیس کی قلت کہاں پر ہے ؟ انھوں نے کہا پانی کا بہت بڑا مسئلہ ہے ، سندھ اور بلوچستان کے مسائل حل نہیں ہو رہے ۔ارکان اسمبلی نے صدر کو بتایا کہ مسلم لیگ ن کے کام فوری ہوتے ہیں، انہیں تبادلوں سمیت ہر کام کے فوری آرڈر دیے جاتے ہیں۔ارکان اسمبلی نے شکایت کی کہ اربوں کا بجٹ لاہور پر لگا دیا، باقی پنجاب ایک طرف ہے ، یہ کونسا میرٹ ہے ؟ ماضی کی طرح ایک ضلع کو پروموٹ کیا جا رہا ہے ، باقی اضلاع میں احساس محرومی ہے ۔پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی کے ذرائع نے بتایا کہ صرف لاہور کے عوام کے لئے اربوں روپے لگا کر ہارس اینڈ کیٹل شو کا انعقاد کیا گیا، پنجاب میں کسانوں کا کوئی پرسان حال نہیں، ہر جگہ کسان پس رہا ہے ۔ارکان کا کہنا تھا کہ ہم جیت کر ایوان میں آئے لیکن ہمارے کام نہیں ہوتے ۔ ہمارے ہی حلقے میں ن لیگ کے لوگوں کے کام ہو رہے ہیں۔ذرائع نے صدر آصف زرداری کے حوالے سے بتایا کہ انھوں نے کہا آپ سب کے تحفظات جائز ہیں، ہم ان کو جلد حل کروائیں گے ، ہم نے ہمیشہ ملک وعوام کی جنگ لڑی ہے ۔صدر نے کہا کہ ہمیں پانی کے مسئلے کو سنجیدہ لینا ہوگا، ہر فورم پر اس کی نشاندہی کرچکا ہوں، بلاول اور میں خود پنجاب میں بیٹھیں گے ۔انھوں نے کہا کہ گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر کی کارکردگی متاثر کن ہے ، وہ بہترین کام کر رہے ہیں، سلیم حیدر کا کام غلطی کی نشاندہی اور ایکشن لینا ہے ۔صدر آصف زرداری نے کہا کہ کسانوں کے ساتھ کھڑے ہیں، انہیں سہولیات فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرینگے ۔