ترکیہ، کرد عسکریت پسند رہنما عبد اللہ اوجلان نے ہتھیار ڈال دیے
اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT
ترکیہ میں کرد عسکریت پسند تنظیم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے رہنما عبداللہ اوجلان نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق جمعرات کے روز کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے رہنما عبداللہ اوجلان سے کرد حامی ترک جماعت پیپلز ایکویلیٹی اینڈ ڈیموکریسی پارٹی(ڈی ای ایم پارٹی) کے ایک وفد نے جیل میں ملاقات کی۔
یہ بھی پڑھیں:’پاک-ترکیہ مشترکہ مشق اتاترک 13‘ کی اختتامی تقریب
وفد سے گفتگو میں عبداللہ اوجلان نے کہا ’میں ہتھیار ڈالنے کی اپیل کررہا ہوں اور اس تاریخی ذمہ داری کو قبول کرتا ہوں۔‘
انہوں نے اپنی جماعت سے اپیل کی کہ وہ ایک اجلاس منعقد کرے اور باضابطہ طور پر تنظیم کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کرے۔
عرب میڈیا کے مطابق ترکیہ کی ڈی ای ایم پارٹی کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس میں عبداللہ اوجلان سے منسوب خط پڑھ کر سنایا، عبداللہ اوجلان نے خط میں لکھا کہ امن ہتھیار اٹھانے اور جنگ سے زیادہ طاقتور ہے، ہم امن و سلامتی کا پیغام دینا چاہتے ہیں۔
عبد اللہ اوجلان نے مزید کہا کہ کردوں کے وجود کو تسلیم نہیں کیا جارہا تھا تو کردستان ورکرزپارٹی وجود میں آئی، چیلنجز کا سامنا کرنے کے ليے کردستان ورکرز پارٹی کا قیام ناگزیر تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ترک انٹیلیجنس چیف کا 13 سال بعد شام کا دورہ، تاریخی مسجد میں نوافل ادا کیے
اپنے خط میں عبدالہ اوجلان نے کہا کہ تمام مسلح گروہوں کو ہتھیار ڈالنا پڑیں گے۔
عرب تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ عبداللہ اوجلان کی یہ اپیل ترکی میں 40 سالہ تنازعے کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہے اور خطے میں سیاسی و سلامتی کے لحاظ سے دور رس نتائج مرتب کر سکتی ہے۔
خیال رہے کہ عبد اللہ اوجلان 1999 سے ترکی کی امرالی جیل میں قید ہیں۔
واضح رہے کہ ترکی اور اس کے مغربی اتحادی پی کے کے کو ایک دہشتگرد تنظیم قرار دیتے ہیں۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق پی کے کے کی جانب سے 1984میں شروع ہونے والی لڑائی میں اب تک 40 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: عبداللہ اوجلان اوجلان نے پی کے کے
پڑھیں:
کشمیر کے لوگوں سے رائے شماری کا وعدہ کیا گیا تھا، عمر عمداللہ
میرواعظ نے کہا کہ عمر عبداللہ کے غیر ذمہ دارانہ تبصرے، ایک ذمہ دار شخص کے طور پر جو حالات کو پوری طرح جانتے ہوئے بھی فراہم کردہ تحفظ کے پیچھے محرکات بتا رہے ہیں، انتہائی افسوسناک ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے دفعہ 370 کو عارضی اور عبوری قرار دینے پر سوال اٹھایا۔ ایک نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے دفعہ 370 کے عارضی اور عبوری ہونے کی منتخب تشریح کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ یہ شق رائے شماری کے وعدے سے منسلک ہے۔ عمر عبداللہ نے کہا "آپ دفعہ 370 کے عارضی اور عبوری ہونے کی بات کرتے ہیں لیکن یہ عارضی کیوں تھا، عبوری حیثیت کس سے منسلک تھی، آپ اس کے بارے میں بات کیوں نہیں کرتے، جموں اور کشمیر کے لوگوں سے رائے شماری کا وعدہ کیا گیا تھا"۔ عمر عمداللہ نے کہا کہ کشمیر کا بھارت کے ساتھ انضمام مستقل ہے اور اس کے لئے شرائط اور فریم ورک بھی مستقل ہے۔
عمر عبداللہ نے استدلال کیا کہ دونوں پہلوؤں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جانا چاہیئے، نہ کہ ایک کو مستقل اور دوسرا عارضی۔ دریں اثناء ایک تنازعہ کھڑا ہوگیا جب عمر عبداللہ نے اسی انٹرویو میں حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق کی سکیورٹی کو 2019ء میں دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد سے علیحدگی پسند سرگرمیوں میں کمی سے جوڑا، لیکن ان کے ریمارکس پر میرواعظ عمر فاروق کے ساتھ ساتھ حکمراں نیشنل کانفرنس کے سیاسی مخالفین کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا۔
میرواعظ عمر فاروق نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ عمر عبداللہ کے غیر ذمہ دارانہ تبصرے، ایک ذمہ دار شخص کے طور پر جو حالات کو پوری طرح جانتے ہوئے بھی فراہم کردہ تحفظ کے پیچھے محرکات بتا رہے ہیں، انتہائی افسوسناک ہے۔ میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ "غیر ذمہ دارانہ تبصرے مبصر کے عدم تحفظ کو بے نقاب کرتے ہیں اور پہلے سے ہی پریشان اور مظلوم لوگوں میں ان کے اور ان کی ذہنیت کے بارے میں مزید مایوسی پیدا کرتے ہیں۔
پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد لون نے بھی اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں میرواعظ عمر فاروق سے لاکھ اختلاف ہو سکتے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ ان کے والد کو شہید کر دیا گیا تھا۔ سجاد لون نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ آپ کے بیانات کا کیا مطلب ہے۔ میرواعظ عمر فاروق کے لئے نام نہاد سکیورٹی کا آپ کا ذکر وہی ہے جسے ہم پچھلی 3 دہائیوں سے جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا "آپ کو ہندوستان میں ہمیشہ سب سے زیادہ سیکورٹی فراہم کی گئی ہے اور کیا آپ کو وائٹ کالر قاتل کی طرح کام کرنا چاہیئے اور ایسے بیانات دینا چاہئے جس سے کسی شخص کے لئے خطرہ بڑھ جائے، غیر ذمہ دارانہ گفتگو۔