اسلام آباد:

وفاقی حکومت نے جسٹس (ر) سجاد علی شاہ کو کمپٹیشن ایپلٹ ٹریبونل کانیا چیئرمین مقرر کردیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق حکومت نے اس کے علاوہ ڈاکٹر فیض الہی میمن اور عاصم اکرم کو ایپلٹ ٹریبونل کا ممبر تعینات کر کے نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا ہے۔

سی سی پی حکام کے مطابق جون 2024 میں جسٹس (ریٹائرڈ) مظہر عالم میاں خیل کی ایڈہاک جج کی تقرری کے بعد ٹریبونل غیر فعال ہوگیا تھا۔

گزشتہ ایپلٹ ٹریبونل نے کمپیٹیشن کمیشن کے خلاف دائر 26 اپیلوں پر فیصلے جاری کیے۔

کمپیٹیشن ایپلٹ ٹریبونل کمپیٹیشن ایکٹ 2010 کے تحت قائم کیا گیا، گزشتہ 10 برسوں میں سے ساڑھے 7 سال ٹریبونل غیر فعال رہاکمپیٹیشن ایپلٹ ٹریبونل میں 212 کیسززیر التوا ہیں۔

.

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

کمپٹیشن کمیشن کا انعامی سکیم کے ذریعے کارٹل اور گٹھ جوڑ کے خلاف عوامی تعاون حاصل کرنے فیصلہ

پاکستان میں اشیاء ضرورت اور خدمات کی قیمتوں میں مصنوعی بڑھوتری، معیاری اشیاء کی کمی ، کافی حد تک مارکیٹوں میں کاروباری گٹھ جوڑ یعنی کارٹلائزیشن کا نتیجہ ہیں۔ کارٹل، مارکیٹ میں موجود سپلائرز کے مابین باہمی ہم آہنگی یا ایسے معاہدے کے نتیجے میں بنتے ہیں، جس میں سپلائرز ناجائز منافع کے لئے اشیا و خدمات کی قیمتیں باہمی ہم آہنگی سے طے کرتے ہیں اور اس سلسلے میں مارکیٹ میں سپلائی کو بھی کنٹرول کرتے ہیں، جو کہ ایک غیر قانونی عمل ہے۔

صافین کو اشیاء و خدمات کی بہتر معیار اور متناسب قیمت پر فراہمی کے لئے ضروری ہے کہ، مارکیٹ میں سپلائی فراہم کرنے والے تمام فریق، صارفین کو راغب کرنے کے لئے ایک دوسرے سے بہتر سروسز اور پراڈکٹ ، بہتر قیمت پر فراہم کرنے کے لئے مقابلہ میں رہیں، نا کہ گٹھ جوڑ کر کے، قیمتیں فکس کر لیں۔ ناجائز منافع خوری یا اشیاء و خدمات کے معیار یا رسد پر کنٹرول کے لئے پر آپس میں خفیہ یا اعلانیہ معاہدہ یا سمجوتھہ کر لینا، کمٹیشن ایکٹ 2010 کے تحت ایک سمگین جرم ہے۔

کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان نے ایسے غیر قانونی کاروباری گٹھ جوڑ اور کارٹلز کے خلاف سخت اقدامات کرنے اور ایسے کسی عمل کی اطلاع دینے کے لئے عوام اور خاص طور پر متعلقہ اسٹیخ پولڈروں سے تعاون کی اپیل کی ہے۔

اگر کسی شخص کو معلوم ہو کہ کسی بزنس ایسوسی ائیشن یا کسی پراڈکٹ کے سپلائرز نے اپنی پراڈکٹ یا سروسز کی قیمتوں کو فکس کرنے یا سپلائی کو کنٹرول کرنے کے لئے آپس میں معاہدہ یا سمجھوتہ کیا ہوا ہے، تو ایسے عمل کی اطلاع اور معلومات فوری طور پر کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان کر فراہم کرے۔ ایسے غیر قانونی کارٹل، کو پکڑوانے اور ان کے خلاف کارروائی کے لئے معلومات اور کسی بھی قسم کے ثبوت فراہم کرنے پر ، اُسے 2 لاکھ سے 20 لاکھ روپے تک کا انعام دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ اطلاع و معلومات فراہم کرنے والے کا نام خفیہ رکھا جائے گا۔

کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان کا یہ اقدام عوامی شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے ہے تاکہ ایسے غیر قانونی کاروباری طریقوں کا قلم قلعہ کیا جا سکے۔ کمپٹیشن کمیشن کی یہ سکیم نہ صرف ایک قانونی راستہ فراہم کرتی ہے بلکہ عوام کو اس عمل کا حصہ بنانے کی ترغیب بھی دیتی ہے تاکہ وہ ملک کی معیشت اور اپنے معاشی حقوق کا تحفظ کر سکیں۔

کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان کا مقصد معیشت میں منصفانہ مقابلے کو فروغ دینا ہے تاکہ ہر پاکستانی کو معیاری اشیاء اور مناسب قیمتوں تک رسائی حاصل ہو۔ آئیے اپنے اندر موجود ان کالی بھیڑوں کی نشاندہی کریں اور صارفین کے حقوق کے تحفظ اور شفاف کاروباری ماحول کے لئے کمپٹیشن کمیشن کا ساتھ دیں۔

رابطہ کریں: آپ CCP سے فون، ای میل یا ویب سائٹ کے ذریعے رابطہ کر سکتے ہیں اور گٹھ جوڑ کی اطلاع دے سکتے ہیں۔ اگر آپ کی معلومات درست ثابت ہوئیں تو آپ نہ صرف انعام حاصل کریں گے بلکہ قومی ہیرو کے طور پر شناخت بھی کی جائیں گے۔

اشتہار

متعلقہ مضامین

  • آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ ؛ ’’دشمنا سن ‘‘ آئی ایس پی آر نے نغمہ جاری کردیا
  • پنجاب میں رات کو عدالتیں لگانے سے 979 ججز نے انکار کردیا
  • ٹیکسلا: غیرت کے نام پر بھائی نے بہن اور اس کے دوست کو قتل کردیا
  • موسیقاروں کا انوکھا احتجاج،خاموش البم جاری کردیا
  • راولپنڈی میں غیرت کے نام پر لڑکا اور لڑکی قتل
  • عدالت نے آفاق احمد کا ریلیز آرڈر جاری کردیا
  • بارش کے پیش نظر موٹروےپولیس نے شہریوں کو خبردار کردیا
  • خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران 10 خوارج کو ہلاک کردیا
  • کمپٹیشن کمیشن کا انعامی سکیم کے ذریعے کارٹل اور گٹھ جوڑ کے خلاف عوامی تعاون حاصل کرنے فیصلہ