سینیٹ کی قائمہ کمیٹی صوبائی حکومتوں پر برہم، چیف سیکریٹری سندھ کو طلب کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT
اسلام آباد:
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے منصوبوں پر اخراجات کی تفصیلات نہ دینے پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور چیف سیکریٹری سندھ کو طلب کرلیا۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا اجلاس سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو کی زیر صدارت منعقد ہوا اور کمیٹی نے صوبوں کی جانب سے منصوبوں پر اخراجات کی تفصیلات نہ دینے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔
چیئرمین قائمہ کمیٹی کا کہنا تھا کہ صوبہ سندھ اور بلوچستان کے منصوبوں کی تفصیلات نہیں دی گئیں، کمیٹی نے چیف سیکریٹری سندھ کو اگلے اجلاس میں طلب کرلیا ہے۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ یورپی یونین کی فراہم کردہ گرانٹ کے اخراجات کی تفصیلات طلب کی گئی تھیں، دادو وزیر اعلیٰ کا ضلع ہے وہاں کے اخراجات پر تفصیلات نہیں ملیں۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سندھ میں ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے منظور نظر افراد میں سولر پینل تقسیم کیے جا رہے ہیں، وزارت اقتصادی امور چیف سیکریٹری سندھ سے تفصیلات لے کر بتائے۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی لوگوں میں سولر پینلز تقسیم ہو رہے ہیں، اگر سندھ تفصیلات فراہم نہیں کرتا تو ڈونرز کو لکھیں گے کہ بے ضابطگی ہو رہی ہے ۔
سیکریٹری اقتصادی امور ڈاکٹر کاظم نیاز نے کہا کہ وزارت اقتصادی امور نے 2022 کی تفصیلات بھی کمیٹی کو فراہم کی ہیں، 2022 میں 8 ارب ڈالر کا ہدف حکومت نے رکھا تھا جبکہ پاکستان کو 2022 کے سیلاب سے نمٹنے کے لیے 10 ارب ڈالر ملے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جو بھی قرض ملا وہ کم شرح سود پر ملا، عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک نے رعایتی قرضے دیے، عالمی مالیاتی اداروں نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے کردار کی تعریف کی ہے۔
کمیٹی نے اگلے اجلاس میں کولمبو پلان کی تفصیلات طلب کرلی ہیں اور چیئرمین کمیٹی سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ سندھ میں سولر پینل ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے منظور نظر افراد میں تقسیم ہو رہے ہیں، وزارت اقتصادی امور چیف سیکریٹری سندھ سے تفصیلات لے کر بتائ۔
انہوں نے مزیدکہا کہ حکومتی لوگوں میں سولر پینلز تقسیم ہو رہے ہیں، اگر سندھ تفصیلات فراہم نہیں کرتا تو ڈونرز کو لکھیں کہ بے ضابطگی ہو رہی ہے، سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے گھر بنانے کے بجائے کسی اور کے بن رہے ہیں، پلاننگ کمیشن سندھ نے تفصیلات اگلے اجلاس میں پیش کرنے کی یقین دہانی کرادی ہے۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چیف سیکریٹری سندھ قائمہ کمیٹی کی تفصیلات نے کہا کہ کمیٹی نے میں سولر رہے ہیں
پڑھیں:
شاہراہوں کی تعمیر، بلوچستان ہائیکورٹ نے چیئرمین این ایچ اے، سیکریٹری پلاننگ کو طلب کرلیا
بلو چستان ہائیکورٹ کے نے قومی شاہراہوں کے مںصوبوں کی پیش رفت رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور سیکریٹری پلاننگ ڈویژن کو طلب کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان کی قاتل قومی شاہراہیں، ایک ماہ میں 29 افراد زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے
جسٹس عبداللہ بلو چ اور جسٹس اقبال احمد کاسی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے قومی شاہراہ این 25 کرا چی، خضدار، خضدار ، کچلاک چمن کو دورویہ بنا نے اور سوراب سے گوادر تک شاہراہ کی مرمت اور بحالی کے منصوبوں سے متعلق شہری الہٰی بخش کی جا نب سے دائر کردہ آئینی درخواست کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران منصوبوں کے حوالے سے پیش کی گئی پیش رفت رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے عدالت نے چیئرمین این ایچ اے اور سیکریٹری پلاننگ ڈویژن کو طلب کر لیا اگلی پیشی پر طلب کرلیا۔
ڈویژنل بینچ نے چیئر مین این ایچ اے کو ہدایت کی کہ قومی شاہرا ہ این 25 کی بروقت تکمیل اور این۔ 85 کی مرمت کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا ئیں۔
سماعت کے دوران این۔25 شاہراہ کراچی-خضدار، خضدار-کچلاک- چمن کے حوالے بینچ کو بتا یا گیا کہ اس سلسلے میں بولی 18 فروری2025 کو ہونی تھی تاہم PEPRA کے سامنے اس بابت کچھ شکایات اور ٹھیکیداروں کے درخواست زیر التوا ہونے کی وجہ سے اس کی تاریخ میں 4 مارچ 2025 تک توسیع کی گئی ہے۔
مزید پڑھیے: بلوچستان میں عوام دہشتگردوں سے زیادہ کس کے ہاتھوں جان گنوا رہے ہیں؟
سید اشرف علی شاہ، جی ایم (بلوچستان ویسٹ) گوادر نے عدالت کو بتا یا کہ ناگ سے ہوشاب تک سی پیک روڈ کی مرمت کا کام تقریباً 90 فیصد مکمل ہو چکا ہے جس کی انہوں نے بعض تصاویر بھی ریکارڈ کے لیے پیش کیں۔
بینچ نے قرار دیا کہ این ایچ اے قومی شاہراہ 25 شاہراہ کو دو رویہ کرنے کے لیے مناسب طریقے سے آ گے بڑھنے میں ناکام رہا یہاں تک کہ زمین کے حصول تک کی کارروائی بھی مکمل نہیں ہوئی۔
عدالت نے پلاننگ ڈویژن کی جانب سے نمائندہ اور پیش رفت رپورٹ پیش نہ کر نے پر برہمی کا اظہار کیا۔ بینچ نے این۔ 25 شاہراہ کراچی-خضدار، خضدار-کچلاک- چمن روڈ کی جلد از جلد تکمیل اور اس حوالے سے تمام مطلوبہ فنڈز کی دستیابی کو یقینی بنانے کا حکم بھی دیا۔
مزید پڑھیں: بلوچستان میں پیپلز پارٹی حکومت کے 6 ماہ، عوام کو اب تک کیا ملا؟
بینچ نے حکم دیا کہ اگلی تاریخ سماعت پر پیش رفت رپورٹ پیش کی جائے کیونکہ دو رویہ سڑکوں کی عدم دستیابی سے عوام کو بڑی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
سماعت کے دوران چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن حب نے پیش ہو کر پیش رفت رپورٹ جمع کرائی جو ریکارڈ پر لے لی گئی اور اس کی کاپی درخواست گزار کے حوالے کر دی گئی۔ عدالت نے سما عت 10 مارچ 2025 تک ملتوی کر دی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
این ایچ اے بلوچستان ترقیاتی منصوبے بلوچستان شاہراہیں بلوچستان ہائیکورٹ