عمران معافی نہیں مانگیں گےمگر معاف کرنے کو تیار ہیں
اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT
اسلام آباد:پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ عمران خان رہائی کے لیے اسٹیبلشمنٹ سے کبھی معافی نہیں مانگیں گے، معافی مانگنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تاہم عمران خان جمہوریت کے لیے سب کو معاف کرنے کے لیے تیار ہیں اس لیے باقی لوگوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے مؤقف سے تھوڑا پیچھے ہٹیں۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جب انا بیچ میں آ جاتی ہے تو کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی، آرمی چیف سے میری ملاقات پر عمران خان خوش تھے اور انہوں نے اطمینان کا اظہار بھی کیا۔
بیرسٹر گوہر نے کہاکہ میں نے یہ ملاقات عمران خان کی پیشگی اجازت سے کی تھی، آرمی چیف سے دوسری ملاقات ابھی شیڈول میں نہیں۔
انہوں نے کہاکہ ہمارے سپورٹرز ہم سے ناراض ہیں، ان کو یہ بات ہضم ہی نہیں ہورہی کہ عمران خان کیوں جیل میں ہیں۔ ’ہم ان کو کہتے ہیں کہ اپنے جذبات پر قابو رکھو لیکن وہ کب تک جذبات پر قابو رکھیں گے۔
بیرسٹر گوہر نے کہاکہ پی ٹی آئی ملک کی بڑی سیاسی جماعت ہے، سب لوگ عمران خان کی قیادت میں متحد ہیں، جب پارٹی پر مشکل وقت تھا تو قیادت منظر عام پر نہیں تھی، ایسے وقت میں عمران خان نے میرا نام بطور پارٹی چیئرمین لیا تو سب لوگوں نے اسے خوشی سے تسلیم کیا، پارٹی میں اختلافات اس لیے ہیں کیوں کہ ہم کنگز پارٹی نہیں ہیں، سب کو آزادی حاصل ہے کہ جو کرنا چاہیں کرسکتے ہیں، پارٹی میں ڈسپلن قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں، تاہم پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہاکہ عمران خان رہائی کے لیے اسٹیبلشمنٹ سے کبھی معافی نہیں مانگیں گے، سیاست میں معافی مانگنا کچھ نہیں ہوتا، عمران خان جمہوریت کے لیے سب کو معاف کرنے کے لیے تیار ہیں تو باقی لوگوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے مؤقف سے تھوڑا پیچھے ہٹیں، یہ ملک اور جمہوریت کے لیے ضروری ہے، جب انا بیچ میں آ جاتی ہے تو ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔
بیرسٹر گوہر نے کہاکہ شیر افضل مروت کو پارٹی سے نکالے جانے کا فیصلہ حتمی ہے، یہ اب عمران خان کی صوابدید ہے کہ وہ کسی کو کب واپس پارٹی میں بلا لیں، شیر افضل مروت عمران خان سے ملاقات کرکے پارٹی میں واپس آ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ علی امین گنڈاپور نے عمران خان کو خود کہا تھا کہ ان پر گورننس کا بوجھ زیادہ ہے، وہ صوبائی معاملات پر توجہ نہیں دے پا رہے اس لیے پارٹی کی صوبائی صدارت کسی کارکن کو دے دی جائے جس پر جنید اکبر کو صوبائی صدر بنانے کا فیصلہ کیا گیا، اب بھی عمران خان کو علی امین گنڈاپور پر مکمل اعتماد ہے۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے کہاکہ ہماری پارٹی کی سیاسی، لیگل اور دیگر کمیٹیاں موجود ہیں، وہ فیصلہ کرتی ہیں کہ کس کو کس طرح احتجاج کرنا ہے، حلقوں سے احتجاج کے لیے لوگ لانے کے لیے ارکان قومی اسمبلی کی نہیں بلکہ ارکان صوبائی اسمبلی اور ٹکٹ ہولڈرز کی ذمہ داری ہوتی ہے، یہ سب پالیسیاں عمران خان کی ہدایت پر بنائی جاتی ہیں، جہاں مجھے کہا جاتا ہے میں لیڈ بھی کرتا ہوں۔ سوشل میڈیا بہت تیز ہو چکا ہے، لوگ اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ ایسے انداز میں کسی پر تنقید نہیں کرنی چاہیے کہ اس کو برا لگے۔
