راولپنڈی پولیس نے اسٹیڈیم کے قریب گرفتاری پر سوشل میڈیا اطلاعات کو فیک نیوز قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT
پاکستان اور بنگلہ دیش کے میچ کے دن اسٹیڈیم کے باہر سے ایک شخص کی گرفتاری کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس نے ایک جیکٹ پہنی ہوئی ہے جبکہ اس کے پاس سے رائفل بھی برآمد ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی اسٹیڈیم: چیمپیئنز ٹرافی میچ کے دوران گراؤنڈ میں گھسنے والے شخص کے خلاف مقدمہ درج
اس حوالے سے پولیس ذرائع نے وی نیوز کو بتایا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے کرکٹ میچ کے دوران اسٹیڈیم سے کچھ فاصلے پر فیض آباد کے قریب ایک مشتبہ شخص کو دیکھا گیا جس کے ساتھ اس کی بیوی بھی موجود تھی پولیس نے جب شخص کو گرفتار کیا تو اس شخص کی حضرت جمال کے نام سے شناخت ہوئی جبکہ اس کی بیوی کا نام شرینہ بی تھا۔
ذرائع نے کہا کہ وہ شخص خیبر پختونخوا کا رہائشی ہے اور وہ اسلام آباد کے علاقے بھارہ کہو میں مقیم ہے اور اس شخص کے پاس جو اسلحہ تھا اس کا لائسنس موجود تھا جو خیبر پختونخوا سے حاصل کیا گیا تھا۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ حضرت جمال کو جب گرفتار کیا گیا تو اس وقت اس نے ایک بلٹ پروف جیکٹ پہنی ہوئی تھی اور پوچھنے پر اس نے بتایا کہ اس کی اپنے آبائی علاقے میں دشمنی چل رہی ہے لہٰذا وہ جب بھی گھر سے باہر نکلتا ہے تو خود کو محفوظ رکھنے کے لیے بلٹ پروف جیکٹ پہن لیتا ہے۔
مزید پڑھیے: ارباب فیملی کا پشاور کے ارباب نیاز اسٹیڈیم کا نام تبدیل کرنے پر عدالت جانے کا فیصلہ
راولپنڈی پولیس نے بھی اس حوالے سے اپنا بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا کہ میڈیا پر گردش کرنے والی یہ خبر انتہائی گمراہ کن ہے، اس فرد کو حساس مقامات سے دور معمول کی چیکنگ کے دوران وقتی طور پر حراست میں لیا گیا ہے اور وہ کوئی دہشتگردی والا معاملہ نہیں ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس شخص پر دہشت گردی کا نہ تو کوئی شبہ ہے اور نہ ہی ایسی کسی بات کا کوئی ثبوت ملا ہے۔
پولیس نے سوشل میڈیا صارفین سے گزارش کی کہ وہ ذمے داری کا مظاہرہ کریں اور حقائق کے منافی گمراہ کن مواد شیئر کرنے سے پرہیز کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک بنگلہ میچ گرفتاری راولپنڈی راولپنڈی اسٹیڈیم.ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: راولپنڈی راولپنڈی اسٹیڈیم پولیس نے ہے اور
پڑھیں:
پی ٹی آئی راء سے بڑی پاکستان کیخلاف مہم چلا رہی ہے، احسن اقبال
وفاقی وزیر نے کہا کہ اب کسی سیاسی لانگ مارچ کی ضرورت نہیں، اس وقت اقتصادی مارچ کی ضرورت ہے، ہم ترقی کیلئے پاکستان ٹیم کے طور پر کام کریں گے، ہمیں اپنے سیاسی اختلاف کو بھول کر ملک کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے، سی پیک کا منصوبہ شروع کیا تو سوشل میڈیا پر غلط اطلاع دی گئی، سوشل میڈیا پر پیس انفارمیشن دی جا رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اس وقت راء سے بڑی پاکستان کیخلاف مہم چلا رہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر احسن اقبال نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے ہماری کامیابی کا انحصار برآمدات میں اضافہ ہے، ہمیں خود کو ڈیجیٹل پاکستان میں ڈھالنا ہے، ٹیکنو اکانومی ملک کا مستقبل ہے، سندھ ہمارا قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، تھر سے اتنا کوئلہ نکلا جو 400 سال تک چل سکتا ہے، ہم کوئلے سے سستے سے سستی بجلی پیدا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا تمام ممالک نے آبادی کے دباؤ پر قابو پا کر ترقی حاصل کی ہے، تھر پاکستان کا انرجی کیپٹل بن رہا ہے، توانائی کے مواقع سے فائدہ اٹھائیں، کراچی حیدرآباد موٹروے کی نئی الائنمنٹ فزیبلٹی پر کام شروع کر رہے ہیں، آبادی دو اعشاریہ پانچ فیصد سے بڑھ رہی ہے،2047 تک آبادی 40 کروڑ ہو سکتی ہے، دنیا نے آبادی کے دباؤ پر قابو پاکر ترقی کی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اب کسی سیاسی لانگ مارچ کی ضرورت نہیں، اس وقت اقتصادی مارچ کی ضرورت ہے، ہم ترقی کیلئے پاکستان ٹیم کے طور پر کام کریں گے، ہمیں اپنے سیاسی اختلاف کو بھول کر ملک کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے، سی پیک کا منصوبہ شروع کیا تو سوشل میڈیا پر غلط اطلاع دی گئی، سوشل میڈیا پر پیس انفارمیشن دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا ہم نے تمام صوبوں کی پانی کو واٹر اکارڈ کے تحت دیا ہے، ہم نے کسی صوبے کا ایک قطرا بھی دوسرے صوبے کو نہیں دیا، اپنی سیاست چمکائی جا رہی ہے، تمام صوبوں کو آئین اختیارات دیتا ہے، کیس اور صوبے کے وسائل کوئی اور صوبہ نہیں کھا سکتا، ملک میں قانون اور آئین اور عدالتیں موجود ہیں،ہمیں پانی معاہدے پر جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لینے کی ضرورت ہے۔
احسن اقبال نے کہا صوبہ سندھ دور حاضر کی سب سے بڑی موسمیاتی ٹریجڈی کا شکار ہوا ہے، 2022 کے سیلاب میں صوبہ سندھ سب سے زیادہ متاثر ہوا، ان حالات میں ہمیں ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنے کی تیاری کرنی ہے، صوبہ سندھ کے ساحلی علاقے سمندر برد بھی ہو رہے ہیں، اس کیلئے سبز انقلاب 2.0 پر عملدرآمد کرنا ہوگا، اڑان پاکستان کا ایک پوائنٹ توانائی بھی ہے، زیر زمین پانی کے اتہائی حد کو پہنچ گئے ہیں، اڑان پاکستان کا مقصد یہ ہے زیرزمین پانی کو بچایا جا سکے۔ میڈیا کی آزادی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ حکومت میڈیا کی آزادی کا مکمل احترام کرتی ہے، میڈیا کی آزادی کے نام پر سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی ماوں بہنوں کو ہراساں کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے، میں خود سوشل میڈیا کی نفرت انگیزی کا شکار ہوا ہوں، گولی اب بھی میرے جسم میں موجود ہے، برطانیہ میں الزام تراشی پر ایک ماہ میں 50 ہزار پاونڈ جرمانہ ہو جاتا تو کیا وہاں کوئی آزادی نہیں۔