میرے بیٹے کو قتل کیس سے توجہ ہٹانے کیلئے پھنسایا جا رہا ہے، ساجد حسن
اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT
معروف اداکار ساجد حسن کا کہنا ہے کہ میرے بیٹے کو قتل کیس سے توجہ ہٹانے کےلیے پھنسایا جارہا ہے، اس کے خلاف جھوٹا مقدمہ بنایا گیا۔
بیٹے ساحر حسن کے منشیات کیس میں ملوث ہونے سے متعلق بیان دیتے ہوئے ساجد حسن نے کہا کہ پولیس کے الزامات بے بنیاد اور من گھڑت ہیں، ساحر سے کوئی منشیات برآمد نہیں ہوئی، پولیس کا دعویٰ جھوٹا ہے۔
انٹیرو گیشن رپورٹ کے مطابق ملزم ساحر حسن منشیات کی بڑی مقدار میں فروخت پر رقم والد کے منیجر کے اکاؤنٹ میں منگواتا تھا،
انہوں نے کہا کہ بغیر وارنٹ گرفتاری پولیس نے غیر قانونی کارروائی کی، ساحر حسن کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا، پھر بھی ایف آئی آر درج کی گئی۔
اداکار نے کہا کہ پولیس نے غیر قانونی چھاپہ مارا ویڈیو ریکارڈنگ کا قانون بھی نظر انداز کیا۔
ساجد حسن نے مزید کہا کہ عدلیہ پر مکمل بھروسہ ہے، عدالت انصاف کرے گی، ساحر حسن کو قربانی کا بکرا نہیں بنایا جائے، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہوں۔
.ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
مجھ پر صرف الزامات ہیں، ساحر حسن کو جیل بھیج دیا گیا
واضح رہے کہ پولیس کی جانب سے 22 فروری 2025ء کو کراچی کے علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی سے معروف ادکار کے بیٹے اور نوجوان اداکار کو گرفتار کیا گیا تھا، جب کہ اس کے قبضے سے منشیات برآمد کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ کراچی کی سینٹرل جیل کے جوڈیشل کمپلیکس میں واقع جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے معروف اداکار کے بیٹے اداکار ساحر حسن کو منشیات برآمدگی کیس میں جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر جیل بھیج دیا۔ تفصیلات کے مطابق مصطفیٰ عامر قتل کیس کی تفتیش کے دوران منشیات ریکٹ کے بارے میں انکشاف ہونے کے بعد گرفتار ملزم ساحر حسن کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے ملزم ساحر حسن سے منشیات برآمدگی کے مقدمے میں اسپیشلائزڈ انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) کی جانب سے جسمانی ریمانڈ میں مزید توسیع کی استدعا مسترد کر دی اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر تفتیشی افسر کو مقدے کا چالان پیش کرنے کی بھی ہدایت کر دی۔ پیشی کے موقع پر ملزم ساحر حسن نے کہا کہ معاملہ عدالت میں ہے، کچھ نہیں کہوں گا، جو بھی ہے وہ عدالت میں ثابت ہوجائے گا، ابھی تک میرے خلاف صرف الزامات ہیں، کچھ بھی ثابت نہیں ہوا ہے۔
واضح رہے کہ پولیس کی جانب سے 22 فروری 2025ء کو کراچی کے علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی سے معروف ادکار کے بیٹے اور نوجوان اداکار کو گرفتار کیا گیا تھا، جب کہ اس کے قبضے سے منشیات برآمد کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) سی آئی اے مقدس حیدر نے بتایا تھا کہ نوجوان مصطفیٰ عامر کے حالیہ قتل کے بعد ڈی ایچ اے میں کریک ڈاؤن جاری ہے، جب کہ ایک نوجوان اداکار کو گرفتار کیا ہے اور اس کی تحویل سے منشیات برآمد ہوئی ہے۔ ڈی آئی جی مقدس حیدر نے وضاحت کی تھی کہ ساحر حسن کو مصطفیٰ عامر قتل کیس کے سلسلے میں گرفتار نہیں کیا گیا، بلکہ اس کیس کے بعد منشیات کے خلاف مہم کے دوران حراست میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایسے عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا جو پوش علاقوں میں پارٹیوں اور تعلیمی اداروں کے طلبہ کو منشیات فراہم کرنے میں ملوث ہیں۔