بیرسٹر گوہر نے کہاکہ عمران خان جب سے جیل میں گئے ہیں اپنا خرچ خود کرتے ہیں، سادہ غذا کھاتے ہیں، باہر سے کچھ نہیں منگواتے، ان کو ایک مشقتی کھانا بنا کر دیتا ہے، اور مشقتی کیا کھانا بناتا ہو گا یہ آپ اندازہ کرلیں۔
انہوں نے کہاکہ عمران خان کوئی فروٹ یا ایواکاڈو نہیں کھاتے یہ حکومت کے من گھڑت اخراجات کی تفصیل ہے جو حقیقت پر مبنی نہیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہاکہ عمران خان کا جیل میں ہونا پورے سسٹم کی ناکامی ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے کارکنان اور سپورٹرز ہم سے ناراض ہیں کہ کیوں کپتان کی رہائی نہیں ہو پارہی، ہم کب تک کارکنوں کو روک کر رکھیں گے۔
انہوں نے کہاکہ پانچ دنوں میں 45 سال کی تین سزائیں دی گئیں، اور جب بھی سزا دی جاتی ہے تو ساتھ بھاری جرمانے بھی عائد کیے جاتے ہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہاکہ عمران خان اپنے لیے کچھ نہیں مانگ رہے، وہ بطور سابق وزیراعظم یا پارٹی سربراہ نہیں ایک عام آدمی کے طور پر انصاف کا تقاضا کررہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت ہونی چاہیے، بشریٰ بی بی کا توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن وہ بھی جیل میں قید ہیں۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے کہاکہ عمران خان ہی پارٹی کے چیئرمین تھے، ہیں اور رہیں گے، چاہے وہ جیل میں ہوں یا باہر، وہی پارٹی کے فیصلے کرتے ہیں، مائنس عمران خان پورے ملک میں کوئی خبر ہی نہیں ہے، تمام پارٹیوں نے عام انتخابات میں 3 کروڑ ووٹ لیے لیکن عمران خان نے تمام تر سختیوں کے باوجود سب کو شکست دی۔
بیرسٹر گوہر نے کہاکہ میں نے کبھی بطور پارٹی چیئرمین ایک روپیہ بھی تنخواہ نہیں لی، پارٹی کا ایک پین پینسل تک استعمال نہیں کیا، گاڑی بھی استعمال نہیں کرتا، جبکہ عمران خان کے سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے کیسز مفت لڑے ہیں۔
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر نے کہاکہ نے کہاکہ عمران خان انہوں نے کہاکہ عمران خان کی کہ عمران خان پارٹی میں پی ٹی ا ئی جیل میں کے لیے
پڑھیں:
’شیر افضل مروت عمران خان سے ملاقات کرکے پارٹی میں واپس آسکتے ہیں‘
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ شیر افضل مروت کو پارٹی سے نکالے جانے کا فیصلہ حتمی ہے، یہ اب عمران خان کی صوابدید ہے کہ وہ کسی کو کب واپس پارٹی میں بلا لیں، شیر افضل مروت عمران خان سے ملاقات کرکے پارٹی میں واپس آ سکتے ہیں۔
وی نیوز سے ایک خصوصی انٹرویو میں بیرسٹر گوہر خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ علی امین گنڈاپور نے عمران خان کو خود کہا تھا کہ ان پر گورننس کا بوجھ زیادہ ہے، وہ صوبائی معاملات پر توجہ نہیں دے پا رہے اس لیے پارٹی کی صوبائی صدارت کسی کارکن کو دے دی جائے جس پر جنید اکبر کو صوبائی صدر بنانے کا فیصلہ کیا گیا، اب بھی عمران خان کو علی امین گنڈاپور پر مکمل اعتماد ہے۔
بیرسٹر گوہر نے مزید کیا کہا، جانیے اس ویڈیو میں
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں