اسلام آباد (محمد ابراہیم عباسی) اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ڈسٹرکٹ کورٹس (ایسٹ ڈویژن) اسلام آباد میں 2012 میں ہونے والی غیر قانونی بھرتیوں کی تحقیقات مکمل ہونے پر باضابطہ آفس آرڈر جاری کر دیا۔ یہ انکوائری جسٹس طارق محمود جہانگیری کی سربراہی میں کی گئی تھی، جس میں بھرتیوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کا جائزہ لیا گیا۔

انکوائری رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج واجد علی اور عبدالغفور کاکڑ کا کردار اجتماعی تھا، کیونکہ کمیٹی کے تمام اراکین کو برابر کا اختیار حاصل تھا۔ اس بنا پر کسی ایک فرد کو بھرتیوں میں بے ضابطگیوں کا ذمہ دار ٹھہرانا مناسب نہیں سمجھا گیا۔ لہٰذا، ان دونوں جج صاحبان کو الزامات سے بری کر دیا گیا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ سابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سید کوثر عباس زیدی اور عطیق الرحمٰن پہلے ہی ریٹائر ہو چکے ہیں، جبکہ سابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد عامر عزیز خان اور سابق ڈپٹی رجسٹرار اسلام آباد ہائی کورٹ امتیاز احمد بھی ریٹائر ہو چکے ہیں۔ اس وجہ سے ان کے خلاف مزید کارروائی بند کر دی گئی ہے۔

یہ انکوائری ان بھرتیوں کے حوالے سے کی گئی تھی جو 2012 میں مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے کی گئی تھیں۔ معزز چیف جسٹس نے انکوائری رپورٹ کی سفارشات کو منظور کرتے ہوئے کیس کو بند کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

.

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: اسلام آباد

پڑھیں:

نظام میں بہت خلا، ہر قانون موجود عملدرآمد کی ضرورت: جسٹس محسن کیانی

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ+وقائع نگار) اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہر قانون موجود ہے مگر اس پر عمل درآمد کی ضرورت ہے اور طلبہ کو ہدایت کی کہ کرپشن اور ڈرگز سے انکار کرنا ہے۔ اسلام آباد میں دی ملینیم یونیورسل کالج میں ملینیم نیشنل موٹ کورٹ مقابلے کا انعقاد کیا گیا، جس میں شعبہ قانون کے طلبہ نے بطور وکیل اپنا کیس پیش کیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد ایاز شوکت اور دیگر نے بطور جج فرائض سر انجام دیے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے بطور مہمان خصوصی طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے قانونی نظام میں بہت خلا ہے اور زور دیا کہ وکلا کو عدالتوں میں مکمل تیاری کے ساتھ حاضر ہونا چاہیے ورنہ نتائج بھی ویسے ہی برآمد ہوں گے جو اس وقت دیکھنے میں آئیں گے۔ انہوں نے یونیورسٹیز پر زور دیا کہ وہ طلبہ کو سول پروسیجر کورٹ کے بارے میں تعلیم دیں کیونکہ پاکستان میں ہر قانون موجود ہے جو دنیا میں نہیں ہے لیکن قانون پر عمل درآمد کی ضرورت ہے۔ طلبہ پر زور دیا کہ وہ سچ بولیں اور ایمان داری سے کام کریں۔ دریں اثنا اسلام آباد سے وقائع نگار کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی کی رخصت کے باعث ان کی عدالت میں کازلسٹ منسوخ کر دی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد کے 3 سابق ججز اور سابق ڈپٹی رجسٹرار کیخلاف تحقیقات ختم کردی گئیں
  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا سی ڈی اے سمیت متعلقہ اداروں کو ریڑھی بانوں کا مسئلہ حل کرنیکا حکم
  • نظام میں بہت خلا، ہر قانون موجود عملدرآمد کی ضرورت: جسٹس محسن کیانی
  • ملک میں ہر قانون موجود ہے اس پر عملدرآمد کی ضرورت ہے، جسٹس محسن اختر کیانی
  • فرانس کے بعد برطانیہ کیلئے پی آئی اے کی دوبارہ پروازیں شروع کرنیکی تیاریاں مکمل
  • امریکہ سے غیر قانونی تارکین وطن کی بے دخلی:106پاکستانیوں کا لے کر پہلا طیارہ آج اسلام آباد پہنچے گا
  • اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی آج رخصت پر چلے گئے
  • ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج طاہر محمود کی خدمات اسلام آباد سے پشاور ہائی کورٹ کو واپس
  • ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج طاہر محمود خان کی خدمات پشاور ہائی کورٹ کو واپس