مسلمانان ہند کی تعلیمی و سماجی ترقی میں مولانا عبدالحمید رحمانی کے کردار پر سیمینار کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT
سیمینار میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی سے متعلق مضامین کے انگریزی ترجمہ کو شائع کرانے کے علاوہ مولانا رحمانی سے متعلق چند مزید اہم قراردادیں بھی منظور کی گئیں۔ اسلام ٹائمز۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی جانب سے ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سینٹر نئی دہلی جامعہ اسلامیہ سنابل نیز طلبہ و طالبات کے لئے متعدد تعلیمی و اقامتی ادارے قائم کرنے والے معروف عالم دین مولانا عبدالحمید رحمانی کی حیات و خدمات پر دو روزہ سیمینار منعقد کیا گیا۔ سیمینار کا موضوع "مسلمانان ہند کی تعلیمی و سماجی ترقی میں مولانا عبدالحمید رحمانی کا کردار" تھا۔ اس اہم سیمینار میں ملک و بیرون ملک کی متعدد شخصیات نے مقالات اور تأثرات پیش کئے۔ نیز افتتاحی اجلاس میں جامعہ اسلامیہ سنابل اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے درمیان یادگاری شیلڈ کا تبادلہ کیا گیا اور مولانا عبدالحمید کی زندگی پر ایک ڈاکومنٹری فلم بھی دکھائی گئی، جس میں مولانا عبدالحمید رحمانی کی وفات کے بعد بھی سینٹر کی ترقی کے منظر دکھائے گئے۔
افتتاحی اجلاس کے مہمانی خصوصی مولانا عبدالحمید کے بیٹے معروف عالم دین اور سینٹر کے موجودہ صدر مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی تھے۔ سیمینار میں 40 سے زائد مقالے پڑھے گئے جبکہ بعض اہم شخصیات نے اپنے تأثرات بھی پیش کئے۔ ان مقالات میں مولانا رحمانی کی پیدائش، خاندانی احوال، نشو و نما، تعلیم و تربیت، عرب اور بیرونی ممالک کے علماء اور سیاسی شخصیات سے تعلقات، سیاسی زندگی کے احوال اور ان کی کامیاب صاف ستھری سیاسی زندگی کے مختلف گوشوں، جامعہ رحمانیہ اور جامعہ سلفیہ بنارس کی تدریس، جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے طالب علمی اور فراغت کے بعد کے احوال نیز دیگر کئی مجلات کی ادارت اور اشراف نیز کامیاب اشاعت اور خصوصی نمبرات، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ سے متعلق ان کی کاوشیں، حج کمیٹی، مسلم مجلس مشاورت سے ان کی وابستگی نیر دنیا کے دسیوں ممالک کے اسفار اور اہم کانفرنسوں میں شرکت اور عالمی طور پر مسلمانوں کے لئے لائحہ عمل تیار کرنے کی کاوشیں وغیرہ شامل تھیں۔
سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں بالخصوص مولانا محمد رحمانی نے اپنے والد گرامی کی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے متعلق مساعی کا تذکرہ کیا جو ان کے مضامین کے خلاصہ پر مشتمل تھیں۔ جس پر اسلامک اسٹڈیز کے پروفیسر عبیداللہ فہد نے بالخصوص مسلم یونیورسٹی پر لکھے گئے مولانا عبدالحمید رحمانی کے تمام مضامین کو جمع کرکے ان کا انگریزی ترجمہ کرانے اور کتابی شکل میں شائع کرنے کا اعلان کیا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے متعلق مضامین کے انگریزی ترجمہ کو شائع کرانے کے علاوہ مولانا رحمانی سے متعلق چند مزید اہم قراردادیں بھی منظور کی گئیں، جن کا اعلان اسلامک اسٹڈیز کے صدر پروفیسر عبدالحمید فاضلی نے کیا۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مولانا عبدالحمید رحمانی میں مولانا
پڑھیں:
گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں کیریئر ایکسپو کا انعقاد
کیریئر ایکسپو کا بنیادی مقصد طلباء کو ملازمتوں اور انٹرن شپ کے مواقع فراہم کرنا تھا تاکہ وہ اپنے پیشہ ورانہ مستقبل کیلئے بہتر تیاری کر سکیں۔ ایونٹ میں 50 سے زائد معروف بین الاقوامی اور قومی اداروں نے شرکت کی، جن میں آئی ٹی سیکٹر، بینکنگ، نیوی اور ایئر فورس جیسے اہم ادارے شامل تھے۔ اسلام ٹائمز۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں کیریئر ایکسپو کا انعقاد کیا گیا، جس کا افتتاح صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے کیا۔ اس موقع پر رجسٹرار ڈاکٹر شوکت علی اور انچارج کیریئر گائیڈنس سفیان بجار بھی موجود تھے۔ کیریئر ایکسپو کا بنیادی مقصد طلباء کو ملازمتوں اور انٹرن شپ کے مواقع فراہم کرنا تھا تاکہ وہ اپنے پیشہ ورانہ مستقبل کیلئے بہتر تیاری کر سکیں۔ ایونٹ میں 50 سے زائد معروف بین الاقوامی اور قومی اداروں نے شرکت کی، جن میں آئی ٹی سیکٹر، بینکنگ، نیوی اور ایئر فورس جیسے اہم ادارے شامل تھے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ یونیورسٹی طلبہ کو تعلیمی مرحلے کے دوران ہی روزگار کے مواقع فراہم کر رہی ہے تاکہ وہ تعلیم کیساتھ ساتھ عملی تجربہ بھی حاصل کر سکیں۔
رانا سکندر حیات نے کہا کہ ہمیں اپنی یونیورسٹیوں کو عالمی سطح کی یونیورسٹیوں کے مقابلے میں لانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام یونیورسٹیوں میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے انکوبیشن سینٹرز قائم کریں گے تاکہ طلبہ جدید ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کر سکیں۔ انہوں نے خواتین کی ترقی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم وومین امپاورمنٹ پر کام کر رہے ہیں، کیونکہ خواتین کی ترقی ہی پاکستان کی ترقی ہے۔ اس کیساتھ ساتھ انہوں نے طلبہ کو اسکالرشپس اور لیپ ٹاپس فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے طلباء سے کہا کہ دو ہفتوں میں جی سی یونیورسٹی کا مستقل وائس چانسلر بھی آ جائے گا۔ رانا سکندر حیات نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ٹیکنالوجی اور سکلز سیکھنے کی طرف توجہ دیں تاکہ وہ مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کر سکیں۔