ریمدان بارڈر سے جبری لاپتہ تین علماء میں سے دو کو رہا کر دیا گیا، خاندانی ذرائع
اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT
خاندانی ذرائع کے مطابق آغا سید عباس رضوی اور شیخ غلام عباس ناصری کو رہا کر دیا گیا ہے۔ جبری طور پر لاپتہ تیسرے عالم دین شیخ اختر علی کی رہائی عمل میں نہیں آ سکی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران سے پاکستان آتے ہوئے ریمدان بارڈر سے جبری لاپتہ تین علماء میں سے دو کو رہا کر دیا گیا ہے۔ بلتستان کے تمام علماء، تنظیموں کے سربراہان کے اعلی حکام سے رابطے اور سوشل میڈیا پر بھرپور احتجاج کے بعد تین میں سے دو عالم دین کی رہائی عمل میں لائی گئی ہے۔ خاندانی ذرائع کے مطابق آغا سید عباس رضوی اور شیخ غلام عباس ناصری کو رہا کر دیا گیا ہے۔ جبری طور پر لاپتہ تیسرے عالم دین شیخ اختر علی کی رہائی عمل میں نہیں آ سکی ہے۔ یاد رہے کہ حوزہ علمیہ قم (جامعه المصطفی العالمیه) میں زیر تعلیم بلتستان سے تعلق رکھنے والے تین علماء کو گزشتہ روز ایران سے پاکستان آتے ہوئے ریمدان بارڈر پر گرفتار کرلیا گیا تھا۔ علماء کی گرفتاری پر سکردو میں انجمن امامیہ، شگر اور کھرمنگ میں علمائے کرام نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے علماء کی گرفتاری کی شدید مذمت کی اور جلد رہائی کا مطالبہ کیا۔ گرفتار علمائے کرام میں سید علی عباس رضوی کا تعلق غندوس کھرمنگ سے بتایا جاتا ہے، وہ علاقے کا امام جمعہ بھی ہیں۔ غلام عباس ناصری کا تعلق گمبہ سکردو اور شیخ اختر علی کا تعلق شگر سے ہے۔
.ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کو رہا کر دیا گیا
پڑھیں:
آئی ایم ایف اورپاکستان کی سیاست،ایک پیچیدہ تعلق
سپریم کورٹ سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق آئی ایم ایف کے چھ رکنی خصوصی وفدنے جوئل ٹرکیوٹزکی قیادت میں منگل(11فروری)کی دوپہرسپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی ملاقات کی ہے۔وفدنے پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاری کاتحفظ،معاہدوں کی پاسداری اورپراپرٹی حقوق کے بارے سوالات پوچھے جس کے جواب میں عدالتی اصلاحات اور کارکردگی کوبڑھانے کے لئے جاری کوششوں کاجائزہ پیش کیاگیا۔چیف جسٹس نے وفد کو یقین دہانی کروائی کہ ’’پاکستان میں عدلیہ آزاد ہے اور ادارے(سپریم کورٹ)کاسربراہ ہونے کے ناطے عدلیہ کی آزادی کاتحفظ ان کی ذمہ داری ہے‘‘۔
صحافیوں سے غیررسمی گفتگوکرتے ہوئے چیف جسٹس نے بتایاکہ ’’میں نے آئی ایم ایف کے وفد کو نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے ایجنڈے کا بتایا ہے کہ ماتحت عدلیہ کی نگرانی ہائیکورٹس کرتی ہیں۔چیف جسٹس نے آئی ایم ایف وفدکے اراکین کوواضح کیاکہ عدلیہ ایسے مشنز(وفود)کے ساتھ براہ راست بات چیت نہیں کرتی،لیکن فنانس ڈویژن کی درخواست پریہ ملاقات ہورہی ہے۔ ہم نے آئین کے تحت عدلیہ کی آزادی کاحلف اٹھارکھاہے،یہ ہماراکام نہیں ہے آپ کوساری تفصیلات بتائیں‘‘۔
