جماعت اسلامی واحد جماعت تھی جس نے کراچی میں ہماری سیٹ واپس کی، بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT
بیرسٹر گوہر: فوٹو فائل
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ 175 سیاسی جماعتوں میں سے ایک جماعت نے بھی ہمارے حق میں بات نہیں کی تھی، جماعت اسلامی واحد جماعت تھی جس نے کراچی میں ہماری سیٹ واپس کی۔
اسلام آباد میں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ الیکشن میں ہمارا مینڈیٹ چوری کیا گیا، پی ٹی آئی پاور شیئرنگ پر یقین نہیں رکھتی، بانی پی ٹی آئی عوامی پاور پر یقین رکھتے ہیں، اس لیے جیل میں ہیں، انتخابات کے دوران ہمیں کنونشنز کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں مذاکرات ہوں، حکومتی حلقوں سے اس پر بات چیت چل رہی ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم پاس کروالی گئی، ایسا ہونا چاہیے جس میں سسٹم کی ہار نہ ہو، ترمیم کے وقت ہم مولانا فضل الرحمان کے کردار کو سراہتے ہیں، ترمیم ہر صورت واپس ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ آج جو کچھ ہوا یہ سب پی ٹی آئی گزشتہ دو سال سے دیکھتی آئی ہے، آج ہمیں سب کچھ بھول کر مستقبل کے بارے میں لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا، پاکستان میں 175 جماعتیں موجود ہیں۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ آئین میں یہ ضرور لکھا ہے کہ مدت پانچ سال ہوگی، آئین میں یہ بھی لکھا ہے کہ ملکی حالات کو دیکھتے ہوئے دوبارہ الیکشن کروائے جا سکتے ہیں، اسمبلی کے رولز میں حلف سے متعلق واضح لکھا ہے کہ رولز کی پاسداری کریں گے، ہمیں تعین کرنا ہوگا کہ ہمیں تاریخ کی کس سمت کھڑا ہونا ہے۔
.ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر نے کہا کہ
پڑھیں:
عوام کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا، اپوزیشن کی کانفرنس کامیاب ہوگئی: بیرسٹر گوہر
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عوام کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا، اپوزیشن کی کانفرنس کامیاب ہوگئی ہے۔ اسلام آباد میں اپوزیشن کانفرنس میں شرکت سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ عوام اٹھ چکے ہیں، عوام کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا، اپوزیشن کی کانفرنس کامیاب ہو گئی ہے، عدلیہ کو آزاد اور ملک میں قانون کی حکمرانی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے مشورہ دیا تھا کہ کے پی ہاؤس میں کانفرنس کر لیں، اپوزیشن کی سٹیئرنگ کمیٹی کا فیصلہ تھا کہ کانفرنس ادھر کی جائے۔ چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ انقلاب کی بات نہیں، عوام کی آواز اٹھانی چاہیے اور وہ اٹھ چکی ہے، حکومت میں بیٹھے لوگوں کی عوام میں کوئی مقبولیت نہیں ہے۔