سابق ٹیسٹ کپتان معین خان میں کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کو اب نئے خون کی ضرورت ہے،پاکستان کرکٹ ٹیم کی شکستوں پر غور کرنا ہوگا، میرٹ کا فقدان اور محنت میں کمی چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان کی ہار کی وجہ بنی، وزیر اعظم کرکٹ کے معاملات کا نوٹس لیں۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے معین خان نے کہا کہ اگر محنت نہ کریں   جیت نہیں سکتے۔ جو ٹیم محنت کر کے آتی ہے وہی جیتتی ہے۔ چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان کی شکست کی وجوہات میں بہت سی باتیں ہیں۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کی سلیکشن بھی درست انداز میں نئی ہوئی ،جن پلیئرز کو موقع ملا وہ توقعات پر پورا نہیں اترے۔

سابق کپتان کا کہنا تھا کہ جب عالمی کپ  ٹی 20 ہارے تو چیئرمین پی سی بی سمیت سب نے سرجری کی بات کی لیکن کچھ نہ ہوا۔ اس وقت بھی سرجری نہیں ہوئی، ہمیں مشکل فیصلے لینے پڑیں گے۔ اس وقت میرٹ کا فقدان ہے، تعلقات پر کرکٹ ہورہی ہے۔ پی سی بی میں میں کرکٹرز کی جگہ نان ٹیکنیکل لوگ بیٹھے ہوئے ہیں،جب محنت اور سنجیدہ کوشش نہیں کریں گے تو مشکلات سامنے آئیں گی۔

معین خان نے کہا کہ پاکستان  ٹیم کو مضبوط بنانے کے لیے تلخ فیصلے کرنا ہوں گے، میرٹ پر فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ کرکٹ میں بدقسمتی سے فیصلے پہلے ہو جاتے ہیں،پی سی بی میں ملازمت پہلے دے دی جاتی ہے اور اشتہار بعد میں آتا ہے،پی سی بی کا چیئرمین بھی ناظم نامزد ہوتا ہے ۔ گورننگ بورڈ نامزد چیئرمین کو ہی منتخب کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی سی بی میں ایسے لوگ ہونے چاہیے جن کو کرکٹ کا تجربہ ہو ،من پسند اور مرضی کے لوگوں کو لانے کا سلسلہ بند کرنا ہوگا۔وزیراعظم کو کرکٹ میں ریفارم پر توجہ دینی ہوگی۔ پی ایس ایل میں کارکردگی کی بنیاد پر ون ڈے ٹیم بنا لی جاتی ہے، بی پی ایل میں کارکردگی بنیاد پر قومی ٹیم میں کھلاڑی شامل کر لیا گیا،اب کرکٹ میں نئے خون کو موقع ملنا چاہیے،ریجن کی سطح پر کرکٹ کو تقویت دینا ہوگی۔

بابر اعظم کے متعلق بات کرتے ہوئے معین خان نے کہا کہ بابرعظم اچھا کھلاڑی ہے اسے خود کو تبدیل کرنا ہوگا۔ بابر اعظم کو اپنی سوچ اور رویے میں تبدیلی لانا ہوگی، بابر اعظم کو ویرات کوہلی کی طرح خود کو تبدیل کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم میں اب سینئرز کو خیرباد کہنا ہوگا، قومی ٹیم کو نئے خون کی ضرورت ہے۔ چیئر مین پی سی بھی معاملات کا نوٹس لیں، پی سی بی سے بڑی بڑی تنخواہ لینے والے اس کے خلاف ہی باتیں کررہے ہیں۔

.

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان کرکٹ ٹیم کرنا ہوگا نے کہا کہ پی سی بی

پڑھیں:

قومی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی پر سابق کپتان کا اہم کھلاڑیوں کو ٹیم سےنکالنے کا مطالبہ

قومی ٹیم کے سابق کپتان محمد حفیظ نے ناقص کارکردگی پر پاکستانی ٹیم کے تینوں فرنٹ لائن فاسٹ بولرز کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔مقامی ٹی وی چینل پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق کپتان محمد حفیظ نے فاسٹ بولرز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ اور حارث رؤف کو ٹیم سے باہر نکال دینا چاہیے۔

سابق کرکٹر کا کہنا تھا کہ تینوں فاسٹ بولرز نے ایشیاکپ 2023 کے بعد سے ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، اس دوران تینوں کرکٹرز نے ون ڈے ورلڈکپ، ٹی20 ورلڈکپ اور اب چیمپئنز ٹرافی جیسے میگا ایونٹس کھیلے ہیں۔انہوں نے کہا اب یہ تسلیم کرنے کا وقت ہے کہ ٹیلنٹ کے باوجود ان تینوں نے پاکستان کو بڑا ٹورنامنٹ نہیں جتوایا، اب وقت ہے کہ ہم آگے بڑھیں اور دوسرے بولرز جیسے محمد علی، خرم شہزاد، محمد وسیم جونیئر، عاکف جاوید اور میر حمزہ کو موقع دیں۔ محمد حفیظ نے کہا کہ نوجوان فاسٹ بولر اپنے مواقعوں کا انتظار کررہے ہیں، وہ بھی مستحق ہیں انکے پاس بھی پاکستانی پاسپورٹ ہے۔

دوسری جانب بابراعظم سے متعلق بات کرتے ہوئے سابق کپتان نے کہا کہ بابر گزشتہ 10 سالوں سے پاکستان کیلئے کھیل رہے ہیں لیکن آج تک ایک میچ میں بھی بھارت کے خلاف قومی ٹیم کو فتح دلانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ان کا کہنا تھا کہ بابر کو اب نمبر تین پر مستقل کھلانا چاہیے تاکہ ٹیم کا مڈل آرڈر مضبوط ہو، رضوان، بابر اور سلمان علی آغا مل کے اچھا مڈل آرڈر بن سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • وزیراعظم چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان کی بدترین کارکردگی کا نوٹس لیں گے
  • قبول کرتے ہیں کہ چیمپیئنز ٹرافی میں شائقین کی توقعات پر پورا نہیں اترسکے، محمد رضوان
  • چیمپئنز ٹرافی کا سب سے بے معنی میچ  آج ہوگا، خود غرض کرکٹرز رہی سہی ساکھ بچانے کیلیے کوشاں
  • چیمپئنز ٹرافی کے دوران کپتان اور کوچ میں انا کی جنگ
  • چیمپئنز ٹرافی کے دوران کپتان اور کوچ  میں انا کی جنگ
  • عبرتناک شکست پاکستان کرکٹ کو غیر یقینی مستقبل کا سامنا ، شائقین ،اسپانسرز کی دلچسپی ختم
  • قومی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی پر سابق کپتان کا اہم کھلاڑیوں کو ٹیم سےنکالنے کا مطالبہ
  • پاکستانی ٹیم کا چیمپئنز ٹرافی کا مختصر سفر، لیکن کیوں؟
  • چیمپئنز ٹرافی میں مسلسل دو شکست، قومی کرکٹ ٹیم اور مینجمنٹ میں بڑی تبدیلیاں متوقع