چیف جسٹس نے وفد کوبتایاکہ وہ اپنے تبصروں پاکستان کی تنظیم نوشامل ہے۔سپریم کورٹ فروری کے آخری ہفتے میں متوقع آئندہ نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی(این جے پی ایم سی)کے اجلاس کے لئے ایک اہم ایجنڈے کوحتمی شکل دے رہی ہے جومختلف سٹیک ہولڈرزکی مشاورت سے تیارکیاجارہاہے۔مجوزہ ایجنڈے میں کسی بھی تجویزکوشامل کرنے کے لئے بالکل تیار ہیں۔ انہوں نے مشن کو اس ضمن میں تجویزشیئرکرنے کی دعوت بھی دی۔ ملاقات کے دوران عدالتی احتساب اورججوں کے خلاف شکایات کے ازالے کے طریقہ کارپربھی بات چیت ہوئی۔
آئی ایم ایف کے وفدنے قانونی اورادارہ جاتی استحکام کوبرقراررکھنے میں عدلیہ کے کردارکوتسلیم کیا اورگورننس اوراحتساب کو مضبوط بنانے کے لئے عدلیہ میں جاری اصلاحات کی تعریف کی۔بات چیت میں عدالتی کارکردگی کوبڑھانے اورقانون کی حکمرانی کو اقتصادی اورسماجی ترقی کے سنگ بنیادکے طورپر برقرار رکھنے کے مشترکہ عزم کااعادہ کیاگیا۔چیف جسٹس آف پاکستان سے ملاقات نے ملکی و بین الاقوامی سطح پر کئی سوالات کوجنم دیاہے۔سوال یہ ہے کہ اس ملاقات کے محرکات،اس کے آئینی پہلو، اوراس کے پاکستان کی خودمختاری پر کیاممکنہ اثرات پڑسکتے ہیں؟
پاکستان کاآئین عدلیہ کوایک خودمختارادارہ قراردیتاہے،جوانتظامیہ یاکسی بین الاقوامی ادارے کے سامنے جواب دہ نہیں ہوتا۔چیف جسٹس پاکستان کسی بھی غیرآئینی دباؤیااثرو رسوخ کے پابندنہیں ہیں۔تاہم،یہ ملاقات محض خیرسگالی یاعدالتی اصلاحات کے بارے میں معلوماتی تبادلہ ہوسکتی ہے۔اس قسم کی ملاقاتوں کا مقصد شفافیت کوفروغ دینایاقانونی معاملات میں بین الاقوامی اعتمادبحال کرنا ہوسکتاہے۔26ویں آئینی ترمیم کے بعدپاکستانی عدلیہ میں حالیہ اختلافات اورتقسیم کی خبریں ملکی سیاست اورقانونی نظام پراثرانداز ہو رہی ہیں۔ ایسی صورت میں آئی ایم ایف کاعدلیہ سے رابطہ،کسی بھی غیریقینی صورتحال یاممکنہ قانونی تنازعات کی پیش بندی کے طورپر دیکھاجاسکتا ہے،جومعاشی استحکام پراثرڈال سکتے ہیں۔
آئی ایم ایف کے وفودعموماًحکومتوں اورمرکزی بینکوں کے ساتھ ملاقات کرتے ہیں تاکہ مالیاتی پالیسیوں، اصلاحات،اورقرض معاہدوں کی شرائط پرتبادلہ خیال کیا جا سکے۔ تاہم ، عدلیہ سے ملاقات غیرمعمولی ہے اوراس کے پیچھے ممکنہ وجوہات میں ملک کے قانونی وعدالتی ڈھانچے کی پائیداری کاجائزہ لیناشامل ہوسکتاہے۔سرمایہ کاری اورمالیاتی استحکام کے لئے مضبوط عدالتی نظام ایک اہم عنصر ہوتا ہے،جس کی بنیادپرآئی ایم ایف کسی ملک کی قرض واپسی کی صلاحیت کا اندازہ لگاسکتاہے۔پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ کئی بارقرض معاہدے کیے ہیں جن میں معاشی اصلاحات، سبسڈی میں کمی،ٹیکس نیٹ میں اضافہ، بجلی اورگیس کی قیمتوں میں اضافہ،اورمالیاتی خسارے کوکم کرنے جیسے اقدامات شامل ہوتے ہیں۔یہ شرائط اکثرعوامی ناپسندیدگی کاشکارہوتی ہیں کیونکہ ان کے نتیجے میں مہنگائی اور بیروزگاری میں اضافہ ہوسکتاہے۔
آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے اکثرقرض دہندہ کے مفادات کے تحفظ کے لئے سخت شرائط کے ساتھ آتے ہیں۔اگرچہ یہ شرائط بظاہر اندرونی معاملات میں مداخلت لگ سکتی ہیں، مگر حقیقت میں یہ معاہدے کی شرائط کا حصہ ہوتے ہیں جنہیں قرض لینے والے ملک نے خود تسلیم کیا ہوتا ہے۔ تاہم، ان شرائط کا نفاذ اکثر ملک کی خود مختاری پر سوالات اٹھاتا ہے۔
ماہرین کی رائے اس حوالے سے منقسم ہے تاہم حکومت کے خیال میں یہ آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں ہے اوروفدپاکستان سے ہونے والے تازہ قرض معاہدے کے تحت ہی اپنے جائزہ مشن پرہے اوراداروں اوران کے سربراہان سے ملاقاتیں کررہاہے۔پاکستانی وفاقی وزیرقانون نذیرتارڑکے مطابق وفد کا یہ دورہ آئی ایم ایف کے ’’ڈومین‘‘یعنی دائرہ کار میں آتاہے۔قانون کی حکمرانی،وفدکے ساتھ انتظام کاحصہ ہے۔
لا اینڈ جسٹس کمیشن سپریم کورٹ کاایک ذیلی ادارہ ہے جوکہ جوڈیشل پالیسی اورعدالتی اصلاحات سے متعلق سفارشات تیارکرتا ہے۔جہاں تک بات عدالتی خودمختاری کی ہے یاججز کی تعیناتی کی،تویہ خالص ایک آئینی نوعیت کامعاملہ ہے اوراس پروفد مداخلت نہیں کرتااوریہ وفدکے مشن کاحصہ بھی نہیں تھا۔لااینڈجسٹس کمیشن پہلے سے ہی بہت سارے بین الاقوامی اداروں سے رابطے قائم کیے ہوئے ہے۔تاہم اس کے برعکس پاکستان کے سابق وزیرخزانہ ڈاکٹرحفیظ پاشاکے مطابق اس نوعیت کادورہ اور ملاقات کسی بھی ملک کے اندورنی معاملات میں مداخلت کی بہترین مثال ہے۔اس وفدکایہ مینڈیٹ ہی نہیں ہے کہ وہ اس طرح ملک کے چیف جسٹس سے ملیں اورپھران سے تفصیلی نوعیت کے سوالات کرے۔پاکستان نے آئی ایم ایف سے پہلے بھی قرض معاہدے کیے ہیں مگرماضی میں کبھی سپریم کورٹ کی سطح پرآئی ایم ایف نے کوئی جائزہ نہیں لیا۔
معاشی امورکے ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف وفدکی ملاقات کسی بھی طرح پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں ہے۔ ان کی رائے میں پاکستان نے آئی ایم ایف سے جو7 ارب ڈالر پروگرام کامعاہدہ کررکھاہے اس کے تحت پاکستان نے اس طرح کے جائزے کے لئے رضامندی ظاہرکررکھی ہے تاہم ڈاکٹرحفیظ کے مطابق سپریم کورٹ کاان معاملات سے کوئی تعلق نہیں بنتااوریہ ملاقات اگرضلعی عدالتوں یاہائی کورٹس کی سطح پربھی ہوتی،توبات قابل ہضم تھی،مگراس سے اوپرجانے کی کوئی تک نہیں بنتی تھی۔(جاری ہے)